Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ اصلی ہدف، شرک سے پاک عبادت

										
																									
								

Ayat No : 55

: النور

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ۵۵

Translation

اللرُ نے تم میں سے صاحبان هایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا کہ وہ سب صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے اور اس کے بعد بھی کوئی کافر ہوجائے تو درحقیقت وہی لوگ فاسق اور بدکردار ہیں.

Tafseer

									”یَعْبُدُونَنِی لَایُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا“ یہ جملہ ادبی لحاظ سے حال ہو یا غایت (1) اس کا مفہوم یہ ہے حکومتِ عدل کے قیام، دینِ حق کے استحکام اور امن وامان کے حصول کا اصلی مقصد عبادت اور توحید پرستی کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے، قرآن کی ایک اور آیت میں مقصدِ تخلیق بھی بیان ہوا ہے:
<وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ
”میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔(زاریات/۵۶)
وہ عبادت جو انسانوں کی تربیت کرتی ہے اور ان کی پرورش روح کے لئے بہت اعلیٰ مکتب ہے وہ عبادت جس سے الله بے نیاز ہے اور بندے کمال اور ارتقاء کے لئے جس کے بہت محتاج ہیں ۔
یہ اسلامی نظریہ ہے جبکہ مادی نظریے اس کے برخلاف ہیں، ان کا ہدف خوشحالی کے لحاظ سے بلند سطح کی مادی زندگی ہے جبکہ اسلام کبھی ایسی چیز کو اپنا ہدف قرار نہیں دے سکتا اس کی نظر میں تو مادی زندگی کی تبھی کوئی اہمیت ہے جب وہ ایسے روحانی ہدف کے حصول کا ذریعہ ہو ۔ 
البتہ اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ شرک سے پاک عبادت، غیر الٰہی قانون کی نفی اور ذاتیات وخواہشات کی حکمرانی کا خاتمہ ایک حکومتِ عدل کے قیام کے بغیر ممکن نہیں ہے، یہ تو ہوسکتا ہے کہ حکومت کے بغیر مسلسل تعلیم، تربیت اور تبلیغ کے ذریعے کچھ لوگوں کو حق کی طرف متوجہ کیا جائے لیکن معاشرے میں اسے رواج دینا ایمان صالحین کی حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہے، اسی لئے انبیاء سب سے زیادہ کوش ومحنت اسی قسم کے قیام کے لئے کرتے تھے، خصوصاً پیغمبر اسلام کو جونہی موقع ملا ہجرت مدینہ کے موقع پر نمونے کے طور پر ایسی حکومت قائم کردی۔
یہاں سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس قسم کی حکومت صلح کرے یا جنگ، نیز تعلیم، ثقافت، اقتصاد اور فوج غرض اس کے تمام شعبوں کے پروگرام اور سرگرمیاں الله کی عبادت کے راستے میں ہوتی ہیں، ایسی عبادت کہ جو ہر قسم کے شرک سے خالی ہو ۔اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ صالحین کی حکومکت کے قیام، دین حق کے استحکام اور شرک سے پاک عبادت کی ترویج کا یہ معنی نہیں کہ اس قسم کے معاشرے میں کوئی گنہگار اور منحرف نہیں ہوگا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نظامِ حکومت صالح مومنین کے ہاتھ میں ہے اور معاشرہوں میں بھی منحرف افراد کا وجود ممکن ہے (غور کیجئے گا) ۔
۔ پہلی صورت میں گزشتہ آیات میں آنے والی ضمیر ”ہم“ سے ہم آہنگ ہوکر حالیہ ہوجاتا ہے، دوسری صورت میں لام مقدر ہے اور اصل میں ”لیعبدوننی“ ہے، بعض نے اس احتمال کا بھی ذکر کیا ہے، یہ جملہ استینافیہ ہے لیکن یہ بہت کمزور احتمال ہے ۔