شان نزول
لَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ ۚ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۴۶وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ۴۷وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ ۴۸وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ ۴۹أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ ۚ بَلْ أُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۵۰
یقینا ہم نے واضح کرنے والی آیتیں نازل کی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے صراظُ مستقیم کی ہدایت دیدیتا ہے. اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی اطاعت کی ہے اور اس کے بعد ان میں سے ایک فریق منہ پھیرلیتا ہے اور یہ واقعا صاحبانِ ایمان نہیں ہیں. اور جب انہیں خدا و رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک فریق کنارہ کش ہوجاتا ہے. حالانکہ اگر حق ان کے ساتھ ہوتا تو یہ سر جھکائے ہوئے چلے آتے. تو کیا ان کے دلوں میں کفر کی بیماری ہے یا یہ شک میں مبتلا ہوگئے ہیں یا انہیں یہ خوف ہے کہ خدا اور رسول ان پر ظلم کریں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالمین ہیں.
مفسرین نے ان آیات کے کچھ حصّے کے لئے دو شان نزول ذکر کی ہیں جنھیں ہم درج ذیل کرتے ہیں:
۱۔ کسی منافق کا ایک یہودی کے ساتھ جھگڑا ہوگیا، یہودی نے مسلمان منافق سے کہا: چلو پیغمبر اسلام کے پاس چلتے ہیں اور ان سے فیصلہ کروالیتے ہیں، لیکن منافق نے یہ بات نہ مانی، اس نے کہا: کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں، کعب یہودی تھا (بعض روایات میں تو یہاں تک ہے کہ اس نے کہا: ہوسکتا ہے محمد ہمارے ساتھ انصاف نہ کرے) ۔
اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ایسے شخص کی سخت کی مذمت کی گئی۔
۲۔ امیرالمومنین حضرذت علی علیہ السلام اور حضرت عثمان کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہوگیا کہ ان میں سے کسی نے حضرت علیعلیہ السلام سے کچھ زمین خریدی تھی، اس زمین میں کچھ پتھر نکل آئے ، خریدار نے چاہا کہ اس زمین کو معیوب قرار دے کر سودا منسوخ کردیا جائے، اس پر اختلاف پیدا ہوگیا، حضرت علیعلیہ السلام نے فرمایا: چلو رسول الله کے پاس چلتے ہیں اور ان سے فیصلہ لیتے ہیں، لیکن حکم بن العاص کہ جو منافقین میں سے تھا، اس نے خریدار سے کہا ایسا نہ کرنا کیونکہ اگر تو اس کے چچازاد بھائی (یعنی رسول الله) کے پاس فیصلہ کے لئے گیا تو یقیناً وہ ا س کے حق میں دیں گے ۔
اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور اس کی سخت مذمت کی گئی(1)۔
1۔ تفسیر مجمع البیان ،رُوح المعانی ، تبیان، تفسیر قرطبی ، تفسیر فخررازی ،تفسیرصافی اورنو رالثقلین ، زیربحث آ یت کے ذیل مین تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ۔