سوره نور / آیه 46 - 50
لَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ ۚ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۴۶وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ۴۷وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ ۴۸وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ ۴۹أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ ۚ بَلْ أُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۵۰
یقینا ہم نے واضح کرنے والی آیتیں نازل کی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے صراظُ مستقیم کی ہدایت دیدیتا ہے. اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی اطاعت کی ہے اور اس کے بعد ان میں سے ایک فریق منہ پھیرلیتا ہے اور یہ واقعا صاحبانِ ایمان نہیں ہیں. اور جب انہیں خدا و رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک فریق کنارہ کش ہوجاتا ہے. حالانکہ اگر حق ان کے ساتھ ہوتا تو یہ سر جھکائے ہوئے چلے آتے. تو کیا ان کے دلوں میں کفر کی بیماری ہے یا یہ شک میں مبتلا ہوگئے ہیں یا انہیں یہ خوف ہے کہ خدا اور رسول ان پر ظلم کریں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالمین ہیں.
۴۶ لَقَدْ اٴَنزَلْنَا آیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ وَاللهُ یَھْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ
۴۷ وَیَقُولُونَ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالرَّسُولِ وَاٴَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْھُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَا اٴُوْلٰئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ
۴۸ وَإِذَا دُعُوا إِلَی اللهِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ إِذَا فَرِیقٌ مِنْھُمْ مُعْرِضُونَ
۴۹ وَإِنْ یَکُنْ لَھُمَ الْحَقُّ یَاٴْتُوا إِلَیْہِ مُذْعِنِینَ
۵۰ اٴَفِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ اٴَمْ ارْتَابُوا اٴَمْ یَخَافُونَ اٴَنْ یَحِیفَ اللهُ عَلَیْھِمْ وَرَسُولُہُ بَلْ اٴُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ
ترجمہ
۴۶۔ ہم نے حقیقت واضح کرنے والی آیات نازل کیں اور الله جسے چاہتا صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔
۴۷۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم الله اور رسول پر ایمان لائے ہیں اور اطاعت گزار ہیں، لیکن اس دعوے کے باوجود ان میں سے ایک
گروہ روگردانی کرتا ہے (درحقیقت) وہ مومن ہی نہیں ہیں ۔
۴۸۔ اور جب انھیں پکارا جاتا ہے کہ الله اور اس کے رسول کی طرف آئیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک گروہ منھ پھیر لیتا ہے ۔
۴۹۔ لیکن اگر (فیصلہ ان کے فائدے میں ہو اور) حق انھیں مل جائے تو بڑی عاجزی سے رسول کے پاس آجاتے ہیں ۔
۵۰۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا وہ شک میں مبتلا ہیں یا انھیں خوف ہے کہ الله اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ بات در اصل یہ ہے کہ وہ خود ظالم ہیں ۔