Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ ایک سوال کا جواب

										
																									
								

Ayat No : 43-45

: النور

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ ۴۳يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ ۴۴وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۴۵

Translation

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی ابر کو چلاتا ہے اور پھر انہیں آپس میں جوڑ کر تہ بہ تہ بنا دیتاہے پھر تم دیکھو گے کہ اس کے درمیان سے بارش نکل رہی ہے اور وہ اسے آسمان سے برف کے پہاڑوں کے درمیان سے برساتا ہے پھر جس تک چاہتا ہے پہنچادیتا ہے اور جس کی طرف سے چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اس کی بجلی کی چمک اتنی تیز ہے کہ قریب ہے کہ آنکھوں کی بینائی ختم کردے. اللرُ ہی رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے اور یقینا اس میں صاحبانِ بصارت کے لئے سامانِ عبرت ہے. اور اللہ ہی نے ہر زمین پر چلنے والے کو پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں سے بعض پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض دو پیروں میں چلتے ہیں اور بعض چاروں ہاتھ پیر سے چلتے ہیں اور اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے کہ وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے.

Tafseer

									یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جانوروں کی ان تین قسموں ہی میں کیوں تقسیم کیا گیا ہے:
۱۔ پیٹ کے بل رینگنے والے ۔
۲۔ دو پاوٴں والے
۳۔ چوپائے
جبکہ چلنے پھرنے والے جانور بہت سے ایسے ہیں کہ جو چار سے زیادہ ٹاگیں رکھتے ہیں ۔
اس سوال کا جواب خود آیت میں پوشیدہ ہے کیونکہ اس جملے کے بعد الله تعالیٰ فرماتا ہے:
<یَخْلُقُ اللهُ مَا یَشَاءُ
”خدا جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے“(1).
علاوہ ازیں وہ اہم ترین جانور کہ جن سے زیادہ تر انسان کا واسطہ ہے وہ انہی تین گروہوں پر مشتمل ہیں ۔
بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ جن جانوروں کی ٹانگیں چار سے زیادہ ہیں ان کا بھی اصل دارومدار چار ٹانگوں پر ہی ہے اور باقی ٹانگیں معاون شمار ہوتی ہیں ۔
1۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر فخر رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔