۲۔ ایک سوال کا جواب
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ ۴۳يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ ۴۴وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۴۵
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی ابر کو چلاتا ہے اور پھر انہیں آپس میں جوڑ کر تہ بہ تہ بنا دیتاہے پھر تم دیکھو گے کہ اس کے درمیان سے بارش نکل رہی ہے اور وہ اسے آسمان سے برف کے پہاڑوں کے درمیان سے برساتا ہے پھر جس تک چاہتا ہے پہنچادیتا ہے اور جس کی طرف سے چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اس کی بجلی کی چمک اتنی تیز ہے کہ قریب ہے کہ آنکھوں کی بینائی ختم کردے. اللرُ ہی رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے اور یقینا اس میں صاحبانِ بصارت کے لئے سامانِ عبرت ہے. اور اللہ ہی نے ہر زمین پر چلنے والے کو پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں سے بعض پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض دو پیروں میں چلتے ہیں اور بعض چاروں ہاتھ پیر سے چلتے ہیں اور اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے کہ وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے.
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جانوروں کی ان تین قسموں ہی میں کیوں تقسیم کیا گیا ہے:
۱۔ پیٹ کے بل رینگنے والے ۔
۲۔ دو پاوٴں والے
۳۔ چوپائے
جبکہ چلنے پھرنے والے جانور بہت سے ایسے ہیں کہ جو چار سے زیادہ ٹاگیں رکھتے ہیں ۔
اس سوال کا جواب خود آیت میں پوشیدہ ہے کیونکہ اس جملے کے بعد الله تعالیٰ فرماتا ہے:
<یَخْلُقُ اللهُ مَا یَشَاءُ
”خدا جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے“(1).
علاوہ ازیں وہ اہم ترین جانور کہ جن سے زیادہ تر انسان کا واسطہ ہے وہ انہی تین گروہوں پر مشتمل ہیں ۔
بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ جن جانوروں کی ٹانگیں چار سے زیادہ ہیں ان کا بھی اصل دارومدار چار ٹانگوں پر ہی ہے اور باقی ٹانگیں معاون شمار ہوتی ہیں ۔
1۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر فخر رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔