1. آیت میں ”ماء“سے کیا مراد ہے؟
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ ۴۳يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ ۴۴وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۴۵
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی ابر کو چلاتا ہے اور پھر انہیں آپس میں جوڑ کر تہ بہ تہ بنا دیتاہے پھر تم دیکھو گے کہ اس کے درمیان سے بارش نکل رہی ہے اور وہ اسے آسمان سے برف کے پہاڑوں کے درمیان سے برساتا ہے پھر جس تک چاہتا ہے پہنچادیتا ہے اور جس کی طرف سے چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اس کی بجلی کی چمک اتنی تیز ہے کہ قریب ہے کہ آنکھوں کی بینائی ختم کردے. اللرُ ہی رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے اور یقینا اس میں صاحبانِ بصارت کے لئے سامانِ عبرت ہے. اور اللہ ہی نے ہر زمین پر چلنے والے کو پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں سے بعض پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض دو پیروں میں چلتے ہیں اور بعض چاروں ہاتھ پیر سے چلتے ہیں اور اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے کہ وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے.
لفظ ”ماء“ (پانی) سے یہاں کونسے پانی کی طرف اشارہ ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے آراء مختلف ہیں، ان آراء کو تین تفسیروں میں جمع کیا جاسکتا ہے:
۱۔ اس سے مراد نطفے کا پانی ہے، بہت سے مفسرین نے اس تفسیر کو انتخاب کیا ہے، بعض روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
اس تفسیر میں یہ مشکل درپیش ہے کہ تمام چلنے والے جاندار نطفے سے پیدا نہیں ہوتے، ایسے بھی جاندار میں کہ جو ایک خلیے سے پیدا ہوتے ہیں، ایسے بھی رینگنے والے جاندار ہیں کہ جو ”دابة“ کا مصداق ہیں اور خلیوں کی تقسیم سے وجود میں آتے ہیں، نہ کہ نطفے سے ۔
ہاں البتہ یہ کہا جائے کہ آیت نوعی پہلو رکھتی ہے، کلی نہیں، پھر بات ٹھیک ہوسکتی ہے ۔
۲۔ اس سے مراد پہلے موجود کی پیدائش ہے، کیونکہ بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے الله نے پانی کو پیدا کیا اور اس کے بعد انسانوں کو پانی سے پیدا کیا، جدید سائنسی مفروضے کی بناء پر زندگی کی پہلی کونپل دریاوٴں میں ظاہر اور پانیوں میں پیدا ہونے والا یہ پہلا موجود سب سے پہلے انہی پانیوں کی گرائیوں پر یا ان کے کناروں پر حکمران ہوا۔
البتہ وہ وقت کہ جس نے ان تمام پیچیدگیوں کے ساتھ پہلے مرحلے میں موجود زندہ کو وجود بخشا اور پھر بعد کے مراحل میں ہدایت کی وہ ایک مافوق طبیعات قوت تھی، یعنی ارادہٴ الٰہی۔
۳۔ ا س سے مراد یہ ہے کہ موجودہ حالت موجودات کی بقاء کا دارومدار پانی پر ہی ہے اور ان کی ساخت کا اہم حصّہ پانی پر مشتمل ہے اور کوئی جاندار پانے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی تو نہیں لیکن پہلی اور دوسری تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے(1)۔
1۔ تکامل انواع کے بعض طرفداروں نے اپنے مفروضے کے لئے اس آیت کا سہارا لیا ہے، لیکن ہم نے جلد نمبر۱۱۔ میں سورہٴ فجر کی آیت ۲۶ کے ذیل میں اس مفروضے کے ثابت نہ ہونے کے بارے میں بات کی ہے، یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اصولاً آیات قرآن کو مفروضوں پر منطبق نہیں کرنا چاہیے کیونکہ آیاتِ قرآنی حقیقت ثابت رکھتی ہیں جبکہ مفروضے بدلتے رہتے ہیں ۔