Tafseer e Namoona

Topic

											

									  کچھ اور عجائبات کی خلقت

										
																									
								

Ayat No : 43-45

: النور

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ ۴۳يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ ۴۴وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۴۵

Translation

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی ابر کو چلاتا ہے اور پھر انہیں آپس میں جوڑ کر تہ بہ تہ بنا دیتاہے پھر تم دیکھو گے کہ اس کے درمیان سے بارش نکل رہی ہے اور وہ اسے آسمان سے برف کے پہاڑوں کے درمیان سے برساتا ہے پھر جس تک چاہتا ہے پہنچادیتا ہے اور جس کی طرف سے چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اس کی بجلی کی چمک اتنی تیز ہے کہ قریب ہے کہ آنکھوں کی بینائی ختم کردے. اللرُ ہی رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے اور یقینا اس میں صاحبانِ بصارت کے لئے سامانِ عبرت ہے. اور اللہ ہی نے ہر زمین پر چلنے والے کو پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں سے بعض پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض دو پیروں میں چلتے ہیں اور بعض چاروں ہاتھ پیر سے چلتے ہیں اور اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے کہ وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے.

Tafseer

									ان آیات میں بھی عجائبات خلقت اور ان میں پوشیدہ علم وحکمت وعظمت کا ایک گوشہ بیان کیا گیا ہے اور ان میں بھی سب اس کی ذات پاک کی توحید کے دلائل ہیں ۔
ایک دفعہ پھر روئے سخن پیغمبر اکرم صلی ا لله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف ہے، ارشاد ہوتا ہے: کیا تونے نہیں دیکھا کہ الله بادلوں کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر انھیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے اور انھیں تہ در تہ کردیتا ہے (اٴَلَمْ تَریٰ اٴَنَّ اللهَ یُزْجِی سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہُ ثُمَّ یَجْعَلُہُ رُکَامًا) ۔
”پھر تو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں میں سے بارش کے قطرے ٹپکنے لگتے ہیں اور کوہ ودشت اور باغ وصحرا پر برستے ہیں ( فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِہِ) ۔
”یزجیٰ“ ”ازجاء“ کے مادہ سے ہے، آہستہ آہستہ اور نرمی کے ساتھ منتشر چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر چلانے کے معنیٰ میں ہے، بادلوں کے بارے میں یہ لفظ پوری طرح سے صادق آتا ہے، کیونکہ ان کے مختلف ٹکڑے سمندروں کے مختلف گوشوں سے اٹھتے ہیں، پھر الله کا دستِ قدرت انھیں ایک دوسرے کی طرف چلاتا ہے اور انھیں ایک دوسرے سے جوڑدیتا ہے اور تہ دار بنادیتا ہے ۔
”رکام“ (بروزن ”غلام“) ایسی چیزوں کے معنی میں ہے جو ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی اور تہ در تہ ہوں ۔
”ودق“ ، ”شرق“ کے وزن پر ہے، بہت سے مفسرین کے مطابق یہ بارش کے قطروں کے معنیٰ میں ہے کہ جو بادلوں سے برستے ہیں، مفردات راغب کے بقول اس کا ایک اور معنیٰ بھی ہے ۔ اور وہ ہے ”پانی کے بہت ہی چھوٹے ذرّات کہ جو غبار کی صورت میں بارش کے برستے وقت فضا میں بکھر جاتے ہیں“۔ یہاں پہلا معنیٰ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ جو چیز عظمت پروردگار کی زیادہ اہم نشانی ہے، وہ بارش ہی کے حیات بخش قطرات ہیں نہ کہ وہ قطرات کہ جو غبار کی مانند ہیں، علاوہ ازیں قرآن نے جہاں کہیں بھی بادلوں اور آسمانوں سے نزول کے برکات کا ذکر کیا ہے، وہاں بارش کی طرف ہی اشارہ ہے، جی ہاں! بارش ہی ہے جو مردہ زمینوں کو زندہ کرتی ہے، نباتات کو لباس پہناتی ہے اور انسانوں اور حیوانوں کو سراب کرتی ہے ۔
اس کے بعد آسمان اور بادلوں سے پیدا ہونے والی ایک اور عجیب وغریب چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ۔
اور آسمانوں سے موجود پہاڑوں سے اوپر برساتا ہے (وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِیھَا مِنْ بَرَدٍ) ۔ اور جسے چاہے ان کے ذریعے نقصان پہنچاتا ہے ، درخت ، پھل، کھیت اور بعض اوقات انسان وحیوان بھی ان سے تباہ ہوجاتے ہیں (فَیُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ) ۔ اور جسے چاہتا ہے اس کے نقصان سے بچا لیتا ہے ( وَیَصْرِفُہُ عَنْ مَنْ یَشَاءُ) ۔
جی ہاں! وہی تو کبھی بادل سے حیات بخش بارش برساتا ہے اور کبھی اسے نقصان رساں ژالہ باری میں بدل دیتا ہے اور ژالہ باری جو کبھی ہلاکت آمیز بھی ہوتی ہے، بلکہ ان چیزوں کو گویا ایک دوسرے کے دل میں رکھ دیا ہے ۔
آیت کے آخر میں آسمان پر ابھرنے والی توحید کی ایک اور نشانی کا ذکر کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: قریب ہے کہ بادلوں سے کوندنے والی بجلی انسان کی آنکھیں اچک لے (یَکَادُ سَنَا بَرْقِہِ یَذْھَبُ بِالْاٴَبْصَارِ) ۔
وہ بادل کہ جو درحقیقت پانی کے ذرّات سے ہی پیدا ہوتے ہیں، جب وہ برقی توانائی کے حامل ہوجاتے ہیں، تو اس کے اندر سے آگ اس طرح لپکتی ہے کہ آنکھیں خیرہ کردیتی ہے اور اس کی گرج کانوں کو گویا پھاڑ دیتی ہے اور کبھی زمین بھی ہل کر رہ جاتی ہے، پانی کے لطیف بخارات کے اجتماع میں ایسی چیز کا پیدا ہونا سچ مچ تعجب انگیز ہے ۔