Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ ”نُورٌ عَلیٰ نُورٍ“ کی تفسیر:

										
																									
								

Ayat No : 35-38

: النور

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۳۵فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۳۶رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ ۳۷لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۳۸

Translation

اللرُ آسمانوں اور زمین کا نور ہے .اس کے نور کی مثال اس طاق کی ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور قندیل ایک جگمگاتے ستارے کے مانند ہو جو زیتون کے بابرکت درخت سے روشن کیا جائے جو نہ مشرق والا ہو نہ مغرب والا اور قریب ہے کہ اس کا روغن بھڑک اٹھے چاہے اسے آگ مس بھی نہ کرے یہ نور بالائے نور ہے اور اللہ اپنے نور کے لئے جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر شے کا جاننے والا ہے. یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے کہ ان گھروں میں صبح و شام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں. وہ مرد جنہیں کاروبار یا دیگر خرید و فروخت ذکر خدا, قیام نماز اور ادائے زکٰوِ سے غافل نہیں کرسکتی یہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن کے ہول سے دل اور نگاہیں سب الٹ جائیں گی. تاکہ خدا انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دے سکے اور اپنے فضل سے مزید اضافہ کرسکے اور خدا جسے چاہتا ہے رزق بے حساب عطا کرتا ہے.

Tafseer

									بزرگ مفسرین نے اس جملے کی تفسیر میں مختلف باتیں کی ہیں:
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں: یہ ایسے انبیاء کی طرف اشارہ ہے کہ جو یکے بعد دیگرے ایک ہی نسل سے پیدا ہوتے ہیں اور راہِ ہدایت کو دوام بخشتے ہیں ۔
فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ نور کی شعاعوں، روشنی کی تہوں اور شعاعوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ مومن چار حالتوں میں ہوتا ہے اسے نعمت ملے تو شکرِ خدا بجالاتا ہے مصیبت پڑے آن پڑے تو صابر وبااستقامت ہوتا ہے، بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے تو عدالت کی جستجو کرتا ہے وہ جاہل لوگوں میں ایسے ہوتا ہے جیسے مردوں میں ایک زندہ، وہ پانچ انوار کے درمیان چلتا پھرتا ہے، اس کی گفتگو نور ہے، اس کا عمل نور ہے، اس کے آنے کا مقام نور ہے، اس کے جانے کی جگہ نور ہے اور اس کا ہدف روزِ قیامت نور خدا ہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ قرآن میں پہلے نور سے مراد وحی الٰہی کے ذریعے ہدایتِ الٰہی کا نور ہے اور دوسرے نور سے مراد عقل کے ذریعے ہدایت الٰہی کا نور تو اور دوسرے نور سے مراد عقل کے ذریعے ہدایتِ الٰہی کا نور ہو، یا پہلا نور ہدایتِ تشریعی کا نور ہو اور دوسرا نور ہدایتِ تکوینی کا نور ہو ۔
اس بناء پر نور ہے نور کے اوپر نور۔
اسی طرح یہ جملہ کبھی تو نور کے مختلف سرچشموں (انبیاء) سے تفسیر ہوا ہے اور کبھی نور کی مختلف قسموں سے اور کبھی اس کے مختلف مراحل سے ۔
تاہم ممکن ہے یہ سب مفاہیم آیت میں جمع ہوں کہ جس کا مفہوم بہت وسیع ہے (غور کیجئے گا) ۔