Tafseer e Namoona

Topic

											

									  7۔ کونسے بچے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں؟

										
																									
								

Ayat No : 30-31

: النور

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۳۰وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۳۱

Translation

اور پیغمبر علیھ السّلام آپ مومنین سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں کہ یہی زیادہ پاکیزہ بات ہے اور بیشک اللہ ان کے کاروبار سے خوب باخبر ہے. اور مومنات سے کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی عفت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں علاوہ اس کے جو ازخود ظاہر ہے اور اپنے دوپٹہ کو اپنے گریبان پر رکھیں اور اپنی زینت کو اپنے باپ دادا.شوہر. شوہر کے باپ دادا .اپنی اولاد ,اور اپنے شوہر کی اولاد اپنے بھائی اور بھائیوں کی اولاد اور بہنوں کی اولاد اور اپنی عورتوں اور اپنے غلام اور کنیزوں اور ایسے تابع افراد جن میں عورت کی طرف سے کوئی خواہش نہیں رہ گئی ہے اور وہ بچےّ جو عورتوں کے پردہ کی بات سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ہیں ان سب کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ کریں اور خبردار اپنے پاؤں پٹک کر نہ چلیں کہ جس زینت کو چھپائے ہوئے ہیں اس کا اظہار ہوجائے اور صاحبانِ ایمان تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہوجائے.

Tafseer

									ہم پڑھ چکے ہیں کہ بارہواں گروہ جس سے پردہ کرنا واجب نہیں ہے وہ بچے ہیں کہ جنھیں ابھی تک جنسی امور کی تمیز نہیں ”لَمْ یَظْھَرُوا“ کا معنی کبھی ”لَمْ یَطْلَعُوا“ (آگاہی نہیں رکھتے) کیا گیا ہے اور کبھی ”لَمْ یَقْدَرُوا“ (طاقت نہیں رکھتے) کیا گیا ہے کیونکہ یہ مادہ ان دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے، قر آن میں بھی یہ مادہ دونوں مفاہیم کے لئے استعمال ہوا ہے، مثلاً سورہٴ کہف کی آیت ۲۰ میں ہے:
<إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ
”اگر اہل شہر کو تمھاری موجودگی کا پتہ چل گیا تو تمھیں سنگسار کردیں گے“۔
نیز سورہٴ توبہ کی آیت۸ میں ہے:
<کَیْفَ وَإِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً
”تم عہد وپیمان توڑنے والوں سے کیسے جنگ نہیں کرتے ہو حالانکہ اگر وہ تم پر قدرت حاصل کرلیں“۔
بہرحال زیرِ بحث آیت میں نتیجے کے لحاظ سے ان دونوں معانی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مراد ایسے بچے ہیں کہ جو جنسی احساس نہ ہونے کی بناء پر نہ توانائی رکھتے ہیں اور نہ آگاہی، لہٰذا ایسے بچے کہ جو اس عمر کو پہنچ گئے ہیں کہ ان میں یہ میلان اور توانائی پیدا ہوچکی ہے مسلمان عورتوں کو ان سے پردہ کرنا چاہیے ۔