Tafseer e Namoona

Topic

											

									  6۔ ”اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ“ کی تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 30-31

: النور

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۳۰وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۳۱

Translation

اور پیغمبر علیھ السّلام آپ مومنین سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں کہ یہی زیادہ پاکیزہ بات ہے اور بیشک اللہ ان کے کاروبار سے خوب باخبر ہے. اور مومنات سے کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی عفت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں علاوہ اس کے جو ازخود ظاہر ہے اور اپنے دوپٹہ کو اپنے گریبان پر رکھیں اور اپنی زینت کو اپنے باپ دادا.شوہر. شوہر کے باپ دادا .اپنی اولاد ,اور اپنے شوہر کی اولاد اپنے بھائی اور بھائیوں کی اولاد اور بہنوں کی اولاد اور اپنی عورتوں اور اپنے غلام اور کنیزوں اور ایسے تابع افراد جن میں عورت کی طرف سے کوئی خواہش نہیں رہ گئی ہے اور وہ بچےّ جو عورتوں کے پردہ کی بات سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ہیں ان سب کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ کریں اور خبردار اپنے پاؤں پٹک کر نہ چلیں کہ جس زینت کو چھپائے ہوئے ہیں اس کا اظہار ہوجائے اور صاحبانِ ایمان تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہوجائے.

Tafseer

									”اربہ“ بنیادی طور پر ”ارب“ (بروزن ”عَرَب“) مفردات میں بقولِ راغب شدّت احتیاج کے معنی میں ہے کہ جسے پورا کرنے کے لئے انسان کوشش کرتا ہے اور کبھی یہ لفظ مطلق حاجت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔
اور ”اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ“ سے یہاں ایسے مرد مراد ہیں کہ جو جنسی خواہش اور بیوی کی ضرورت رکھتے ہوں، لہٰذا ”غَیْرِ اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ“ سے ایسے مرد مراد ہیں کہ جو یہ میلان اور خواہش نہ رکھتے ہوں (1) ۔
مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ ان سے کون لوگ مراد ہیں، بعض اس سے وہ بوڑھے افراد مراد لیتے ہیں کہ جن کے جنسی جذبات ختم ہوچکے ہوں جیسے ”القواعد من النساء“ (ایسی عورتیں جو شادی کے قابل نہیں رہ گئی ہوتیں اور اس لحاظ سے بیٹھ چکی ہوتی ہیں) ۔
بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے خُسرے اور خواجہ مراد ہیں ۔

بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایسے افراد ہیں کہ جو الہٴ تناسل نہیں رکھتے ۔ لیکن جس معنی میں زیادہ افراد کا اتفاق ہے اور جو امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے چند معتبر احادیث میں نقل ہوا ہے یہ ہے کہ اس سے مراد ایسے بے سمجھ مرد ہیں کہ جو ہرگز احساسِ جنسی نہیں رکھتے اور عام طور پر ان سے آسان کام لیے جاتے ہیں، آیت میں ”التابعین“ کی تعبیر بھی اس معنی کو تقویت دیتی ہے (2) ۔
البتہ چونکہ یہ وصف یعنی جنسی میلان نہ ہونا بعض بوڑھے افراد پر بھی صادق آتا ہے لہٰذا بعید نہیں کہ آیت کے مفہوم میں ایسے بوڑھے افراد بھی شامل ہوں، ایک حدیث میں امام کاظم علیہ السلام نے بھی ایسے بوڑھوں کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے ۔
لیکن بہرحال آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے مرد محرموں کی طرح ہیں، یہ بات مسلّم ہے کہ ایسے افراد سے سر، ہاتھ، یا بازو کا کچھ حصّہ یا جسم کا کوئی ایسا حصّہ چھپانا واجب نہیں ہے ۔
1۔ وسائل الشیعہ، باب۱۲۴، از مقدمات نکاح، حدیث۸.
2 ۔ مزید وضاحت کے لئے جواہر الکلام، ج۲۹، ص۹۴ کے بعد اور اسی طرح وسائل الشیعہ، باب۱۱۱ از ابواب نکاح اور اسی طرح تہذیب، ج۷، ص۴۶۸ کی طرف رجوع کریں ۔