Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ بالاجازت لوگوں کے گھروں میں جھانکنے کی سزا

										
																									
								

Ayat No : 27-29

: النور

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۲۷فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ۲۸لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ۲۹

Translation

ایمان والو خبردار اپنے گھروں کے علاوہ کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا جب تک کہ صاحبِ خانہ سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کرلو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے کہ شاید تم اس سے نصیحت حاصل کرسکو. پھر اگر گھر میں کوئی نہ ملے تو اس وقت تک داخل نہ ہونا جب تک اجازت نہ مل جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جانا کہ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ امر ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم ایسے مکانات میں جو غیر آباد ہیں اور جن میں تمہارا کوئی سامان ہے داخل ہوجاؤ اور اللہ اس کو بھی جانتا ہے جس کا تم اظہار کرتے ہو اور اس کو بھی جانتا ہے جس کی تم پردہ پوشی کرتے ہو.

Tafseer

									فقہ وحدیث کی کتابوں میں یوں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر لوگوں کے گھروں میں تانک جھانک کرے اور عورتوں کے چہرے یا برہنہ بدن کی طرف دیکھے تو پہلی مرتبہ اس گھر والے سے اسے منع کرسکتے ہیں، اگر وہ نہ رکے تو پھر پتھر مار کر اسے دور کریں اور خون رائیگان ہے، البتہ اس کام میں مختلف مرحلوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے یعنی اگر آسان طریقے سے معاملہ حل ہوسکتا ہو تو سخت طریقہ اختیار نہ کیا جائے ۔