۲۔ غیر رہائشی گھروں سے کیا مراد ہے؟
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۲۷فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ۲۸لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ۲۹
ایمان والو خبردار اپنے گھروں کے علاوہ کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا جب تک کہ صاحبِ خانہ سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کرلو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے کہ شاید تم اس سے نصیحت حاصل کرسکو. پھر اگر گھر میں کوئی نہ ملے تو اس وقت تک داخل نہ ہونا جب تک اجازت نہ مل جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جانا کہ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ امر ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم ایسے مکانات میں جو غیر آباد ہیں اور جن میں تمہارا کوئی سامان ہے داخل ہوجاؤ اور اللہ اس کو بھی جانتا ہے جس کا تم اظہار کرتے ہو اور اس کو بھی جانتا ہے جس کی تم پردہ پوشی کرتے ہو.
اس سوال کے جواب میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس سے ایسی عمارتیں مراد ہیں کہ جو عمومی ہوں، مثلاً کارواں سرائے، مہمان خانے، حمام وغیرہ، یہ مضمون امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں بالصراحت آیا ہے ۔
بعض دوسروں نے کہا ہے کہ اس سے مراد خرابے اور کھنڈرات ہیں کہ جن میں کوئی نہ رہتا ہو اور جو چاہتا ہو اس میں داخل ہوجاتا ہو، یہ تفسیر بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ کوئی شخص بھی اپنا مال واسباب ایسی جگہ نہیں رکھ سکتا۔
بعض دیگر مفسرین نے اسے تاجروں کے ایسے اسٹوروں، گوداموں اور دوکانوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جن میں لوگوں کا مال بطورِ امانت رکھا جاتا ہے اور ہر صاحبِ مال حق رکھتا ہے کہ وہ انپا مال واسباب لینے کے لئے ان میں داخل ہوجائے، یہ تفسیر بھی آیت کے ظاہری مفہوم سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔
یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے ایسے گھر مراد ہوں کہ جہاں کوئی نہیں رہتا، ایسے گھر میں کسی نے اپنا مال بطور امانت رکھا ہو اور گھر کے مالک سے اس نے آنے جانے اور مال اٹھانے کی عمومی اجازت لی ہو ۔