Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ ایک سوال کا جواب

										
																									
								

Ayat No : 26

: النور

الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ ۲۶

Translation

خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہیں اور خبیث افراد خبیث باتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ افراد پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں یہ پاکیزہ لوگ خبیث لوگوں کے اتہامات سے پاک و پاکیزہ ہیں اور ان کے لئے مغفرت اور باعزّت رزق ہے.

Tafseer

									یہاں ایک سوال پیش آتا ہے کہ تاریخ میں اور خود اپنی زندگی میں ہم نے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ جو اس قانون کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، مثال کے طور پر خود قرآن میں آیا ہے حضرت نوح علیہ السلام اور داوٴد علیہ السلام کی بیویاں بری تھیں اور انھوں نے ان انبیاء کرامعلیہ السلام سے خیانت کی تھی۔(تحریم/۱۰(
جبکہ اس کے مقابلے میں فرعون کی بیوی باایمان اور پاکدامن خاتون تھی کہ جو اس بے ایمان طاغوت کے چنگل میں گرفتار تھی۔(تحریم/۱۱(
ہادیانِ اسلام کے بارے میں ایسے کئی نمونے دکھائی دیتے ہیں ۔
اس سوال کے جواب میں ایک بات تو یہ پیش نظر رہے کہ ہر عمومنی قانون کے استثنائی پہلو بھی ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان دو نکات کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے ۔
۱۔ آیت کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ اصولی طور پر خباثت سے مراد جنسی لحاظ سے ناپاکی ہے اور ”طیب“ ہونا اس کی ضد ہے ۔ اس طرح سے سوال کا واضح ہوجاتا ہے کیونکہ انبیاءعلیہ السلام اور آئمہ علیہ السلام کی ازواج میں سے ہرگز کوئی بھی جنسی اعتبار سے بے راہ رونہ تھی، حضرت نوحعلیہ السلام اور حضرت لوطعلیہ السلام کے واقعے میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ کافروں کے فائد ے میں جاسوسی کرتی تھیں اور یہاں عفّت وناموس کے معاملے میں خیانت مراد نہیں ہے ۔
اصولی طور پر یہ عیب قابلِ نفرت عیوب شمار ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کی ذاتی زندگی کو ایسے واقعات سے پاک ہونا چاہیے کہ جو لوگوں کی نفرت کا باعث بنیں تاکہ مقصدِ نبوت کہ جو لوگوں کو دینِ خدا کی طرف جذب کرنا ہے، کونقصان نہ پہنچے ۔
۲۔ علاوہ ازیں انبیاء کرامعلیہ السلام اور آئمہٴ طاہرین کی بیویاں ابتداء میں کافر اور بے ایمان نہ تھیں ۔ بعض اوقات وہ بعثتِ نبوت کے بعد گمراہ ہوجاتی تھیں اور یقیناً ان انبیاء کے پہلے کے سے روابط ایسی بیویوں کے ساتھ جاری نہ رہتے تھے ۔
فرعون کی بیوی کا بھی ایسا ہی مسئلہ ہے، جب اس کی فرعون کے ساتھ شادی ہوئی تھی اس وقت وہ حضرت موسیٰعلیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی، اصولاً تو حضرت موسیٰعلیہ السلام پیدا بھی نہ ہوئے تھے، بعد میں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث برسالت ہوئے تو وہ ایمان لے آئی، البتہ اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہٴ کار نہ تھا کہ وہ فرعون کے ساتھ اپنی زندگی کو جاری رکھتی، لیکن حمایتِ حق میں اس نے اپنی جد وجہدجاری رکھی اور انجام کار یہ باایمان خاتون شہادت کی منزل سے ہمکنار ہوئی ۔