۲۔ یہ حکم تکوینی ہے یا تشریعی؟
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ ۲۶
خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہیں اور خبیث افراد خبیث باتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ افراد پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں یہ پاکیزہ لوگ خبیث لوگوں کے اتہامات سے پاک و پاکیزہ ہیں اور ان کے لئے مغفرت اور باعزّت رزق ہے.
اس میں شک نہیں کہ ”نوری صرف نوری نوریوں کے طالب ہیں“ اور ”ناری صرف ناریوں کے طالب ہیں“ نیز فارسی مثل مشہور ہے:
کند ہمجنس با ہمجنس پرواز
اسی طرح عربی مثل بھی مشہور ہے کہ:
السنخیة علة الانضمام
یہ سب ضرب الامثال سنّت تکوینی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جو آسمان وزمین میں کائنات وموجودات کے ذرّے ذرّے پر محیط ہے ۔
بہرحال ہر جگہ ہم نوع اپنے نوع کی طرف کھینچتا ہے اور ہر گروہ اپنے ہم مزاج کی کے ساتھ مخلص ہے، لیکن یہ حقیقت اس سے مانع نہیں کہ زیرِ بحث آیت <الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اٴَوْ مُشْرِکَةً کی طرح ایک شرعی حکم کی طرف اشارہ ہو کہ بری عورتوں کے ساتھ کم از کم ایسے مواقع پر ممنوع ہے کہ جب وہ بدکاری میں مشہور ومعروف ہوں ۔
ویسے بھی کیا سب شرعی احکام کی بنیاد پر تکوینی نہیں ہے اور کیا شریعت اور تکوین آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں؟ یقیناً ہیں ۔
مزید وضاحت کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھئے ۔