”کند ہمجنس با ہمجنس پرواز“
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ ۲۶
خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہیں اور خبیث افراد خبیث باتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ افراد پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں یہ پاکیزہ لوگ خبیث لوگوں کے اتہامات سے پاک و پاکیزہ ہیں اور ان کے لئے مغفرت اور باعزّت رزق ہے.
یہ آیت بھی درحقیقت آیاتِ افک اور اس سے پہلے کی آیات کا تسلسل ہے اور انھی کے مفاہیم پر ایک اور تاکید ہے، اس میں جہانِ خلقت میں رائج ایک فطری نظام کابیان ہے کہ شریعت بھی جس سے ہم آہنگ ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے: خبیث وناپاک عورتیں خبیث وناپاک مردوں کے لئے ہیں جیسا کہ خبیث وناپاک مردوں کا تعلق خبیث وناپاک عورتوں سے ہے (الْخَبِیثَاتُ لِلْخَبِیثِینَ وَالْخَبِیثُونَ لِلْخَبِیثَاتِ) ۔
اور اس کے مدّمقابل بھی ”طیب وپاک عورتیں طیّب وپاک مردوں کے لئے ہیں جیسا کہ طیب وپاک مردوں کا تعلق طیب وپاک عورتوں سے ہے (وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّبَاتِ) ۔
اورآیت کے آخر میں دوسرے گروہ کے بارے میں مزید فرمایا گیا ہے: وہ ان ناروا تہمتوں سے مبرّا ہیں کہ جو ان پر لگائی جاتی ہیں (اٴُوْلٰئِکَ مُبَرَّئُونَ مِمَّا یَقُولُونَ) ۔
اور اسی بناء پر الله مغفرت اور اسی طرح پرارزش رزق ان کے انتظار میں ہے (لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ) ۔