۱۔ حق پرستی اور خواہشات پرستی
أَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ أَمْ جَاءَهُمْ مَا لَمْ يَأْتِ آبَاءَهُمُ الْأَوَّلِينَ ۶۸أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ۶۹أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ ۚ بَلْ جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ ۷۰وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ ۚ بَلْ أَتَيْنَاهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُعْرِضُونَ ۷۱أَمْ تَسْأَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيْرٌ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ ۷۲وَإِنَّكَ لَتَدْعُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۷۳وَإِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنَاكِبُونَ ۷۴
کیا ان لوگوں نے ہماری بات پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی چیز آگئی ہے جو ان کے باپ دادا کے پاس بھی نہیں آئی تھی. یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا ہی نہیں ہے اور اسی لئے انکار کررہے ہیں. یا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول میں جنون پایا جاتا ہے جب کہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے. اور اگر حق ان کی خواہشات کا اتباع کرلیتا تو آسمان و زمین اور ان کے مابین جو کچھ بھی ہے سب برباد ہوجاتا بلکہ ہم نے ان کو ان ہی کا ذکر عطا کیا ہے اور یہ اپنے ہی ذکر سے اعراض کئے ہوئے ہیں. تو کیا آپ ان سے اپنا خرچ مانگ رہے ہیں ہرگز نہیں خدا کا دیا ہوا خراج آپ کے لئے بہت بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے. اور آپ تو انہیں سیدھے راستہ کی دعوت دینے والے ہیں. اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہیں وہ سیدھے راستہ سے ہٹے ہوئے ہیں.
زیرِ بحث آیات میں خدا پرستی اور خواہشات پرستی کے تضاد کی طرف ایک پُر معنیٰ اشارہ کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ ”اگر حق لوگوں کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو نہ صرف زمین اور اہلِ زمین بلکہ آسمان بھی درہم وبرہم ہوجائیں ۔
اس مسئلہ کا تجزیہ کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے؛ کیونکہ:
۱۔ اس میں شک نہیں کہ لوگوں کی خواہشات ایک جیسی نہیں ہوتیں اور زیادہ تر ایک دوسرے سے تضاد رکھتی ہیں بلکہ یہاں تک کہ سا ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی شخص کی مختلف خواہشات باہم متضاد ہوتی ہیں ۔ ان حالات میں اکر حق ان خواہشات کی پیروی کرے تو نتیجہ پراگندگی وتباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔
۲۔ تضادات سے قطع نظر لوگوں کی بہت سی خواہشات فساد انگیز اور برائی پر مبنی ہوتی ہیں، اگر ان خواہشات کے مطابق نظامِ عالم چلانے کی کوشش کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ فتنہ وفساد اور تباہی اور بربادی ہوگا ۔
۳۔ انسان کی نفسانی خواہشات ہمیشہ ایک پہلو کی حامل ہوتی ہیں اور ان کی نگاہ صرف ایک زاویے پر ہوتی ہے، یہ خواہشات دیگر پہلووٴں سے غافل ہوتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ فساد اور تباہی کے عوامل میں سے ایک اہم عامل یہ ہے کہ کسی چیز کے ایک ہی پہلو کو مدّنظر رکھا جائے اور اس کے دیگر پہلووٴں کو نظر انداز کردیا جائے ۔
زیرِ بحث آیت کے کئی حوالوں سے اس آیت سے مشابہت رکھتی ہے ۔
<لَوْ کَانَ فِیھِمَا آلِھَةٌ إِلاَّ اللهُ لَفَسَدَتَا
”اگر آسمان و زمین میں الله کے علاوہ اور معبود ہوں تو ان میں فساد برپا ہوجائے“(انبیاء/۲۲).
واضح ہے کہ حق ”صراط مستقیم“ کی طرح ایک ہی ہے، یہ تو نفسانی خواہشات ہیں جو خیالی خداوٴں کی طرح بہت سی ہیں ۔
اب دیکھنا چاہیے کہ حق اور نفسانی خواہشات کے تضاد وکشمکش میں کس کی پیروی کی جائے؟ خواہشات کی کہ جو زمین وآسمان اور موجودات کی تباہی کا بعث ہے یا حق کی کہ جو وحدت ویکتائی اور نظم وہم آہنگی کا سبب ہے ۔
اس تجزیے کا نتیجہ اور اس سوال کا جواب خوب واضح ہے ۔