Tafseer e Namoona

Topic

											

									  کور دل مغرور وں کی منطق

										
																									
								

Tafseer

									گذشتہ آیتوں میں توحید ، معر فت پرور دگار اور عالم خلقت میں اس کی عظمت کے دلائل کے بارے میں گفتگو تھی اسی مطلب کو اعظیم انبیاء کی زبانی اور ان کی تاریخ کے حوالے زیر بحث لایاگیا ہے .آیندہ کی آیات میں بھی یہی سلسلہ کلام میں جاری ہے .
سب سے پہلے اولو العزم پیغمبر حضرت نوح جو توحید کے داعی اور اس کی تبلیغ وترویج کرنے والے ہیں ۔ سے ابتداء کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے ۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ، انہوں نے کہا ۔ میری قوم ! خدائے واحد کی عبادت کرو جس کے سوا کو ئی لائق عبادت نہیں .(وَ لَقَدْ اٴَرْسَلْنا نُوحاً إِلی قَوْمِہِ فَقالَ یا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّہَ ما لَکُمْ مِنْ إِلہٍ غَیْرُہُ) ۔ کیا اس واضح بیان کے باوجود تم بتوں کی پر ستش سے پرہیز نہیں کرتے (افلا تتقون ) 
اس پر ان کی قوم کے دولت مند مالدار اور مغرور افراد جو صرف ظاہر بین اور کور باطن تھے .کہنے لگے .یہ تمہاری طرح کا ایک عام آدمی ہے جو تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسی جذبے کے تحت یہ تم پر مسلط ہونا چاہتا ہے .(فَقالَ الْمَلَاٴُ الَّذینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ ما ہذا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُریدُ اٴَنْ یَتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ ) 
اور یوں ان کا انسان ہونا انہیں حضرت نوح کا پہلا ، عیب ، نظر آیا ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان پر الزام لگایا کہ یہ ، ہوس اقتدار ، میں مبتلا ہے .اور اس مقصد کو پانے کے لیے اُس نے توحید دین اور تبلیغ کرنے کا ڈہونگ رچایا ہے انہوں نے کہا اگر اللہ کوئی رسول بھیجتا بھی یقینا اس مقصد کے لیے فرشتے بھیجتا ( وَ لَوْ شاء َ اللَّہُ لَاٴَنْزَلَ مَلائِکَةً ) اس مہمل اور فضول منطق کی دلیل انھوں نے یہ پیش کی کہ ، ہم نے اپنے آباء و اجداد سے کبھی یہ نہیں سُنا کہ ایک انسان نبوّت کا دعوےٰ کرے یا اپنے آپ کو اللہ کا نمائندہ سمجھے ۔ (ما سَمِعْنا بِہذا فی آبائِنَا الْاٴَوَّلین) 
لیکن ان بے نبیاد باتوں نے عظیم پیغمبر کے پائے استقلال میں کوئی تزلزل پیدا نہ کیا ۔ اور انہوں نے پوُرے زور وشور سے اپنی دعوت جاری رکھی اور ان پر پاگل پن اور دیوانگی کا ایک اور الزام لگایا ، یہ وہ الزام ہے جو تاریخ انبیا ء میں اکثر پیغمبروں پر لگایا جاتارہاہے .وہ کہنے لگے :وہ تو پاگل اور دیوانہ آدمی ہے لہذا اس و قت تک تمہیں صبر کرنا چاہیے کہ اسے موت آجائے .یا اس مرض سے شفا پالے ( ان ھو الارجل بہ جنة فتر تبصوابةحتیٰ حین ) لائق توجہ بات ہے کہ انھوں نے اس اولوالعزم پیغمبر پر پاگل پن ارو دیوانگی .، کی تہمت اس لیے لگائی کہ وہ اس حقیقت کو پوری طرح چھپاسکیں کہ اس کہ ساری باتیں عقل ومنطق کی بہترین مثال ہیں .دراصل وہ کہنا چاہتے تھے کہ چونکہ دیوانگی کی کئی قسمیں ہیں اور بیشتر پاگل ہمیشہ پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ ان پر دوروں کی سی کیفیت ہوتی ہے کبھی صحیح العقل نظر آتے ہیں اور کبھی پاگل ۔ 
فتربصوا بہ ، حتی ٰ حین ، کا جملہ شاید حضرت نوح کی موت تک کے انتظار کی طرف اشارہ ہو جس کا مخالفین بڑی بے چینی سے انتظار کررہے تھے .یہ بھی ممکن ہے کہ اس جملے سے ، دیوانگی .، کی بیماری پر وہ تاکید مزید کررہے ہوں .یعنی ان کی صحت یابی تک انتظار کرو۔
بہر حال حضرت نوح پر انہوںنے باتوں میں تین بہودہ اور متضاد الزمات لگائے اور ہر ایک الزام کو ان کی رسالت کی نفی کی دلیل قرار دیا ، ان کی طرف سے یہ الزامات تھے ۔
(۱) اصولی طور پر انسان کی طرف نبوُت کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے اور پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا اور اگر اللہ بنی ہی بھیجنا چاہتا تو لازمی طور پر فرشتوں سے یہ کام لیتا .
(۲) نوح ایک اقتدار پسند شخص ہے اور اپنے اس مقصد کو پانے کے لیے اس نے نبوت کے دعوے کو ذریعہ بنایا ہے .
(۳) نُوح صحیح الدّماغ آدمی نہیں ہے اور اس کا دعوائے نبوت اسی بیماری کا نتیجہ ہے. 
چونکہ ان بے بنیاد اور بے ربط الزامات کے جوابات بالکل واضح ہیں .اور کئی جگہ پر دیئے جاچکے ہیں .لہذا اس مقام پر قرآن مجید نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا ، البتہ یہ مُسلم ہے کہ انسان کا رہبر خوداسی کی نوع سے ہونا چاہیے . 
تاکہ وہ انسانی ضروریات ،تکالیف اور مسائل سے واقفیت رکھتا ہو.