Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حج کے لئے دعوتِ عام

										
																									
								

Ayat No : 26-28

: الحج

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ۲۶وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ۲۷لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ۲۸

Translation

اور اس وقت کو یاد دلائیں جب ہم نے ابراہیم علیھ السّلامکے لئے بیت اللہ کی جگہ مہیا کی کہ خبردار ہمارے بارے میں کسی طرح کا شرک نہ ہونے پائے اور تم ہمارے گھر کو طواف کرنے والے ,قیام کرنے والے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک و پاکیزہ بنادو. اور لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کردو کہ لوگ تمہاری طرف پیدل اور لاغر سواریوں پر دور دراز علاقوں سے سوار ہوکر آئیں گے. تاکہ اپنے منافع کا مشاہدہ کریں اور چند معین دنوں میں ان چوپایوں پر جو خدا نے بطور رزق عطا کئے ہیں خدا کا نام لیں اور پھر تم اس میں سے کھاؤ اور بھوکے محتاج افراد کو کھلاؤ.

Tafseer

									تفسیر

حج کے لئے دعوتِ عام

گذشتہ آیت میں مسجد الحرام اور خانہٴ خدا کے زائرین کے بارے میں بحث کی گئی ہے کی نسبت سے زیرِ بحث آیت میں پہلے حضرت ابراہیم خلیل الله کے ہاتھوں خانہٴ کعبہ کی تعمیر کی مختصر تاریخ بیان کی جارہی ہے، پھر حج کے وجوب اس کے فلسفے اور اس عظیم عبادت کے بعض احکام کا بیان ہے، دوسرے لفظوں میں اس آیت کے مختلف گوشوں کو واضح کرنے کے لئے گزشتہ آیت مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے، آیت کے شروع میں خانہٴ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے: اس لمحے کو یاد کیجئے، جب ہم نے ابراہیم کے لئے خانہٴ کعبہ کی جگہ کو نمایاں کیا، تاکہ وہ اسی جگہ پر نئے سرے سے عمارت کھڑی کریں (وَإِذْ بَوَّاٴْنَا لِإِبْرَاھِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ) ۔
”بواٴ“ ”بوآء “ کے مادہ سے ہے، یعنی کسی عمارت کے برابر کسی جگہ کا مساوی یا مسطح ہونا، بعد ازاں یہ لفظ کسی جگہ کا کسی عمارت کی تعمیر کے لئے تیار کرنے کے لئے بولا جانے لگا، مفسرین کی روایات کے مطابق اس آیت میں ”بواٴ“ سے یہ مراد ہے کہ الله نے ابراہیم کو خانہٴ کعبہ کی بنیادیں یا دیواریں دکھلادیں جو حضرت آدم(علیه السلام) نے تعمیر کی تھیں اور طوفانِ حضرتِ نوح(علیه السلام) کے سبب گرگئی تھیں، ان بوسیدہ دیواروں کو کیسے دکھایا؟ اس کے جواب میں بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ تیز آندھی چلی، جس سے مٹی ایک طرف کو ہٹ گئی اور بنیادیں ظاہر ہوگئیں یا یہ کہ بادل کا ٹکڑا نمودار ہوا اس نے عین اسی جگہ سایہ کیا جہاں دیواریں تھیں، یا کسی اور طریقے سے وہ جگہ معیّن کی تو انھوں نے اپنے نورِ نظر اسماعیل(علیه السلام) کے ساتھ مل کر نئی عمارت کھڑی کردی ۔(۱)

اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ جب عمارت بن گئی تو ابراہیم سے یوں گویا ہوئے کہ ”اس گھر کو توحید کا مضبوط مرکز بناوٴ، کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھہراوٴ اور میرا گھر طواف کرنے والوں، قیام ورکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو“ (اٴَنْ لَاتُشْرِکْ بِی شَیْئًا وَطَھِّرْ بَیْتِی لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ) ۔(2)
حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) مامور تھے کہ خانہٴ کعبہ اور اس کے گردو ونواح کو ظاہری وباطنی گندگی اور آلودگی سے محفوظ رکھیں، بتوں اور شرک کے دوسرے مظاہر سے اس کو خالی رکھیں تاکہ الله کے بندے اس پاک مکان میں الله کے علاوہ کسی اور کا تصور نہ کرسکیںاور ایسے منزّہ ماحول میں طواف، نماز جو اس سرزمین کی اہم ترین عبادت ہے، بجالایا کریں ۔
زیرِ بحث آیت میں ارکان نماز میں سے تین اہم ارکان قیام رکوع اور سجود کا ذکر کیا گیا ہے، یہ اس لئے کہ باقی افعال ان ہی کے ذیل میں آتے ہیں، البتہ مفسرین میں سے بعض نے ”قائمین“ سے مراد مکہ کے لئے باسی لئے ہیں، لیکن چونکہ ”قائمین“ کا لفظ ”طائفین“ اور ”رکع السجود“ کے درمیان آیا ہے اسی لئے ہماری نظر میں یہاں ”قائمین“ سے مراد نماز میں ”رکن قیام“ کے ا دا کرنے والے ہیں اور اسی مطلب کو اکثر شیعہ اور سنّی مفسرین نے بیان کیا ہے ۔(3)
ضمناً یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ ”رکع السجود“ کے درمیان واوٴ عاطفہ کیوں نہیں ہے، اگرچہ یہ دونوں اسماء صفت ہیں، (رکع جمع راکع یعنی رکوع کرنے والا اور ”سجود“ جمع ساجد یعنی سجدہ کرنے والا) یہ اس لئے ہے کہ عبادت کے دونوں انداز یکے بعد دیگرے اور ایک دوسرے سے متصل ہیں ۔
خانہٴ کعبہ کے عبادت گزاروں کی عبادت کے لئے تیار ہوجانے کے بعد ابراہیم(علیه السلام) کو حکم دیا جاتا ہے کہ ”لوگوں کو حج کی دعوتِ عام دیجئے تاکہ پیدل اور کمزور سواریوں پر دروازے بیت الله کی طرف عازم حج ہوں“ (وَاٴَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاٴْتُوکَ رِجَالًا وَعَلیٰ کُلِّ ضَامِرٍ یَاٴْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ) ۔ ”اٴَذِّنْ“ اذان کے مادہ یعنی اعلان اور بلاوے کے معنی میں ہے ۔ ”رجال“ جمع ”راجل“ یعنی پیدل چلنے والا کے معنی میں ہے، ”ضامر“ یعنی لاغر اور کمزور جانور ”فجّ“ یعنی پہاڑی درّے کو کہتے ہیں ۔ اور کھلی سڑک کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ”عمیق“ کا یہاں مفہوم ہے ”دور“ علی بن ابراہیم والی روایت میں ہے کہ اس حکم کے بعد حضرت ابراہیم نے بارگاہ تعالیٰ میں عرض کیا بارِالٰہا! میری آواز لوگوں تک نہیں پہنچتی تو فوراً ارشاد ہوا:
”علیک الاٴذان وعلیّ البلاغ“
”تم اعلان کرولوگوں تک پہنچا میں دوںگا“

چنانچہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) اس جگہ پر تشریف لائے، جِسے ”مقام ابراہیم“ کہتے ہیں، کان میں انگلی ٹھونسی، مشرق ومغرب کی طرف رُخ کیا اور پکار کر کہا:
”ایّھا الناس کتب علیکم الحج الی البیت العتیق فاجیبوا ربّکم“
”لوگو! خانہٴ کعبہ کا حج تم پر فرض کردیا گیا ہے، اپنے پروردگار کا بلاوا قبول کرو“۔
چنانچہ الله نے ان کی آواز سب کے کانوں تک پہنچادی، حتیّٰ کہ صلبِ پدر اور حم مادر میں مرجود افراد نے بھی سن لیا اور جواب میں ”لبیک اللّٰھمّ لبیّک“ بھی کہا، اس دن سے لے کر قیامت تک جتنے لوگ مراسم حج میں شریک ہوتے ہیں یا ہوں گے، وہی ہیں جنھوں نے اس دن حضرت ابراہیم(علیه السلام) کی آواز کا جواب دیا تھا ۔(4)
آیہٴ حمیدہ میں سواری سے، حج پر جانے والوں سے قبل پیدل حج جانے والے کے لئے ہر قدم پر سات سو نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، جبکہ سوار کے لئے صرف ستر نیکیوں کا ۔(5)
یہ بھی ممکن ہے کہ خانہٴ خدا کی زیارت کی اہمیت کے پیش نظر یہ کہا گیا ہو کہ جو وسیلہ بھی میسّر ہو حج کے لئے پڑنا چاہیے اور ہمیشہ سواری کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے ۔
”ضامر“ (یعنی کمزور جانور) یہ لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ قاری یہ جان لے کہ سفر اس قدر کٹھن ہے کہ چلچلاتے صحراوٴں اور بے آب وگیاہ بیابانوں سے گزرتے ہُوئے جانور کمزور پڑجاتے ہیں، ان دشوار گزار راستوں کو طے کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے، اس لفظ سے ایک اور اشارہ بھی ملتا ہے، اور یہ کہ ایسے جانور منتخب کئے جائیں، جن کے جسم مشقّت کی برابر مشق سے کمزور پڑگئے ہوں، البتّہ اعضاء اور پٹھے مضبوط ہوں، کیونکہ موٹے تازے جانور ایسے سفر میں کام نہیں آتے اور یہ اشارہ بھی ہے کہ ناز ونعمت سے پلے جانور تو کیا، یہ سفر ایسے انسانوں کا بھی کام نہیں ۔
”مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ“ کا مفہوم یہ ہے کہ نہ صرف لوگ مکّہ کے گرد ونواح اور قرب وجوار سے حج کے لئے آئیں گے بلکہ دور دراز سے بھی آئیں گے، اس جملے میں لفظ ”کل“ احاطہ کے معنی نہیں بلکہ کثرت کے معنی میں ہے ۔
مشہور مفسیر ابوالفتوح رازی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ”ابوالقاسم بشر بن محمد“ نامی ایک شخص سے ایک عجیب واقعہ نقل کرتا ہے، بقول اس کے:
ایک دفعہ میں نے خانہٴ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ضعیف آدمی کوو دیکھا، جس کے چہرے پر لمبے سفر کی تھکن اور بے آرامی صاف پڑھی جاسکتی تھی اور عصا کے سہارے بڑے کرب کے ساتھ طواف کررہا تھا، میں اس کے پاس گیا اور پوچھا بڑے میاں، کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ کہنے لگا: ”اتنی دور سے آیا ہوں کہ سفر ہی میں پانچ سال بیت گئے اور رنج وتعبِ سفر سے مضمحل اور بوڑھا ہوگیا ہوں

میں نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا: بیشک آپ نے حق تعالیٰ کی سچّی محبّت اور پُرخلوص اطاعت میں بڑی زحمت گوارا کی! یہ سن کر فرطِ مسرّت سے مسکرایا اور اس نے یہ اشعار پڑھا ۔
زر من ھویت وان شطت بک الدار وحال من دونہ حجب واستار
لایمنعنک بعد من زیارتہ ان المحب لمن یھواہ زوار!
اپنے محبوب سے ملنے ضرور جائیو! اگرچہ تیرے گھر سے کتنا ہی دُور کیوں نہ ہو اور راستے میں کیسی ہی رکاوٹیں اور مزاحمتیں تیرا راستہ کیوں کیوں نہ روکیں، فاصلے کی طوالت اس سے ملنے میں ہرگز حائل نہ ہونے دیجیو، کیونکہ عاشق کو بہرحال محبوب کی زیارت کے لئے جانا ہی چاہیے ۔
بیشک خانہٴ خدا میں انتہائی کشش اور جاذبیت ہے، جس کے سبب سے ایمان سے سرشار دل دور نزدیک سے اس کی طرف چلے آتے ہیں، ہر نسل ہر قبیلے کے لوگ چھوٹے ہوں یا بڑے ”لبیک“ کہتے ہوئے دیوانہ وار اس کی طرف آتے ہیں تاکہ ذات پاک کے جلوے اس مقدس سرزمین پر دل کی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی ہمہ گیر رحمت کو روح کی گہرائیوں میں محسوس کریں ۔
بعد والی آیت میں ایک مختصر مگر معنی خیز جملے میں حج کے فلسفے کے مختلف پہلووٴں پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے، لوگ اس سرزمین مقدس پر آئیں ”تاکہ اپنے مفاد کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں“ (لِیَشْھَدُوا مَنَافِعَ لَھُمْ) مفسرین قرآن نے لفظ ”منافع“ کے ذیل میں بہت کچھ ذکر کیا ہے، البتہ بالکل واضح ہے کہ اس لفظ کو غیر مشروط ولامحدود طور پر استعمال کیا گیا ہے، یعنی مادی، معنوی، انفرادی، اجتماعی، سیاسی، اقتصادی، اخلاقی اور تعلیمی مفاد سب ہی اس میں شامل ہیں ۔
بیشک مسلمانوں کو دنیا کے ہر ایک علاقے سے اور ہر قسم کے لوگوں کو یہاں آنا چاہیے اور اپنے مفاد کا ناظر اور شاہد بننا چاہیے ۔ 
یعنی اپنے اپنے وطن میں جو کچھ سنتے رہے ہیں، یہاں آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیں، تفسیر نور الثقلین ج۳، ص۴۸۸ پر کافی حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ربیع بن خثیم نے امام(علیه السلام) سے اس لفظ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو آپ(علیه السلام) نے ارشاد فرمایا: 
”یہ لفظ دُنیا وآخرت کے جملہ ”مفاد“ اپنے اندر لئے ہوئے ہے“۔
انشاء الله آیت کے نکات کے ذیل میں ہم اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے ۔
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: حجاج آئیں اور قربانی کریں، روزی کے سلسلے میں دیئے جانے والے جانوروں کو مخصوص ایّام میں الله کا نام لے کر ذبح کریں (وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللهِ فِی اٴَیَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیمَةِ الْاٴَنْعَامِ) ۔
 


فاضل دانشور شعرانی مرحوم کہتے ہیں:

اگر گزشتہ زمانے کے ذرائع آمد ورفت اور رستوں کو ذہن میں رکھ کر اس وقت کے اندلس، مراکش یا چین وبخارا سے آنے والوں کا تصور کریں جو خشکی کے یا سمندری راستوں سے مکّہ آتے تھے، خصوصاً راستوں کو رہزنوں سے غیر محفوظ ہونا پیش نظر رہے تو واقعی یہ بڑا عظیم کام نظر آتا ہے، کئی دفعہ ان عاشقان خدا کا زادراہ لُوٹ لیا جاتا اور ان کو بے سروسامانی کے عالم میں سفر جاری رکھنے کے لئے مدتوں کہیں قیام کرنے اور محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا ۔
مناسک حج میں وہ امور یا افعال مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جن سے الله سے تعلق پیدا ہوا اور اس طرح اس عبارت کی عظمت کی عکّاسی کرتے ہیں، چنانچہ اس آیت میں قربانی کرتے ہوئے صرف الله کا نام لینے کا ذکر کیا گیا ہے، جو شرائط ذبح میں سے ہے یہ اس لئے ہے تاکہ قربانی کرنے والے کی پوری توجہ الله اور اس کے قبول کرنے پر رہے اور قربانی کے گوشت یا دیگر دنیوی مفاد اس کے ذیل میں رہیں، دراصل جانوروں کی قربانی، انسانوں کے ذہن میںراہ خدا میں قربان ہونے کے لئے آمادگی کاایک ذریعے ہے، جس طرح واقعاتِ حضرت ابراہیم(علیه السلام) و اسماعیل میں آیا ہے کہ انھوں نے یہ عمل بجالاکر گویا یہ اعلان فرمایا کہ ہم الله کی راہ میں ہر قربانی دے سکتے ہیں، حتّیٰ کہ جان تک بھی قربان کرسکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید نے بُت پرستوں کے مشرکانہ طریقہ کار کی نفی بھی کردی جو قربانی کرتے وقت بتوں کے نام پکارتے تھے اور اس طرح توحیدی مناسک کو شرک سے آلودہ کرلیتے تھے ، چنانچہ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے: قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھاوٴ اور غریبوں کو بھی کھلاوٴ (فَکُلُوا مِنْھَا وَاٴَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِیرَ)
اس آیت کے تفسیر یوں بھی کی جاسکتی ہے ”ایّام معلومات“ میں الله کا نام لینے مراد الله کی بے حد وحساب نعمتوں کی وجہ سے علی الخصوص جانور جو انسان کی خوراک بھی ہیں، کہ وجہ سے مخصوص ایّام میں، الله تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس کی جائے ۔(6)


چند اہم نکات
۱۔ ایّام معلومات

<واذکروا الله فی ایّام معدودات
”الله کو معدود دنوں میں یاد کرو“
آیا ”ایّام معلومات اور ”ایّام معدودات“ ایک ہی ہیں یا جدا جدا، اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے، روایات بھی مختلف وارد ہوئی ہیں ۔
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ”ایّام معلومات“ سے مراد ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں اور ”ایّام معدودات“ سے گیا بارہ اور تیرہ ماہ ذوالحجہ ”ایّام التشریق“ مراد ہیں یعنی نورانی اور دلوں کی روشنی بخشنے والے دن۔
بعض مفسرین چند ورایات کی بنیاد پر دونوں ہی سے ”ایّام التشریق“ مراد لیتے ہیں ”ایّام التشریق“ کے مصداق میں بھی اختلاف ہے، کبھی اس سے ماہ ذوالحجہ کی گیارہ بارہ اور تیرہ تاریخ مراد لی جاتی ہے اور کبھی دسویں کے دن یعنی عید قربان کے دن کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے ۔
”فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ“

۱۔ اوّل الذکر تفسیر کے مطابق قربانی کرتے وقت الله کا نام لینا ”علیٰ“ بمعنیٰ استعلاء ہے اور ان مخصوص دنوں میں تسبیح وتقدیس کا معنی کیا جائے ”وہاں ”علیٰ“ بمعنیٰ ”برائے“ ہے، اس فرق کی وضاحت ہم آگے کریں گے ۔
یعنی جو شخص مناسک حج کے دو دنوں میں عبادت کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ۔
یہ سورہء بقرہ کی آیت ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ”ایّام التشریق“ تین دن سے زیادہ نہیں ہیں، کیونکہ ”یَومَین“ کے قرینے سے یہ قیاس واضح ہے کہ اگر حاجی ذرا جلدی سے کام لیتے ہوئے ایک دن کم کرے تو دو دن بن جاتے ہیں، البتہ اگر ہم اس نکتے پر غور کریں کہ زیرِ بحث آیت میں ”ایّام معلومات“ سے مراد ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں جو قربانی کے دن یعنی دسویں تاریخ کو ختم ہوجاتے ہیں، لہٰذا جو تفسیر ”ایّام معلومات“ اور ”ایّام معدودات“ کو الگ الگ کرتی ہے، وہ صحیح معلوم ہوتی ہے لیکن دونوں آیتوں میں جو مشترک مطلب بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے ذہن میں یہی آتا ہے کہ دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے، یعنی مخصوص دنوں میں ذکرِ خدا کرنا اور اسی کی طرف متوجہ رہنا جو دسویں سے شروع ہوکر تیرہویں تک جاری رہتا ہے، البتّہ الله کے نام کے تذکرے کا ایک مرحلہ قربانی بھی ہے ۔(7)
۲۔ منیٰ میں ذکرِ خدا
الله اکبر، الله اکبر، لاالٰہ الّا الله والله اکبر، الله اکبر وللّٰہِ الحمد، الله اکبر، علیٰ ھدانا، والله اکبر علیٰ ما رزقنا من بھیمة الانعام
اسی کتاب میں صفحہ۳۰۷ پر درج بعض دوسری روایات کے ذریعے تصریح ہوئی ہے کہ پندرہ نمازوں کے بعد پڑھنا اس شخص کے لئے ہے جو میدانِ منیٰ میں ہو یا باقی حضرات کے لئے دس نمازوں تک پڑھنا کافی ہے، یعنی بارھویں ذوالحجہ کی نماز فجر تک، یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے، تکبیرات والی روایات اس حقیقت کی دوسرا گواہ ہیں کہ زیرِ بحث آیت میں جس ”ذکر“ کا تذکرہ ہوا ہے وہ قربانی کرتے ہوئے ذکر سے مخصوص نہیں، بلکہ مجموعی ذکر مراد ہے، اگرچہ اس میں وقت ذبح ذکر بھی شامل ہے ۔ (قابل غور)
۳۔ حج کا فلسفہ اور اس کے مضمرات
حج کے عظیم الشان مراسم دوسری عبادات کی طرح فیوض وبرکات کا سرچشمہ ہیں اور انفرادی اور اسلامی معاشرے کے بہت سے اجتماعی پہلووٴں کی عکاسی کرتے ہیں، اگر مناسکِ حج صحیح طریقے سے ادا کئے جائیں، ہر ایک رُکن ٹھیک اسلامی تقاضے کے مطابق ادا ہو تو ہر سال مسلمانوں کا یہ مہتم بالشان اجتماع اسلامی معاشروں میں نئے انقلاب کی داغ بیل ڈال سکتا ہے، حج کے عظیم الشان مناسک کے چار پہلو ہیں، جن میں ہر ایک دوسرے سے زیادہ بنیادی گہرا اور مفید دکھائی دیتا ہے ۔

۱۔ ”وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللهِ“ کی تفسیر کے ذیل میں جو اختلاف تھا، ایک قربانی کے وقت نامِ خدا لینا دوسرا مطلقاً خدا کا ذکر کرنا، ختم ہوجاتا ہے اور یوں پہلا قول دوسرے کا مصداق بن جاتا ہے اور دوسرا ایک وسیع وعمومی مفہوم بن جاتا ہے ۔


الف) حج کا اخلاقی پہلو

حج کا اہم ترین فلسفہ اخلاقی ہے، یعنی حج انسان میں زبردست اخلاقی انقلاب پیدا کرتا ہے، ”احرام“ کی پابندی انسان کو مکمل طور پر مادی تعیش، ظاہری امتیازات مختلف لباس اور رنگ وروپ وزیب وزینت سے بے نیاز کردیتی ہے، مختلف مادی لذّات سے پرہیز انسان کو ضبط نفس، اصلاح اور شخصیّت سازی کی طرف مائل کرتا ہے مادّی دنیا سے نکال کر فضائے روحانیت وصدق وصفا کی سیر کراتا ہے اور وہ لوگ جو عام حالات میں مزعومہ امتیازات، مراتب اور فخر وناز کے سنگین بوجھ تلے دبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اچانک اپنے آپ کو ہلکا پُرسُکون اور آسودہ خاطر محسوس کرنے لگتے ہیں ۔
اس کے بعدحج کے دیگر مناسک انسان کے روحانی تعلقات بڑھاتے ہیں، انسان کا الله کے ساتھ تعلق لمحہ بہ لمحہ مستحکم تر کردیتے ہیں اور اس کے نزدیک تر لے جاتے ہیں، انسان کو آلودہ اور تاریک ماضی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر چکاچوند مستقبل کی پُرنور چوٹیوں پر لاکھڑا کرتے ہیں ۔
قابل توجہ یہ ہے کہ مناسک حج علی الخصوص قدم قدم پر بت شکنابراہیم(علیه السلام)، اسماعیل(علیه السلام) اور حضرت ہاجرہ(علیه السلام) کے نظریات، کردار اور راہ خدا میں قربانیوں کو حجاج کے اذہان پر نقش کرتے رہتے ہیں، اسی طرح مکّہ معظمہ عموماً اور خانہٴ کعبہ، مسجد حرام اور مطاف وغیرہ خصوصاً رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور صدر اسلام کے مسلمانوں کی یاد دلاتے ہیں، جس سے اخلاقی انقلاب حجاج کے اذہان پر گہرا ہوجاتا ہے، علاوہ ازیں ہر حاجی سرزمین مکّہ اور مسجد الحرام میں گویا حضرت رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم، حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اور دیگر صحابہ کرامۻ کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے، ان کی رجزخوانی اور قتال کرتے ہوئے تلواروں کی جھنکار سنتا ہے، بیشک تمام مناسکِ حج اس طرح سے آپس میں مسلسل اور منظم ہیں کہ مائل ذہن کے دلوں کو مکمل طور پر اخلاقی لحاظ سے اس طرح منقلب کرتے ہیں کہ الفاظ میں نہیں کیا جاسکتا، واقعی حاجی کی کتابِ زندگی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوجاتا ہے، بحارالانوار کی جلد۹۹ صفحہ۲۶ پر جو روایت درج ہے، کس قدر قرین حقیقت ہے ۔
”یخرج من ذنوبہ کھیئة یوم ولدتہ امّہ“
”حاجی حج کے بعد اپنے گناہوں سے یوں بری ہوجاتا ہے، گویا وہ نومولود معصوم بچّہ ہے“
واقعی حج انسان کے لئے ”تولّد ثانی “ ہے، ایسی پیدائشِ نو جو ایک نئی زندگی لئے ہوئے ہو، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مذکورہ بالا فیوض وبرکات اور وہ جو بعد میں ذکر ہوں گے، ان افراد کے لئے نہیں ہیں جو مناسک کے ظواہر تک محدود رہتے ہیں اور اس کے گوہر نایاب کو گنوا بیٹھتے ہیں اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے جو حج کو سیاحت اور تفریح یا مادی وسائل کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں، ان کے حصّے میں وہی کچھ آتا ہے جو کچھ وہ پالتے ہیں ۔


ب) حج کا سیاسی پہلو

ایک عظیم فقیہ کے بقول باوجود اس کے کہ مناسک حج خالص اور عمیق ترین عبادت کا مجموعہ ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے سیاسی مقاصد کے حصول اور پیش رفت کا موٴثر ذریعہ ہیں، الله کی طرف توجہ کے لحاظ سے عبادت اور مخلوقِ خدا کے حقوق کے تحفظ کے لحاظ سے سیاست مناسکِ حج میں یہ دونوں پہلو آپس میں اس طرح سے مربوط ومنسلک ہیں، گویا ایک کپڑے کا تانا بناہوں، حج مسلمانوں کی منتشر صفوں کو منظم کرنے کا مسلمانوں میں نسلی امیتاز علاقائی عصبیّت اور قومی تفاخر کے خاتمے کا بہترین عامل ہونے کے ساتھ ساتھ دشمنوں سے مقابلے کا بھی بہترین ذریعہ ہے، حج، اظہارِ خیال پر سفر استبدادی نظام اور کٹھن خوف اور وباء کے خاتمے کا بھی بڑا موٴثر ذریعہ ہے، مسلمان ممالک کے صحیح حالات ایک دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہے، غرضیکہ حج استحصال طاقتوں کی چیرہ دستیوں سے آزادی اور استعماری زنجیروں کو توڑنے کا بہترین عامل ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ بنی امیہ اور بنی عباس جیسے ڈکٹیٹروں کے زمانے میں عوام کے بعض طبقات کے میل جول پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی، تاکہ آزادی کی تحریکوں کو کچلا جاسکے، اس وقت ان کے ملاپ، سیاسی روابط اور صلاح مشورے کا واحد ذریعہ حج تھا، نہج البلاغہ ”کلمات قصار“ نمبر۲۵۲ میں جناب امیر(علیه السلام) نے حج کو ”الحج تقویة للدین؛مناسک حج، دین مقدس اسلام کی تقویت واستحکام کا سبب ہیں“ قرار دیا ہے ۔
افسوس کہ مسلمانوں نے حج کے فلسفے کو نہ سمجھا، لیکن ان کے دشمن سمجھ گئے ۔
روایات میں حج کو ضعیف اور کمزور مسلمانوں کا جہاد قرار دیا گیا ہے، ایسا جہاد کہ ساری دُنیا کے ضعیف، کمزور اور عورتیں ایک جگہ جمع ہوکر امّت مسلمہ کی عظمت وسطوت کا مظاہرہ کرتے ہیں، خانہٴ خدا کے چاروں طرف نماز کی صفیں باندھ کر ایک آواز ہوکر جب نعرہٴ تکبیر بلند کرتے ہیں تو دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں ۔


ج) حج کا ثقافتی پہلو

حج کے دنوں کو مختلف علاقوں کے لئے ثقافتی افکار وافعال کے تبادلے کا بہترین موقع قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ خانہٴ خدا کی زیارت کے لئے آنے والے افراد کے انتخاب میں کوئی انسان ساختہ طریقہ کارفرما نہیں ہے، بلکہ صرف حکمِ خدا کے تحت مختلف علاقوں، خاندانوں، زبانوں اور ملکوں کے لوگ ایک جگہ پر جمع ہوجاتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں ہے کہ حج رسول الله کے فرمودات اور آثار کے دُنیائے اسلام میں نشر واشاعت کا بہترین ذریعہ ہے، وسائل الشیعہ جلد۸، صفحہ۹ پر ایک روایت ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے خاص صحابی جو بہت صاحبِ علم بھی تھے اور جن کا نام ہشام بن حاکم ہے، نے ایک دن امام(علیه السلام) سے حج کے فلسفے کے بارے میں سوال کیا تو آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”انّ اللهخلق الخلق وامرھم بما یکون من امر الطاعة فی الدین و مصلحتھم من امر دنیاھم فجعل فیہ الاجتماع من الشرق والغرب ولیتعارفوا ولینزع کل قوم من التجارات من بلد الیٰ بلد ولتعرف آثار رسول الله (ص) وتعرف اخبارہ ویذکر ولاینسی
”الله نے بندوں کو پیدا کیا آپ نے ان کے دینی اور دنیوی مفاد میں احکام جاری فرمائے، منجملہ ان احکام کے مشرق ومغرب کے لوگوں پر مشتمل ایک اجتماع ومناسک حج، کا بھی حکم دیا، تاکہ لوگ ایک دوسرے سے شناساں ہوں، تجارتی سازو سامان ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا جاسکے، نیز اس طرح آپ کی تعلیمات کی بھی اشاعت ہو، لوگ اِن تعلیمات کو اپنے دلوں میں جگہ دیں اور انھیں کبھی فراموش نہ کریں ۔
یہی وجہ ہے کہ جابروں اور آمروں کے عہد حکومت میں جبکہ احکامات قرآن وسنّت کی نشر واشاعت کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی ۔ مسلمان عوام حج کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئمہ طاہرین(علیه السلام) اور بزرگ علماء بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنے مسائل کا حل حاصل کیا کرتے تھے ۔
نیز حج کے اجتماع کو مسلمانوں کے عظیم ثقافتی سیمینار میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے، عالمِ اسلام کے تمام علماء جو مکّہ میں موجود ہیں ایک دوسرے کے سامنے اپنے خیالات تجربات اور تجاویز پیش کرسکتے ہیں ۔
مسلمانوں کی بڑی بدنصیبی یہ کہ مسلمانوں کی جغرافیائی سرحدیں ان ثقافتی طور پر محدود کردیتی ہیں اور ہر ملک کے مسلمان صرف اپنے ہی بارے میں سوچ بچار کرتے نظر آتے ہیں، ایسے میں وسیع تر اسلامی معاشرہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر تقریباً ناپید ہوجاتا ہے، اس صورت میں حج بیشک اس بدنصیبی کی تاریک رات میں خوش نصیبی کا مہرِ درخشاں ہے، مذکورہ بالا روایت کے اگلے حصّے میں امام صادق علیہ السلام نے کیا عُمدہ بات فرمائی ہے:
”ولو کان کلّ قوم انما یتکلمون علیٰ بلادھم وما فیھا ھلکوا، وخربت البلاد، وسقطت الجلب والارباح وعمیت الاخبار“
”اگر ہر قوم اپنے ہی ملک اور شہر کی بات کرے اور صرف اپنے مسائل پر سوچ بچار کرے تو سب کے سب برباد ہوجائیں گے، ان کے ملک تباہ وبرباد ہوں گے، ان کے مفادات تباہ ہوں گے اور حقائق پس پردہ چلے جائیں گے ۔


د) حج کا اقتصادی پہلو

حقیقت، لوگوں کے خیال کے بالکل برعکس ہے، یعنی یہ کہ حج کے اجتماع کو اسلامی ممالک کی اقتصادی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لئے استعمال کرنا نہ صرف حج کی روح کے منافی ہے، بلکہ روایات کی روشنی میں فلسفہٴ حج کا ایک پہلو یہ بھی ہے ۔
اگر تمام مسلمانوں اس کثیر اجتماع میں اسلامی ممالک کی مشترکہ تجارتی منڈی کی بنیاد رکھیں، ایک دوسرے کی ضرورت کو پورا کریں، نہ منافع دشمنوں کی جیب میں جائے اور نہ اقتصادیات کو دشمنوں کا طفیلی بنائیں تو یہ دنیا پرستی نہیں ہے، بلکہ عین خدا پرستی ہے اور اس کی راہ میں جہاد ہے، چنانچہ مندرجہ بالا روایت میں امام صادق علیہ السلام، فلسفہٴ حج کے ضمن میں ہشامۻ سے کھول کر بیان فرمارہے ہیں کہ حج کے مقاصد میں سے ایک مقصد مسلمانوں کی باہمی تجارت کو فروغ دینا اور اقتصادی روابط کو آسان بنانا ہے ۔
سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۹۸ <لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ کی تفسیر کے ذیل میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ”تَبْتَغُوا فَضْلًا“ سے مراد کسب معاش ہے، فرمایا: 
”فاذا احل الرجل من احرامہ وقضی فلیشتر لیبیع فی الموسم“
”جب حاجی احرام اتار دے، مناسک حج کا وقت ختم ہوجائے تو خرید وفروخت کرے“۔(8)
(یہ کام نہ صرف یہ کہ گناہ نہیں ہے بلکہ ثواب کا بھی حامل ہے) ۔

امام علی بن موسیٰ رضا علیہما السلام سے بھی اس طرح کی ایک روایت مروی ہے، جس کے آخر میں آپ(علیه السلام) فرماتے ہیں:
”لیشھدوا منافع لھم“
”تاکہ اپنا نفع حاصل کریں“۔
لفظ ”منافع“ بہت بلیغ اشارہ کررہا ہے اور مادی مفادات پر محیط ہے ۔(9)
مختصر یہ کہ اگر یہ عبارت صحیح اور مکمل طور پر بجالائی جائے اور اس سے پورا فائدہ اٹھایا جائے، خانہٴ خدا کے زائرین مقدس سرزمین میں قیام کے دوران حج کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے ذہنی طور پر آمادہ ہوں اور پوری طرح سرگرم بھی رہیں، اسی موقع کو غنیمت جانتے ہوئے سیاسی ثقافتی اور اقتصادی مسائل پر باہمی صلاح مشورے کریں تو مناسک حج پر مسئلے کا حل پیش کرنے کی پوری صلاحیّت رکھتے ہیں اور شاید اسی نکتے کو امام صادق علیہ السلام نے اسی طرح فرمایا ہے:
”لایزال الذین قائماً ما قامت الکعبة“
”یعنی جب تک کعبہ رہے کہ دین رہے گا“۔(10)
جناب امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
”الله الله فی بیت ربّکم لاتخلوہ ما بقیتم فانّہ ان ترک لم تناظروا“
”خدا را اپنے رب کے گھر کے بارے میں اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اسے ہرگز خالی نہ چھوڑنا ورنہ الله کی طرف سے بالکل مہلت نہ دی جائے گی“۔
۴۔ اس زمانے میں قربانی کے گوشت سے متعلق ذمہ داریاں
زیر بحث آیت سے پوری طرح واضح ہورہا ہے کہ قربانی کے معنوی اور روحانی پہلووٴں اور حصول تقرب بارگاہِ الٰہی کے علاوہ اور مقاصد بھی ہیں، وہ یہ کہ اس گوشت کا مناسب مصرف کیا جائے، قربانی دینے والا خود بھی کھائے، مساکین وغرباء ومستحقین تک بھی پہنچایا جائے، اسراف فضول خرچی کی بھی اسلام میں بڑی ممانعت ہے، یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے بلکہ قرآن وسنّت اور فہم عامہ سے بھی ثابت ہے ۔
مندرجہ بالا بحث بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں ہے کہ قربانی کے کثیر گوشت کو ”منیٰ“ میں اُدھر پھینک کر فضاء کو مکدّر بنائیں یا ”منیٰ“ میں دفن کردیں، مناسکِ حج میں قربانی کا واجب ہونا صرف ان دو کاموں کے لئے ناقابل فہم ہے ، اگر ضرورتمند افراد وہاں موجود نہیں ہیں تو ضروری ہے کہ دُنیا کے دوسرے حصّوں میں جہاں بھی ضرورتمند ہوں اس گوشت کو ان تک پہنچایا جائے (قابل غور ہے) ۔

مگر افسوس آج مسلمان قربانی دینے کے حکم کی تعمیل تو کرتے ہیں مگر گوشت کی تقسیم کو بھلائے ہوئے ہیں، ہر سال لاکھوں جانوروں کا گوشت جو ضرورت مندوں کی کثیر تعداد کی ایک طویل مدّت تک ضرورت پوری کرسکتی ہے، اس مقدس سرزمین پر بہت ناپسندیدہ اور مکروہ حالت میں تلف ہوجاتا ہے، مسلمانوںکے بہت سے علماء دانش مندوں اور مفکروں نے شعودی حکومت سے اس ضمن میں بارہا گفتگو کی ہے، یہاں تک کہ رضاکارانہ طور پر گوشت کے حمل ونقل کے اخراجات برداشت کرنے کی پیش کش بھی کرچکے ہیں، مگر ایک طرف وہابی علماء کا جمود اور بے حسی اور دوسری طرف سعودی حکومت کے کارپردازوں کی لاپرواہی اور بے اعتنائی اس کارِخیر کی راہ میں سنگِ گراں بنی ہوئی ہے ۔
اسراف وفضول خرچی کی حُرمت اور کفران نعمت جو ایک مسلّمہ مسئلہ ہے سے قطع نظر عید قربان کے دن منیٰ میں قربانگاہ کی کیفیت وماحول اس قدر مکدّر وغیر مطلوب ہوتا ہے کہ کمزور ایمان کے مسلمان اس رکن کے وجوب کے بارے میں شک کرنے لگتے ہیں، مزید برآں دشمنوں کو مخالفت کے لئے ایک موٴثر حربہ ہاتھ لگتا ہے، وہ اس کیفیت کو وہاں کے علماء اور منتظمین کی کوتاہ فکری سمجھنے کی بجائے اسلام میں مین میخ نکالنے بیٹھ جاتے ہیں، لہٰذا دُنیا کے تمام تر مسلمان ممالک کے عوام پر لازم ہے کہ عظمتِ اسلام کے تحفظ اور مناسکِ حج کی صحیح تصویر کو نمایاں کرنے کے لئے سعودی حکومت پر دباوٴ ڈالیں کہ ذلّت آمیز ماحول کو ختم کرکے احکاماتِ اسلام کا نفاذ کریں، البتہ بعض روایات جن کے مطابق قربانی کا گوشت منیٰ یا حرمِ مکّہ سے باہر لے جانا ممنوع ہے، ان کا تعلق اس زمانے اور حالات سے ہے، جب اس گوشت کے ضرورتمند اس علاقے میں موجود ہوتے تھے اور گوشت کی مقدار انہی کے لئے کافی تھی، چنانچہ معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی یہ روایت اس مسئلے پر یوں روشنی ڈالتی ہے، امام صادق علیہ السلام کے ایک صحابی نے قربانی کے گوشت کو منیٰ سے باہر لے جانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”کُنّا نقول لایخرج منھا بشیء لحاجة النّاس الیہ فامّا الیوم فقد کثر النّاس فَلا باٴس باخراجہ“
کبھی ہم کہا کرتے تھے کہ اس میں سے کُچھ بھی باہر نہ لے جائیں، کیونکہ لوگ ضرورتمند تھے، اب جبکہ حجاج کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے، قربانی کے گوشت کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے، لہٰذا اسے باہر لے جانے میں کوئی حرج نہیں ۔(11)

۱۔ خانہٴ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں اس تفسیر کی پہلی اور تیسری جلد علی الترتیب سورہٴ بقرہ آیت نمبر ۱۲۷ اور سورہٴ آلِ عمران آیت۹۶ کے ذیل میں تفصیلاً بیان کرچکے ہیں ۔
2۔ بعض مفسرین کے بقول اس آیت میں ان الفاظ سے پہلے ”اوحینا“ کا لفظ مقدر ہے ۔
3۔ تفسیر المیزان، تفسیر فی ظلال القرآن، تفسیر مجمع البیان اور تفسیر کبیر از فخر الدین رازی؛ زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
4۔ تفسیر نورالثقلین ج۳، ص۴۸۸ کے مطابق تفسیر علی بن ابراہیم کا خلاصہ، آلوسی نے ”روح المعانی“ میں اور رازی نے ”تفسیر کبیر“ میں بھی اس مضمون کو کم وبیش تحریر کیا ہے ۔
5۔ تفسیر روح المعانی، مجمع البیان اور تفسیر کبیر از فخر رازی
6زیر بحث آیت میں حکم ہورہا ہے ”ایّام معلومات“ میں یعنی مخصوص دنوں میں، الله کو یاد کرو، سورہٴ بقرہ آیت۲۰۳ میں بھی یہ حکم یوں آیا ہے:7متعدد روایات کے مطابق اس ذکر سے مراد وہ تکبیریں ہیں جو عید قربان کے دن نماز ظہر کے بعد سے برابر پندرہ نمازوں تک پڑھنا مستحب ہیں، یعنی تیرھویں ذوالحجہ کی نماز فجر تک، بحارالانوار ج۹۹، ص۳۰۴ پر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حوالے سے وہ تکبیریں یہ ہیں:
8۔ تفسیر عیّاشی بمطابق المیزان، ج۲، ص۸۶
9۔ بحارالانوار، ج۹۹، ص۳۲
10۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۱۴
۱1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۰، ص۱۵۰، ابواب الذبح باب ۴۲، حدیث ۵