جہنم کا ایندھن
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ ۹۸لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا ۖ وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ ۹۹لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ ۱۰۰إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ۱۰۱لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ ۱۰۲لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ۱۰۳
یاد رکھو کہ تم لوگ خود اور جن چیزوں کی تم پرستش کررہے ہو سب کو جہنمّ کا ایندھن بنایا جائے گا اور تم سب اسی میں وارد ہونے والے ہو. اگر یہ سب واقعا خدا ہوتے تو کبھی جہنمّ میں وارد نہ ہوتے حالانکہ یہ سب اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں. جہنمّ میں ان کے لئے چیخ پکار ہوگی اور وہ کسی کی بات سننے کے قابل نہ ہوں گے. بیشک جن لوگوں کے حق میں ہماری طرف سے پہلے ہی نیکی مقدر ہوچکی ہے وہ اس جہنمّ سے دور رکھے جائیں گے. اور اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے اور اپنی حسب خواہش نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ آرام سے رہیں گے. انہیں قیامت کا بڑے سے بڑا ہولناک منظر بھی رنجیدہ نہ کرسکے گا اور ان سے ملائکہ اس طرح ملاقات کریں گے کہ یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا.
تفسیر
جہنم کا ایندھن :
گزشتہ آیات میں ظالم مشرکین کے انجام کے بارے میں گفتگو تھی ۔ ان آیات میں روئے سخن ان کی طرف کرتے ہوئے ، ان کی اور ان کے معبودوں کے مستقبل کی اس طرح
تصویرکشی کی گئی ہے، تم بھی اور جن جن کی تم خدا کر چھوڑ کر پرستش کرتے ہو (سب کے سب) جہنم کا ایندھن ہیں ( انكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم)۔
"حصب" دراصل پھینکنے کے معنی میں ہے۔ خصوصًا ایندھن کے ٹکڑوں کو تنور میں پھینکنے کو "حصب" کہاجاتا ہے۔
بعض نے یہ کہا ہے کہ "حطب" (بروزن سبب) کہ جو ایندھن کے معنی میں ہے ۔ عربوں کی مختلف زبانوں میں مختلتف تلفظ رکھتا ہے۔ بعض قبیلے اسے "حصب" اور دوسرے اس کو
"خضب " کہتے ہیں اور چونکہ قرآن قبائل اور دلوں کو جوڑنے کیلئے آیا ہے لہذا بعض اوقات ان کے مختلف الفاظ کو بھی استعمال کرتا ہے تاکہ اس طریقے سے دل جمع ہوں۔ یہ لفظ "حصب" بھی
ایسے الفاظ میں سے ہے کہ جو اہل یمن کے قبائل لفظ "حطب" کی جگہ تلفظ کرتے ہیں۔ ؎1
بہرحال زیربحث آیت مشرکین سے کہتی ہے اور جہنم میں آگ جلانے والا ایندھن جس سے اس کے شعلے پیدا ہوں گے ، خود تم اور تمھارے بناؤٹی خدا ایندھن کے قدر و قیمت ٹکڑوں
کی طرح یکے بعد دیگرے جہنم میں پھینکے جاؤ گے۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے تم اس میں جاؤگے ( انتم لها واردون)۔
یہ جملہ یا تو گزشتہ بات کی تاکید کے طور پر ہے یا ایک نئے نکتہ کی طرف اشارہ ہے ، اور وہ یہ ہے کہ پہلے تو بتوں کو آگ میں ڈالیں گے ، پھر تم ان پر وارد ہوگئے ، گویا تمهارے
خدا اس کے ساتھ جو ان کے وجود سے نکلے گی ، تمہارا استقبال کریں گے ۔ ؎2
اگر یہ سوال ہو کہ بتوں کو جہنم میں ڈالنے کا کیا فلسفہ ہے ، تو اس کے جواب میں یہ کہنا چاہیے کہ یہ بھی بت پرستوں کے لیے ایک قسم کا عذاب اور سزا ہے کیونکہ وہ یہ دیکھیں
گے کہ وہ اس آگ میں کہ جس کے شعلے ان کے بتوں سے نکل رہے ہیں جل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات ان کے نظریات کی تحقیر و تذلیل ہے ، کہ وہ اس قسم کی بے قدر و قیمت چیزوں کی پناہ لیا
کرتے تھے۔
البتہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ (مایعبدون) ان معبودوں کے معنی میں ہو کہ جو بے جان پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے بت ٓہیں (جیسا کہ "ما" کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ " ما
" عام طور غیر ذوي العقول کے لیے آتا ہے) لیکن اگر اس کے مفہوم کو عام سمجھیں اوراس میں وہ شیاطین بھی شامل ہوں کہ جو معبود بنے ہوئے تھے تو پھر ان معبودوں کا جہنم میں آنا بالکل واضح
ہے کیونکہ وہ تو خود شریک جرم ہیں۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر ابوالفتوح رازی زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔
؎2 اس بات پر توجہ رہے کہ پہلی صورت میں " لها "کی لام " الٰى " کے معنی میں ہے اور "ها"کی ضمیر جہنم کی طرف لوٹتی ہے اور دوسری تفسیرمیں بھی لام "الٰى" کے معنی میں ہے لیکن
ضمیربتوں کی طرف لوٹتی ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس کے بعد عمومی نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا گیا ہے ، اگر یہ بت خدا ہوتے ہرگز جہنم کی آگ میں نہ پہنچتے (لوكان هؤ لاء لهة ما وردوها)۔
لیکن یہ جان لو کہ نہ صرف یہ کہ وہ جہنم میں پہنچیں گے بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہیں گے (وكل فيها خالدون)۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بت پرست ہمیشہ اپنے خداؤں کے ساتھ ہی رہیں گے۔ وہ خدا کہ جن کی وہ ہمیشہ پرستش کیا کرتے تھے اورانهیں مصیبتوں میں ڈھال سمجھتے تھے
اور اپنی مشکلات کا حل ان سے چاہتے تھے۔
ان " گمراه عبادت کرنے والوں" کی "ان کے قدر و قیمت معبودوں" کے ساتھ دردناک کیفیت کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے فرمایا گیا ہے ، وہ دوزخ میں درد نال نالہ و فریاد کریں
گے (لهم فيھا زفیر)۔
"زفير" اصل میں ایسی چیخ و پکار کرنے کے معنی میں ہے جس کے ساتھ سانس کی آواز بھی آرہی ہو۔ بعض نے کہاکہ خچر کی نفرت انگیز آواز کو ابتداء میں "زفير" اور آخر میں "
شھیق" کہتے ہیں۔ بہرحال یہاں ایسے نالہ و فریاد کی طرف اشارہ ہے کہ جو غم و اندوہ کی وجہ سے نکلے۔ ؎1
یہ احتمال بھی ہے کہ یہ غم انگیز نالہ و فریاد صرف ان عبادت کرنے والوں کے ساتھ ہی مربوط نہ ہو بلکہ شیاطین کہ جو ان کے معبود تھے وہ بھی اس میں ان کے شریک ہوں۔
بعد کا جملہ ان کی ایک اور دردناک سزا کو بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ : انہیں دوزخ میں کچھ سنائی نہیں دے گا: (وهو فيها لايسمعون)۔
یہ جملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات ہرگز نہیں منیں گے کہ جو ان کے لیے راحت کا باعث بنے۔ بلکہ وہ دوزخیوں کے جانکاہ نالے اور عذاب کے
فرشتوں کی جھڑکیاں ہی سنیں گے۔
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں آگ کے تابوتوں میں رکھا جائے گا ، اس طرح سے کہ وہ کسی کی آواز کو بالکل نہیں سنیں گے ۔ گویا وہ اکیلے ہی عذاب میں ہیں
اور یہ بات خود زیادہ عذاب کا سبب ہے کیونکہ اگر انسان کے ساتھ اور افراد بھی زندان میں ہوں تو یہ بات اس کے دل کی تسلی کا باعث ہوگی کیونکہ :
البلية اذا عمت طابت
بلا و مصیبت جب عام ہو تو وہ بھلی معلوم ہوتی ہے.
اگلی آیت سچے مومنیں اور صاحبان ایمان مردوں اور عورتوں کے حالات بیان کر رہی ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ سے دونوں کی کیفیت زیادہ واضح ہوجائے۔
ارشاد ہوتا ہے کہ : وہ لوگ کہ جن سے ہم نے ان کے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے پہلے سے اچھا وعدہ کر رکھا ہے ، وہ اس وحشتناک اورہولناک آگ سے دور رائیں گے (ان
الذين سبقت لهم منا الحسنٰى اولئك عنها مبعدون)۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد نعم میں سوره هود کی آیہ 106 کے ذیل میں رجوع کریں۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے اس بیان میں مومنین سے جتنے وعدے کیے ہیں، ہم انہیں پورا کریں گے ان میں ایک ان کا جہنم کی آگ سے دور رہنا ۔
اگرچہ اس جملے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ تمام سچے مومنین کے لیے ہوگا لیکن بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ حضرت عیسٰیؑ اور مریمؑ جیسے معبودوں کی طرف اشارہ
ہے کہ ایک گروہ جن کی عبادت ان کی خواہش اور مرضی کے بغیرکرتا تھا۔ اور چونکہ سابقہ آیات یہ کہتی تھیں کہ تم بھی اور تمہارے معبود بھی دوزخ میں داخل ہوں گے تو اس تعبیر سے ممکن تھا
کہ حضرت عیسٰیؑ جیسے افراد بھی شامل سمجھ لیے جاتے ، لہذا قران یہ جملہ فورًا ایک استثناء کے طور پر بیان کرتا ہے کہ ایسے لوگ ہرگز دوزخ میں نہیں جائیں گے۔
بعض مفسرین نے اس آیت کے بارے میں ایک شان نزول ذکر کی ہے کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض لوگوں نے یہی سوال - پیغمبراسلامؐ سے بھی کیا تھا لہذا یہ آیت ان
کے جواب میں نازل ہوئی ہے.
لیکن اس حالت میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے کہ زیر نظر آیت اس سوال کا جواب بھی ہو اور سب سچے مومنین کے بارے میں ایک عمومی حکم بھی ہے۔
آخری زیر بحث آیات میں خدا کی چار عظیم نعمتوں کا ذکر ہے کہ جو ان لوگوں کو میسر ہوں گی : پہلی یہ کہ وہ آگ کی آواز تک نہیں سنیں گے (لا يسمعون حسيسها)۔
"حسيس" جیسا کہ ارباب لغت نے کہا ہے ، محسوس آواز کے معنی میں ہے اور خود حرکت یا خود حرکت سے جو آواز پیدا ہو اس کے معنی میں بھی ہے . دوذخ کی آگ کک جو ہمیشہ
آتش گیروں میں پڑھتی ہی جاتی ہے، ایک مخصوص اواز رکھتی ہے. یہ آواز جہت سے وحشتناک ہے ، ایک تو اس لحاظ سے یہ آگ کی آواز ہے ، اور دوسرے اس لحاظ سے کہ یہ آگے بڑھنے کی آواز
ہے۔
سچے مومنین چونکہ جہنم سے دور رہیں گے لہذا یہ وحشتناک آوازیں ہرگز ان کے کانوں میں نہیں پڑیں گی ۔
دوسری یہ کہ "وہ جیسی نعمت میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں مستغرق رہیں گے )(وهم فيما اشتهت الفسهم خالدون)۔
یعنی وہاں پر اس جہان کی طرح کی محدودیت نہیں ہے۔ یہاں تو انسان بہت سی نعمتوں کی آرزو کرتا ہے لیکن ان تک نہیں پہنچ پاتا وہاں پر وہ جو بھی مادی و معنوی نعمت چاہے گا ،
اس کی دسترس میں ہوگی ۔ وہ بھی ایک دن یا دو دن نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
تیسری یہ کہ : عظیم وحشت انہیں مغموم نہیں کرے گی (لايحزنهم الفزع الأكبر)۔
" فزع اكبر" (عظیم اور بڑی وحشت) کو بعض نے روز قیامت کی وحشتوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ وہ ہر وحشت بڑی ہے اور بعض نے صور کا پھونکا جانا اور اس جہان
کے ختم ہونے کی زبردست کیفیت کی طرف اشارہ سمجھا ہے ، جیسا کہ سورہ نحل کی آیت 57 میں ہے:
لیکن چونکہ قیامت کے دن کی وحشت مسلمہ طور پر اس سے زیادہ اہم ہے، لہذا پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
آخر میں ان لوگوں کے لیے آخری نعمت کا ذکر ہے اور وہ ہے یہ کہ : رحمت کے فرشتے ان کا استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے، انہیں مبارکباد دیں گے اور یہ بشارت دیں گے
کہ یہ وہی دن ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تها : ( وتتلفهم الملكة لهذا يومكم الذي كنتم توعدون)۔
نہج البلاغہ میں ہے کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا :
فباد روا باعما لكم تكونوا مع جيران الله في داره ، رافق بهم
رسله ، و ازارهم وملائكته، وأكرم اسماعهم ان تسمع حيس
نارجهنم ابدًا۔
نیک اعمال کی طرف جلدی کرو ، تاکہ تم خدا کے گھر میں اس کے پڑوسی بنو. ایسے مقام پر کہ
جاں پیغمبروں کو ان کا رفیق قرار دیا ہے اور فرشتوں کو ان کی زیارت کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
خدا نے ان لوگوں کی اتنی عزت بڑھائی ہے کہ ان کے کان جہنم کی آگ کی آواز تک نہیں
نہیں سنیں گے۔ ؎1
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ 183-