زکریاؑ تنہا نہ رہے
وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ ۸۹فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ ۹۰
اور زکریا علیھ السّلام کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ دینا کہ تو تمام وارثوں سے بہتر وارث ہے. تو ہم نے ان کی دعا کو بھی قبول کرلیا اور انہیں یحیٰی علیھ السّلام جیسا فرزند عطا کردیا اور ان کی زوجہ کو صالحہ بنادیا کہ یہ تمام وہ تھے جو نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے تھے اور رغبت اور خوف کے ہر عالم میں ہم ہی کو پکارنے والے تھے اور ہماری بارگاہ میں گڑ گڑا کر الِتجا کرنے والے بندے تھے.
تفسیر
زکریاؑ تنہا نہ رہے:
یہ دونوں آیتیں خدا کے دو اور بزرگ پیغمبروں حضرت زکریا اور حضرت یحیٰی کی زندگی کا ایک گوشہ بیان کر رہی ہیں۔
پہلے فرمایا گیا ہے : زکریا کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا : پروردگارا ! مجھے اکیلا چھوڑ اور توسب وارثوں سے بہتر ہے ، (وزكريا اذ
نادى ربه رب لاتذرني فودًا وانت خير الوارثین)۔
زکریا کی عمر کے سالہا سال گزر گئے وہ بہت بوڑھے ہو گئے لیکن ابھی تک ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اور دوسری طرف ان کی بیوی بانجھ تھی اور اب بچہ
جننے کے قابل نہ تھی۔
انہیں ایک ایسے بیٹے کی تمنا تھی کہ جو ان کے خدائی پروگراموں کو چلائے تاکہ ان کے تبلیغی کام ادھورے نہ رہ جائیں اوران کے بعد موقع کی تاڑ میں رہنے والے
بنی اسرائیل ان کے عبادت خانہ اوراس کے اموال و ہدایا پر قابض نہ ہوجائیں ـــــ کیونکہ انہیں راہ خدا میں صرف بونا چاہیئے -
ایسے وقت میں آپؑ نے خلوص دل کے ساتھ ، بارگاہ خداوندی کی طرف رجوع کیا اور ایک صالح بیٹے کے لیے دعا کی آپ نے انتہائى ادب کے ساتھ خدا کو پکارا ۔ آپ
نے لفظ " رب سے دعا شروع کی ۔ وہی ادب کہ جس کا لطف و کرم زندگی کے اولین لمحے سے انسان کے ساتھ ہوتا ہے . اس کے بعد "لاتذرنی" کی تعبیر آئی ہے ۔ یہ لفظ "وذر" (بروزن"
مرز") کے مادہ سے ، کسی چیز کو معمولی اورکم سمجھ کر بے اعتنائی کی وجہ سے چھوڑنے اور ترک کرنے کے معنی میں آتا ہے اس لفظ سے نفرت زکریا نے اس حقیقت کا اظہار کیا
کہ اگر میں تہنا رہ گیا تو فراموش ہو جاؤں گا۔ نہ صرف نہیں بلکہ میرے پروگرام بھی بھلا دیئے جائیں گے اور آخر میں "وانت خيرالوارثین" کے جملہ سے اس حقیقت کو بیان کیا کہ میں
جانتا ہوں کہ یہ دنیا دار بقا نہیں ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو بہترین وارث ہے لیکن عالم اسباب کے لحاظ سے کسی سبب کی تلاش میں ہوں کہ جو میرے ھدف اور مقصد کی طرف
رہنمائی کرے۔
خدا نے حقیقت عشق سرشار اور پرخلوص یہ دعا قبول کرلی اور ان کی خواہش پوری کردی ۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے : ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اسے یحیٰی سا
بیٹا عطا فرمایا: (فاستجبناله ووهبناله یحیٰی)۔
اور اس مقصود تک پہنچنے کے لیے اس کی بانجھ بیوی کو درست کردیا اور اس میں بچے کی پیدائش کی صلاحیت پیدا کردی : (واصلحناله زوجه)۔
اس کے بعد اس گھرانے کی تین عمدہ صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ نیک کاموں کی انجام دہی میں جلدی کرتے تھے (انھم كانوا يسارعون في
الخيرات)۔
وہ اطاعت سے عشق اور گناہوں سے وحشت کے ساتھ ہر حالت میں ہمیں پکارتے تھے (ویدعونتارغيا ورھبا)۔؎1
وہ ہمیشہ ہمارے سامنے (ادب و احترام اور احساس مسئولیت کے ساتھ) گڑ گڑایا کرتے تھے، ( وكانوالاخاشعين)۔
ان تینوں صفات کا ذکر ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ انہیں وقت کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ کم ظرف اورضعيف الايمان لوگوں کی طرح ــــــ غفلتوں اور
غرور میں گرفتار نہیں ہو جاتے تھے۔ وہ کسی حالت میں بھی ضرورت مندوں کو فراموش نہیں کرتے اور اچھے کاموں کے کرنے میں جلدی کرتے تھے . وہ حالت نیاز میں بھی اور بے
نیازی میں فقیری میں بھی اور غنا میں بھی ، بیماری میں بھی اور صحت میں بھی ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہتے تھے ۔ مختصریہ ہے کہ وہ نعمتوں کے اپنی طرف رخ کرنے کی وجہ
سے کبر و غرور میں گرفتار نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ ہمیشہ خاشع و خاضع رہتے تھے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "رغبا" "رغبت" میلان اور لگاؤ کے معنی میں ہے اور "رهبا" خوف نفرت اور بیزری کے معنی میں ہے اور یہ بات کہ یہ اعراب کے لحاظ سے ان کا محل استعمال کیاہے ۔ قو
متعدد احتمالات ہیں ۔ لیکن ہے حال ہو ، یا مفعول مطلق ہو یا ظریف کا معنی رکھتا ہو" في حال الرغبة و في حال الرهبة" اگرچہ نتیجہ ان پانچواں احتمالات کا مختلف ہے لیکن یہ فرق آیت سے
مفهوم کے جزئیات میں ہے، اس کی اساس اور نتیجہ میں نہیں ہے۔