1- یونسؑ کی سرگزشت
وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ۸۷فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ ۸۸
اور یونس علیھ السّلامکو یاد کرو کہ جب وہ غصّہ میں آکر چلے اور یہ خیال کیا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پھر تاریکیوں میں جاکر آواز دی کہ پروردگار تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا. تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انہیں غم سے نجات دلادی کہ ہم اسی طرح صاحبان هایمان کو نجات دلاتے رہتے ہیں.
چند اہم نکات
1- یونسؑ کی سرگزشت :
انشااللہ تفصیل کے ساتھ حضرت یونسؑ کی سرگزشت سورة صافات میں آۓ گی لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے۔
وہ سالہا سال تک اپنی قوم کے درمیان (عراق کی سرزمین نینوا میں) دعوت و تبلیغ میں مشغول رہے۔ لیکن انہوں نے جتنی کوشش کی ، ان کے ارشادات اور ہدایت کا ان کے دلوں پر
کوئی اثر نہ ہوا ۔ تو آپ نے ان سے خفا ہو کر اس جگہ کو چھوڑ دیا اور دریا کی طرف چلے گئے . وہاں کشتی پر سوار ہوگئے۔ راستے میں دریا میں طوفان آگیا اور سب اہل کشتی کے غرق ہونے میں
کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔
کشتی کے ملاح نے کہا ، میرا خیال یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھاگا ہوا غلام موجود ہے کہ جسے دریا میں پھینک دینا چاہیئے ۔ (یا اس نے یہ کہا کہ کشتی زیادہ بوجھل ہے لہذا ہم
ایک شخص کو قرعہ کے ذریعے دریا میں پھینک دیں بہرحال انہوں نے چند بار قرعہ ڈالا اور ہر دفعہ حضرت یونسؑ کا نام نکلا - یونسؑ سمجھ گئے کہ اس کام میں کوئی راز پوشیدہ ہے اور خود کو
حوادث کے سپرد کر دیا۔
جس وقت انہیں دریا میں پایا گیا تو ایک مگرمچھ نے نگل لیا لیکن خدا نے انہیں معجزانہ طور پر زندہ رکھا۔
آخرکار وہ متوجہ ہوئے کہ ان سے ترک اولٰی ہوگیا ہے۔ لہذا بارگاہ خدا کا رخ کیا اور اپنی تقصیر اور کوتاہی کا اعتراف کیا۔ خدا نے بھی ان کی دعا کو قبول کرلیا اور اس تنگ و تاریک
جگہ سے انہیں نجات دی۔ ؎1
ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ سائنسی لحاظ سے ممکن نہیں ہے لیکن بلا شک وشبہ یہ ایک خلاف معمول واقعہ ہے نہ کہ
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر فخررازی ، مجمع البیان اور نورالثقلین زیر بحث آیہ کے ذیل میں ۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ایک محال عقلی - جیسا کہ مردوں کا زندہ ہو جانا کہ جو نہ صرف خلاف معمول ہے لیکن محال نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں عام اور مروجہ طریقے سے اس کا انجام پانا ممکن نہیں ہے لیکن پروردگار
کی بے پایاں اور لامحدود قدرت کی مدد سے کوئی مشکل نہیں رہتی۔
اس کی مزید تفصیل انشااللہ آپ سوره صافات کی تفسیر میں پڑھیں گے۔