فرشتے مکرم اور فرمانبردار بندے ہیں
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ ۲۶لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ ۲۷يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ ۲۸وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ ۲۹
اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنالیا ہے حالانکہ وہ اس امر سے پاک و پاکیزہ ہے بلکہ وہ سب اس کے محترم بندے ہیں. جو کسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں. وہ ان کے سامنے اور ان کے پس پشت کی تمام باتوں کو جانتا ہے اور فرشتے کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے اور وہ اس کے خوف سے برابر لرزتے رہتے ہیں. اور اگر ان میں سے بھی کوئی یہ کہہ دے کہ خدا کے علاوہ میں بھی خدا ہوں تو ہم اس کو بھی جہنّم کی سزا دیں گے کہ ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں.
تفسیر
فرشتے مکرم اور فرمانبردار بندے ہیں :
چونکہ گزشتہ بحث کی آخری آیت میں پیغمبروں اور ہر قسم شرک کی نفی (اور ضمنًا عیسٰے خدا کا بیٹا ہونے کی نفی) کے بارے میں گفتگوتھی ، زیر بحث آیات سب کی
سب فرشتوں کے خدا کی اولاد ہونے کی نفی کے بارے میں ہیں۔
اس کی وضاحت یہ کہ بہت سے مشرکین عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے خدا کی اولاد میں اور اسی بنا پر بھی ان کی پرستش کرتے تھے۔ قران مندرجہ بالا آیات
میں صراحت کے ساتھ اس بے ہودہ اور بے بنیاد عقیدے کی مذمت کرتا ہے اور مختلف دلائل کے ساتھ اس کا بطلان ظاہر کرتا ہے۔
پہلے کہتا ہے: انہوں نے کہا کہ خدائے رحمٰن کی اولاد ہے. ( وقالوا اتخذ الرحمن ولدًا)۔
اگر ان کی مراد حقیقی بیٹا ہو تو کے لیے جسم لازم ہے اور اگر یہ متبنٰی (منہ بولا بیٹا) ہوکہ جو عربوں میں معمول تھا ، تو وہ بھی ضعف و احتیاج کی دلیل ہے اور ان سب باتوں سے قطع
نظر اصولی طور پر بیٹے کی احتیاج اور ضرورت اسے ہوتی ہے جو فنا ہونے والا ہو ، تو اس کی نسل جائیداد ا ور آثار کی بقا کے لیے اس کا بیٹا بہت دراز تکا اس کی زندگی کو دوام ،
یار اسے پینے کی ضرورت اس لیے ہوا ہے تاکہ اسے تالی کا احساس نہ ہو اور وہ اس کا مونس تنهائی بنے یا اپنی طاقت میں اضافے کے لیے کی ایک سانترین یعنی موجود تیار نہ رکھتا ہو
اور ہر لحاظ سے بے نیاز ہو اس کے بارے
میں بیٹا یا اولاد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔
لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے : وہ اس عیب ونقص سے پاک اور منزہ ہے (سبحانة).
اس کے بعد فرشتوں کی صفات چھ شقوں میں بیان کی گئی ہیں ۔ یہ مجموعی طور پر اس بات سے ایک روشن دلیل ہیں کہ وہ خدا کی اولاد تهیں ہیں
1- وہ بندگان خدا ہیں (بل عباد)۔
2- وہ مکرم و محترم بندے ہیں (مکرمون)۔
وہ بھاگ جانے والے غلاموں کی طرح نہیں ہیں کہ جو اپنے آقا کی سختی اور دباوتلے رہ کر خدمت کرتے ہیں بلکہ وہ ایسے بندے ہیں کہ جو ہر لحاظ سے مکرم ہیں اور
جو راه عبودیت کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اسی پر فخر کرتے ہیں ۔ خدا نے بھی عبودیت میں ان کے خلوص کی وجہ سے انہیں کرم و محترم قراردیا ہے۔ اور انہیں اپنی بہت سی
نعمت عطا کی ہیں۔
3- وہ اس قدر مودب اور خدا کےفرمانبردار ہیں کہ "کبھی بات کرنے میں اس پر سبقت نہیں کرتے" (لايسبقونه بالقول )۔
4- اور عمل کے لحاظ سے بھی "وہ صرف اسی کے فرمان پر عمل کرتے ہیں" ( وهو بامره يعملون)۔
کیا یہ صفات ، اولاد کی ہوسکتی ہیں یا بندوں کی ؟
اس کے بعد ان کے بارے میں خدا کے احاطه علمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
خدا ان کے آج اور آئیندہ کے اعمال کو بھی جانتے اور گزشتہ کو ہی ان کی دنیا سے بھی آگاہ ہے اور ان کی آخرت سے بھی ۔ ان کے وجود سے پہلے بھی اور اس کے
وجود کے بعد بهی : (یلعم مابين ايديهم وما خلفهم)۔ ؎1
مسلمہ طور پر فرشتے اس امر سے آگاہ ہیں کہ خدا ان کے بارے میں یہ سب کچھ جانتا ہے اور یہی عرفان اس بات کا سبب بناہے کہ وہ نا تو اس سے پہلے کوئی بات
کہتے ہیں اور نہ ہی اس کے فرمان سے سرتابی کرتے ہیں اور اس طرح سے یہ جملہ ہوسکتا ہے کہ ساتھ آیت کے لیے تعلیل کا نام رکھتا ہو۔
5- اس میں شک نہیں کہ وہ جو کہ خدا کے کرم و محترم بندے ہیں، حاجت مندوں کے لیے شفاعت کریں گئے لیکن اس بات پر توجہ یہ ہے کہ وہ ہرگز کسی ایسے
کی شفاعت نہیں کریں گے جس کے بارے میں یہ نہ جان لیں کہ خدا اس سے راضی ہے اور اس نے اس کی شفاعت کی اجازت دے دی (ولا يشفعون الالمن ارتضٰی)۔
یقینًا خدا کا راضی ہونا اور اس کا شفاعت کی اجازت دے دینا بلاوجہ نہیں ہوسکتا ۔ حتمًا یہ اس سچے ایمان اوررعمل صالح کی وجہ سے ہے جس کے باعث انسان خدا
کے ساتھ تعلق قائم رہاہے۔ باالفاظ دیگرممکن ہے انسان گناہ سے آلودہ ہوجائے لیکن اگروہ اپنا رابطہ خدا اور اولیا - خدا سے بالکل منقطع نہ کرلے تو اس کے بارے میں شفاعت کی امید ہے۔
لیکن اگر فکر اور عقیدے کے بیان سے اس کا تعلق بالکل ٹوٹ جانے کا عملی طور پر اس قدر آلودہ ہو کہ شفاعت کی اولیت کھو بیٹھا ہو تو اس موقع پر کوئی پیغمبر مرسل
یا مقرب فرشتہ اس کی شناخت نہیں کرے گا۔
یہ وہی مطلب ہے کہ جسے ہم فلسفۂ شفاعت کی بحث کے ضمن میں بیان کرچکے ہیں کہ شفاعت ایکس انسان ساز مکتب ماده گناہوں میں آلودہ لوگوں کو واپسی مسیح
راستے پر لانے کا ایک وسیلہ ہے نیز شفاعت کا عقیده یاس و ناامیدی سے بچاتا ہے کیونکہ امیدی نجات اور گناہ میں غرق ہونے کا ایک عامل ہے۔ اس قسم کی شفاعت پر ایمان رکھنا اس بات
کا سبب بنتے کہ گنہگار لوگ اپنا رابطہ ترا ، انبیاء اور منہ سے نقلع زکریں، اس نے لوٹنے کے تمام راستوں کو وریران نہ کریں ۔)۔ 2
ضمنن طور پر یہ جملہ ان لوگوں کا جواب ہے کہ جو یہ کہتے تھے کہ ہم فرشتوں کی اس لیے عبادت کرتے ہیں تاکہ وہ بارگاہ خداوندی میں ہماری شفاعت کریں ۔ قرآن
کہتا ہے ، وہ اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کرسکتے لہذا جو کچھ چاہتے ہو وہ براہ راست خداسے چاہو ، یہاں تک کہ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی اجازت بھی۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بزرگ مفسرین نے اس جملے کی تفسیر میں تین باتیں کی ہیں، ہم نے مذکورہ بالا عبارت میں ان تینوں کو جمع کردیا ہے. چونکہ یہ ایکدوسرے کے منافی نہیں ہیں
؎2 هم شفاعت کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیت 48 اور 254 کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں، وہتں رجوع فرمائیں۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
6- اسی معرفت اور آگاہی کے سبب سے وہ صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور صرف اسی کے خوف کو اپنے دل میں راہ دیتے ہیں" (وھم خشيته مشفقون)۔
وہ اس لیے نہیں ڈرتے کہ انے کوئی گناہ کیا ہے بلکہ وہ عبادت میں کوتاہی کا ترک اولٰی سے ڈرتے رہتے ہیں۔
یہ بات قابل توجہ نے کہ "خشيت " اصل لغت کے لحاظ سے ہر قسم کے خوف کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایساخوف ہوتا ہے کہ جوتعظیم واحترام کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
"مشفق" مادہ "اشفاق" سے ، اس توجہ کے معنی میں ہے کہ جو خوف کی آمیزش رکھتی ہو ( چونکہ اصل میں یہ "شفق" کے مادہ سے لیا گیا ہے کہ جو ایسی روشنی ہے کہ جو تاریکی کے
ساتھ ملی بوئی ہو)۔
اس بنا پر ان کا خدا سے خوف ایسا نہیں ہے جیسا کہ کسی انسان کو ایک وحشتناک حادثہ کا خوف ہوتاہے اوراسی طرح ان کا " اشفاق" ایسے بھی نہیں جیسے کہ انسان
کسی خطرناک چیز سے ڈرتا ہے بلکہ ان کا خوف و اشفاق احترام ، عنایت ، توجہ ، معرفت اوراحساس مسئولیت کی آمیزش کے ساتھ ہوتا ہے۔ )۔ ؎1
یہ بات واضح ہے کہ فرشتے ان عمدہ اور امتیازی صفات اور خاص مقام عبودیت کے باوجود ہرگز خدائی کا دعوئی نہیں کرتے۔ لیکن اگر یہ فرض کرلیں کہ ان میں سے
کوئی یہ کہنے لگے کہ خدا نہیں ، میں معبود ہوں ، تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ، ہاں ! ظلالموں کہ ہم اس طرح سے سزا دیا کرتے ہیں (و من يقل مستهم انی اله من دونه فذلك نجزیه جھنم
، كذلك نجزي الأظلمین)۔
درحقیقت الوہیت کا دعوٰی کرنا، اپنے اوپر بھی اور معاشرے کے اوپر بھی ظلم کرنے کا ایک واضح مصدلق ہے اور اورقانون کلی میں "كذالك نجزي الظالمين" درج ہے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
له مفردات راغب مادہ "خشيت" ، "شفق" اور تفسیرالمانی آیات زیر بحث کے ذیل میں۔