شرک خیال آرائی سے شروع ہوتا ہے
وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِنْدَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ۱۹يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ ۲۰أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنْشِرُونَ ۲۱لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ۲۲لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ۲۳أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً ۖ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ ۖ هَٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي ۗ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ ۖ فَهُمْ مُعْرِضُونَ ۲۴وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ۲۵
اور اسی خدا کے لئے زمین و آسمان کی کل کائنات ہے اور جو افراد اس کی بارگاہ میں ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے اکڑ کر انکار کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں. دن رات اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور سستی کا بھی شکار نہیں ہوتے ہیں. کیا ان لوگوں نے زمین میں ایسے خدا بنا لئے ہیں جو ان کو زندہ کرنے والے ہیں. یاد رکھو اگر زمین و آسمان میں اللہ کے علاوہ اور خدا بھی ہوتے تو زمین و آسمان دونوں برباد ہوجاتے عرش کا مالک پروردگار ان کے بیانات سے بالکل پاک و پاکیزہ ہے. اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ ہر ایک کا حساب لینے والا ہے. کیا ان لوگوں نے اس کے علاوہ اور خدا بنالئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ذرا اپنی دلیل تو لاؤ-یہ میرے ساتھ والوں کا ذکر اور مجھ سے پہلے والوں کا ذکر سب موجود ہے لیکن ان کی اکثریت حق سے ناواقف ہے اور اسی لئے کنارہ کشی کررہی ہے. اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے لہذا سب لوگ میری ہی عبادت کرو.
تفسیر
شرک خیال آرائی سے شروع ہوتا ہے :
گزشتہ آیات میں اس حقیقت کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی کہ عالم بھی بغیر هدف و مقصد کے نہیں ہے ، نہ مذاق اور کھیل تماشہ ہے اور نہ ہی لہو و لعب. بلکہ یہ انسانوں کے لیے
ایسا جچا تلا ھدف کمال رکھتا ہے۔
ممکن ہے یہ توہم پیدا ہوکہ خدا کو ہمارے ایمان اور عبادت کی کیا ضرورت ہے لہذا زیر بحث آیات پہلے اسی بات کا جواب دیتی ہیں اور کہتی ہیں : تمام (ذوی العقول) جو آسمانوں اور
زمین میں ہیں ، اسی کی ملکیت میں : ( وله من في السماوات والارض)۔
اور وہ فرشتے کہ جو مقریان بارگاه الٰہی میں کبھی بھی اس کی عبادت پر تکبر نہیں کرتے اور نہ کبھی تھکتے ہیں: ( ومن عندہ لا يستكبرون عن عبادته ولا يتحسرون)۔ ؎1
وہ ہمیشہ رات دن تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور معمولی کمزوری اور کاہلی بھی وہ اپنے پاس نہیں آنے دیتے۔ (يسبحون الليل والنهار لايفترون)۔
ان حالات میں اسے تمہاری اطاعت و عبادت کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب عظیم فرشتے شب و روز اس کی تسبیح میں لگے ہوتے ہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا بھی محتاج نہیں ہے.
لہذا اگر اس نے تمہیں ایمان عمل صالح ، بندگی اور عبودیت کا حکم دیا ہے تو اس کا فائدہ تمھارے ہی لیے ہے۔
یہ نکتہ بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ظاہری غلامی کے نظام میں غلام جتنا آقا سے نزدیک ہوگا ، اتنا ہی اس کا خضوع کم ہوتا چلا جائے گا کیونکہ وہ اب آقا کا خاص ہوگیاہے
اور اسے اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
لیکن"خلق" اور "خالق" کے نظام عبودیت میں معاملہ برعکس ہے ۔ فرشتے اور اولیاء خدا جتنا خدا سے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں ان کا مقام عبودیت بڑھتا جاتا ہے۔ ؎2
جب گزشتہ آیات میں عالم ہستی کے فضول اور بے مقصد ہونے کی نفی ہوچکی اور یہ ثابت ہوگیا کہ یہ عالم ایک مقدس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، تو اس کے بعد زیر بحث آیات میں
اس جہان کے مدبر و مدیر اور وعدت معبود کا مسئلہ شروع کرتے ہوئے فرمایاگیاہے: کیا انہوں نے زمین پر کچھ خدا بنالیے ہیں، ایسے خدا کہ جو موجودات کو تخلیق و حیات عطا کریں ۔ اور جہان
ہستی میں انہیں پھیلا سکیں: (ام اتخذوا ألهة من الارض هم ينشرون)۔ ؎3
یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ معبود وہی ہونا چاہیے کہ جو خالق ہو ۔ خاص طور پر حیات کا خالق کیونکہ حیات خلقت کے روشن ترین چہروں میں سے ہے۔ یہ حقیقت
میں اسی چیز کے مشابہ ہے کہ جو سوره حج کی آیہ 73 میں بیان ہوئی ہے
ان الذين تدعون من دون الله لن يخلقوا ذبابًا ولواجتمعوا له "
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "ليتحسرون" "حسر" کے مادہ سے اصل میں پوشیدہ چیز کو کھولنے اور جس میں وہ تھی اسے الگ کر دینے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ بعدازاں خستگی ، تکان اور ضعیف کے معنی میں بولا
جانے لگا. گویا اس حالت میں انسان کی سب قوتیں آشکار اور خرچ ہوجاتی ہیں اور ان میں سے کوئی چیز اس کے بدن میں چھپی ہوئی نہیں رہتی۔
؎2 الميزان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں۔
3- "ينشرون" ماده "نشر" کے پیچده چیزوں کو پھیلانے کے معنی میں ہے اور زمین و آسمان کی وسعتوں میں مخلوقات کو پیدا کرنے اور پھیلانےکے لیے بھی کنایہ کے طور پر بولا جاتا ہے .
بعض مفسرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ یہ لفظ "معاد" اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونے کی طرف اشاره هے. حالانکہ بعد والی آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ امر واضح ہوجاتے
ہے گفتگو خدا کی پاک ذات کی توحید اور معبود حقیقی کے بارے میں ہے ، نہ کہ معاد اور موت کے بعد کی زندگی کے متعلق۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وہ تمام معبود کہ جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تو اتنی بھی قدرت نہیں رکھتے کہ ایک مکھی
ہی خلق کرسکیں ، چاہے وہ سب کے سب اسی کے لیے اکٹھے ہی کیوں نہ ہوجائیں ، اس
حال میں وہ کیسے لائق عبادت ہوسکتے ہیں۔
" ألهة من الارض" (زمین میں سے کچھ خدا) کی تعبیر بتوں اور ان معبودوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہیں لوگ پتھر لکڑی وغیره سے بناتے تھے اور انہیں آسمانوں پر جا کر خیال
کرتے تھے۔
بعد والی آیت مشرکین کے بہت سے معبودوں اور خداؤں کی نفی کے لیے ایک نہایت روشن دلیل کو اس طرح سے بیان کرتی ہے:
اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور بھی کوئی معبود اور خدا ہوتا ، تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔ اور نظام جہاں درہم برہم ہوجاتا (لوكان فيهما ألهة الا الله لفسدتا)۔
عرش کا پروردگار خدا اس توصیف سے کہ جو وہ کرتے ہیں منزہ اور پاک ہے" (فسبحان الله رب العرش عما يصفون)۔
یہ ناروا نسبتیں اور یہ بناوٹي خدا اور خیالی معبود اوهام و خیالات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے اور اس کی پاک ذات کی کہ کبریائی کا دامن ان ناروا نسبتوں سے آلودہ نہیں ہوسکتا۔