Tafseer e Namoona

Topic

											

									  جب بدکاروں کو کوئی راہ سجھائی نہ دے گی

										
																									
								

Ayat No : 84-89

: النحل

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ۸۴وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ ۸۵وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ أَشْرَكُوا شُرَكَاءَهُمْ قَالُوا رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ شُرَكَاؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُو مِنْ دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ ۸۶وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ۸۷الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ ۸۸وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ۸۹

Translation

اور قیامت کے دن ہم ہر امّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اس کے بعد کافروں کو کسی طرح کی اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان کا عذر ہی سناُ جائے گا. اور جب ظالمین عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر اس میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور نہ انہیں کسی قسم کی مہلت دی جائے گی. اور جب مشرکین اپنے شرکائ کو دیکھیں گے تو کہیں گے پروردگار یہی ہمارے شرکائ تھے جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے پھر وہ شرکائ اس بات کو ان ہی کی طرف پھینک دیں گے کہ تم لوگ بالکل جھوٹے ہو. اور پھر اس دن اللہ کی بارگاہ میں اطاعت کی پیشکش کریں گے اور جن باتوں کا افتراکیا کرتے تھے وہ سب غائب اور بے کار ہوجائیں گی. جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور راہ خدا میں رکاوٹ پیدا کی ہم نے ان کے عذاب میں مزید اضافہ کردیا کہ یہ لوگ فساد برپا کیا کرتے تھے. اور قیامت کے دن ہم ہر گروہ کے خلاف ان ہی میں کا ایک گواہ اٹھائیں گے اور پیغمبر آپ کو ان سب کا گواہ بناکر لے آئیں گے اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب اطاعت گزاروں کے لئے ہدایت ,رحمت اور بشارت ہے.

Tafseer

									تفسیر:
جب بدکاروں کو کوئی راہ سجھائی نہ دے گی:
 گزشتہ آیات میں اللہ کی گو نا گوں نعمتوں پر منکرین ِ حق کے غلط رد ِ عمل کا ذکر تھا ان آیات میں ان منکرین ِ حق کی دوسرے جہاں میں بعض درد ناک سزاؤں کا تذکرہ ہے کہ جو ان کا برا اور منحوس انجام ہے ان سزاؤں کا تذکرہ اس لیے ہے تا کہ وہ جملہ اپنے طرز ِ عمل پر تجدید ِ نظر کریں۔
پہلے فرمایا گیا ہے: اس دن کا سوچو جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ پیش کریں گے (ویوم نبعث من کل امۃ شھیداً)1؎
 یہ عبارت پڑھتے ہی فوراً سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے لامتناہی علم کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے گواہ کی ضرورت رہ جاتی ہے۔
 ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ ایسے امور عام طور پر نفسیاتی پہلو سے ہوتے ہیں یعنی جتنا انسان کو احساس ہوگا کہ اس کی طرف دیکھنے والے اور گواہ زیادہ ہیں اتنا ہی اپنے کام کو بہتر حساب کتاب سے انجام دے گا یا کم از کم زیادہ وہ افراد کے سامنے رسوائی سے ہی پریشان ہوگا۔
 اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس عدالت میں کفار کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔۔ (ثمہ لا یؤذن للذین کفروا)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "یوم" یہاں ظرف ہے۔ یہ ایک فعل مقدر سے متعلق ہے جس کی تقدیر یوں تھی:- "ولیذکروا"    یا     " واذکروا"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا ممکن ہے کہ اللہ مجرم کو دفاع کی اجات نہ دے؟
جی ہاں ! وہاں زبان سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاتھ، پاؤں، کان، آنکھ بلکہ وہ زمین بھی جس پر انسان نے نیکی یا بدی کی ہوگی گوائی دے گی اس لیے زبان کی باری نہیں آئے گی۔
اس درحقیقت کا ذکر قرآن ِ حکیم کی دوسری آیات میں بھی ہے:- مثلاً یٰس 65 اور مرسلات 36۔
نہ صرف انھیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ اس وقت وہ تلافی اصلاح اور تقاضائے عفو بھی نہ کر سکیں گے (ولاھم یستعتیون) 1؎۔ کیونکہ وہ رد عمل کا موقع ہوگا نہ کہ عمل، تلافی اور اصلاح کا۔ جیسے کوئی پھل شاخ سے گر جائے تو اس کی نشوونما کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے۔
 اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ ستم پیشہ ظالم جب حساب کتاب کے مرحلے سے گذر کر عذاب ِ الٰہی کا سامنا کریں گے تو کبھی تخفیف کا اور کبھی مہلت کا تقاضا کریں گے لیکن جب ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو ان کے عذاب میں کمی ہوگی نہ انھیں کئی مہلت دی جائے گی۔ (وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمْ وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ)۔
 یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ ان دو آیتوں میں مجرموں کے چار مرحلوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس دنیا میں بھی یہ مرحلے ہم اپنی آنکھ سےدیکھتے ہیں:
پہلہ مرحلہ: یہ کہ مجرم کوشش کرے گا کہ مکر و حیلہ سے اپنے آپ کو بچالے۔
دوسرا مرحلہ: پہلے مرحلے میں بات نہ بنے تو وہ دوسرے مرحلے میں کوشش کرے گا کہ مدّ ِ مقابل کو مہر و محبت کی طرف مائل کرے اس کی سرزنش کو برداشت کرے اور اس کی رضا حاصل کرے۔
تیسرا مرحلہ: دوسرا مرحلہ بھی کامیاب نہ ہوا تو تیسرے مرحلے میں سزا میں کمی کا تقاضا کرے گا اور کہے گا کہ عذاب دے مگر کم۔
چوتھا مرحلہ: اگر اس کا جرم زیادہ ہونے کی وجہ سے تیسرے مرحلے پر بھی بات نہ بنی تو تقاضا کرے گا کہ مجھے کچھ مہلت دے دے اور سزا سے نجات کی یہ آکری کوشش ہوگی۔
لیکن قرآن کہتا ہے کہ ان ظالموں کے اعمال اتنے قبیح اور برے ہیں اور ان کے گناہوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہوگا کہ نہ انھیں دفاع کی اجازت ملے گی نہ وہ رضا حاصل کرسکیں گے نہ انھیں  تخفیف ملے گی اور نہ مہلت۔
اگلی آیت میں مشرکین کے برے انجام کے بارے میں ایسی ہی گفتگو کی گئی ہے ان کا یہ انجام بتوں کی پرستش کے باعث ہوگا ارشاد ہوتا ہے کہ میدان ِ قیامت میں خود ساختہ معبود اور انسان کہ جن کی بتوں کی طرح پرستش کی جاتی تھی، پوجا کرنے والے کے ساتھ ہوں گے جس وقت یہ عبادت کرنے والے اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے پروردگار ! یہ ہمارے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1؎ "یستعتبون" استعتاب کے مادہ سے ہے کہ جو عتاب سے لیا گیا ہے کہ جس کا معنی ہے دوسرے سے گفتگو میں سختی کا اظہار۔ لہذا "استعتاب" کا مفہوم یہ ہے کہ گنہگار شخص صاحب حق سے عتاب طلب کرے یعنی اپنے تئیں اس کی سرزتش کے سامنے پیش کرے تا کہ صاحب ِ حق کا غصہ ختم ہو جائے اور وہ راضی ہو جائے یہ ہی وجہ ہے کہ بعض "استعتاب" کا معنی "استرضاء" (کسی کی رضا طلب کرنا) لیتے ہیں حالانکہ اس کا مفہوم یہ نہیں بلکہ اس کے مفہوم کا لازمہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وہ ہی شریک ہیں جنھیں ہم تیری بجائے پکارتے تھے۔  (وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَـآءَهُـمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَآءِ شُرَكَـآؤُنَا الَّـذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ)۔
ان معبودوں نے بھی اس کام میں ہمیں وسوسے میں ڈالا اور در حقیقت ہمارے شریک جرم ہیں لہذا ہمارے عذاب کا کچھ حصہ ان کے لیے قرار دے۔ اس وقت حکم خدا سے "بت پول اٹھیں گے اور اپنی عبادت کرنے والوں سے کہیں گے یقیناً تم جھوٹے ہو (فَاَلْقَوْا اِلَيْـهِـمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكَاذِبُوْنَ)۔ نہ ہم خدا کے شریک تھے اور نہ ہم نے تمھیں وسوسے میں ڈالا اور نہ تمھارے عذاب کا کوئی حصہ ہمیں پہنچے گا۔