۲۔ ہموار اور مطیع راستے
وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ۶۸ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۶۹
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے. اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نرمی کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے جس کے بعد اس کے شکم سے مختلف قسم کے مشروب برآمد ہوں گے جس میں پورے عالم انسانیت کے لئے شفا کا سامان ہے اور اس میں بھی فکر کرنے والی قوم کے لئے ایک نشانی ہے.
۲۔ ہموار اور مطیع راستے : مکھیوں کا علم رکھنے والے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صبح کے وقت شہد کی مکھیوں کا ایک غول جو پھولوں کی پہچان پر مامور ہوتا ہے چھتے سے نکلتا ہے اور پھولوں سے بھری جگہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے لوٹ آتا ہے اور دوسروں کو اطلاع فراہم کرتا ہے اس طرح سے ان کی سمت اور پروگرام کا تعین ہوتا ہے اور چھتے سے ان کا فاصلہ بھی دوسروں پر واضح ہو جاتا ہے ۔ شہد کی مکھیاں پھولوں کی جگہ تک پہنچنے کے لئے بعض اوقات اپنے راستے میں نشانیاں اور علامتیں مقرر کرتی ہیں وہ اپنے راستے میں مختلف قسم کی مہک پھیلا کر یا کسی اور طرح سے راستے کو معین کرتی ہیں اس کے باعث بہت کم امکان ہوتا ہے کہ کوئی مکھی راستے سے بھٹک جائے ۔
”فاسلکی سبل ربک ذللا“ ( اپنے رب کے راستوں پر چل پھر کہ جوتیرے لئے مطیع اور ہموار کئے گئے ہیں ) ۔
یہ جملہ گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔