Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ شہد کس چیز سے بنتا ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 68-69

: النحل

وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ۶۸ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۶۹

Translation

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے. اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نرمی کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے جس کے بعد اس کے شکم سے مختلف قسم کے مشروب برآمد ہوں گے جس میں پورے عالم انسانیت کے لئے شفا کا سامان ہے اور اس میں بھی فکر کرنے والی قوم کے لئے ایک نشانی ہے.

Tafseer

									اس آیت میں بھی چند پر معنی اور قابل توجہ نکات ہیں ۔ 
چند قابل توجہ نکات :
۱۔ شہد کس چیز سے بنتا ہے ؟ شہد کی مکھیاں عموماً شکر کا خاص مادہ جو پھولوں کی جڑوں اور ابتدائی حصوں میں ہوتا ہے اسے چوستی ہیں اور اسے جمع کرتی ہیں لیکن ان مکھیوں کی شناخت رکھنے والے کہتے ہیں کہ مکھیاں پھولوں کے ابتدائی حصوں میں موجود شکر سے ہی استفادہ نہیں کرتیں بلکہ بعض اوقات پھولوں کے تخمدانوں نیز پتوں اور پھلوں کے ابتدائی حصوں سے بھی استفادہ کرتی ہیں ۔ قرآن ان سب کو ” من کل الثمرات“(سب پھلوں سے ) تعبیر کرتا ہے ۔
ایک ماہر حیاتیات مسٹر مٹرلینگ اس سلسلے میں عجیب بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے قرآنی تعبیر کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے وہ کہتا ہے :۔
آج اگر شہد کی مکھی ( پالتویا جنگلی جس قسم کی بھی ہو ) ختم ہو جائے تو ہمارے ایک لاکھ قسم کے نباتات ، پھول اور پھل نابود ہوجائیں اور کیا معلوم کہ اصلاً ہمارا تمدن ہی ختم ہو جائے ۔(اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر جلد ۵ ص ۵۵) ۔
اس نے یہ اس لئے کہا ہے کیونکہ نر پھلوں کے دانے بکھیرنے میں ، مادہ پودوں کو حاملہ کرنے میں اور اس کے بعد پھلوں کی پر ورش میں شہد کی مکھیوں کا کر دار اس قدر عظیم ہے کہ بعض ماہرین کے نزدیک ان کا یہ کام شہد بنانے سے کہیں اہم ہے در حقیقت شہد کی مکھیاں جو کچھ ان سے کھاتی ہیں وہ بالقوہ طرح طرح کے پھل ہیں کہ جو ان کی مدد سے صورت پذیر ہوتے ہیں اس صورت میں دیکھا جائے تو ” کل الثمرات “ کی تعبیر کس قدر معنی خیزمعلوم ہوتی ہے ۔