مہاجرین کی جزا
وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۴۱الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ۴۲
اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد راہ هخدا میں ہجرت اختیار کی ہے ہم عنقریب دنیا میں بھی ان کو بہترین مقام عطا کریں گے اور آخرت کا اجر تو یقینا بہت بڑا ہے .اگر یہ لوگ اس حقیقت سے باخبر ہوں. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا ہے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے رہے ہیں.
مہاجرین کی جزا
ہم نے بار ہا کہا ہے کہ قرآن اپنے تربیتی امور میں جس موثر ترین روش سے استفادہ کرتا ہے وہ ہے موازنہ اور تقابل ۔ قرآن ہر چیز کو ا س کے متضاد کے سامنے لے آتا ہے تاکہ ہر ایک کا مقام واضح اور متعین ہو جائے ۔ گزشتہ آیات میں منکرین قیامت اور ہٹ دھرم مشرکین کے بارے میں گفتگو تھی ۔ زیر بحث آیات سچے اور پاکباز مہاجرین کی بات کرتی ہیں تاکہ موازنہ اور تقابل سے دونوں کی کیفیت واضح ہو جائے ۔
پہلے فرمایا گیا ہے : جن لوگوں نے ستم اٹھائے اور راہ خدا میں ہجرت کی ہم اس دنیا میں انھیں اچھی جگہ اور مقام دیں گے
( وَالَّذِینَ ھَاجَرُوا فِی اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً ) ۔
یہ ان کی دنیاوی جز اہے ، رہی اخروی جزا ، اگر وہ جانے تو بہت ہی بڑی ہے (وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ اٴَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ) ۔
بعد والی آیت میں ان سچے اور با استقامت اہل ایمان مہاجرین کی توصیف میں ان کے دو اوصاف بیان کئے گئے ہیں فرمایا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھاما اور جو اللہ پر توکل رکھتے ہیں ( الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ ) ۔