Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 41-42

: النحل

وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۴۱الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ۴۲

Translation

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد راہ هخدا میں ہجرت اختیار کی ہے ہم عنقریب دنیا میں بھی ان کو بہترین مقام عطا کریں گے اور آخرت کا اجر تو یقینا بہت بڑا ہے .اگر یہ لوگ اس حقیقت سے باخبر ہوں. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا ہے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے رہے ہیں.

Tafseer

									شان ِ نزول

ان آیات کی شان ِ نزول میں بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ میں اسلام لانے کے بعد بعض مسلمانوں مثلا ً بلال ، عمار یاسر صہیب اور خبّاب پر سخت تشدد کیا گیا اسلام کی تقویت اور دوسروں تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے پیغمبر اکرم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہ ہجرت آپ کی اور دوسروں کی کامیابی کا باعث بنیصہیب سن رسیدہ شخص تھے انہوں نے مشرکین مکہ سے کہا کہ میں ایک بوڑھا آدمی ہو میں اگر تمہارے میں اگر تمہارے پاس رہوں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور اگر میں تمہارا مخالف تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تم ایسا کرو کہ میرے مال لے لو اور مجھے مدینہ جانے دو ۔ اس پر صہیب سے لوگوں نے کہا کہ تم نے نفع کا سود کیا ہے اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں اس جہان میں ، دوسرے جہان میں ان کی اور ان جیسے لوگوں کی کامیابی کا تذکرہ ہے ۔
تاریخ میں ہے کہ خلفاء کے زمانے میں جب بیت المال کے اموال تقسیم ہوتے تھے تو مہاجرین کے باری آتی تھی تو انہیں کہا جا تا تھا کہ اپنا حصہ لے لو یہ وہی ہے کہ جو خدا نے تمہیں دنیا میں دینے کا وعدہ کیا ہے او ر جو کچھ دوسرے جہان میں تمہارے انتظار میں ہے وہ بہت زیادہ ہے اس کے بعد وہ مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کرتے تھے ۔۱

 

 

۱۔مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔