Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ بے موقع تسلیم حق

										
																									
								

Ayat No : 24-29

: النحل

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۲۴لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ ۲۵قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ۲۶ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَى الْكَافِرِينَ ۲۷الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ ۚ بَلَىٰ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۲۸فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ ۲۹

Translation

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ سب پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں. تاکہ یہ مکمل طور پر اپنا بھی بوجھ اٹھائیں اور اپنے ان مریدوں کا بھی بوجھ اٹھائیں جنہیں بلاعلم و فہم کے گمراہ کرتے رہے ہیں - بیشک یہ بڑا بدترین بوجھ اٹھانے والے ہیں. یقینا ان سے پہلے والوں نے بھی مکاریاں کی تھیں تو عذاب الٰہی ان کی تعمیرات تک آیا اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا اور ان کے سروں پر چھت گر پڑی اور عذاب ایسے انداز سے آیا کہ انہیں شعور بھی نہ پیدا ہوسکا. اس کے بعد وہ روزِ قیامت انہیں رسوا کرے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کے بارے میں تم جھگڑا کیا کرتے تھے - اس وقت صاحبان هعلم کہیں گے کہ آج رسوائی اور برائی ان کافروں کے لئے ثابت ہوگئی ہے. جنہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کے ظالم ہوتے ہیں تو اس وقت اطاعت کی پیشکش کرتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے. بیشک خدا خوب جانتا ہے کہ تم کیا کیا کرتے تھے. جاؤ اب جہنمّ کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ وہیں رہو کہ متکبرین کا ٹھکانا بہت برا ہوتا ہے.

Tafseer

									۲۔ بے موقع تسلیم حق : بہت کم ایسے لوگ ہیں جو حقیقت کو شہود کے عالم میں دیکھ کر بھی جھٹلادیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گنہگار اور ظالم جب موت کی چوکھٹ پر پہنچتے ہیں اور غفلت و غرور کے پر دے ہٹ جاتے ہیں ۔ اور ان کی نگاہ برزخ کھل جاتی ہے تو اظہار ایمان کرنے لگتے ہیں جیسا کہ مندرجہ بالاآیات میں ہے ۔ 
فالقوا السلم 
البتہ ایسے لوگ اس موقع پر مختلف باتیں کرتے ہیں ۔ بعض اپنے پرانے اعمال کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی برا کام نہیں کیا ہے اگر چہ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنے کا موقع نہیں پھر بھی جھوٹ بولتے ہیں یہاں تک کہ بعض آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لو گ روز قیامت بھی جھوٹ بولیں گے ۔ قرآن کہتا ہے :
قالو ا و اللہ ربنا ما کنا مشر کین 
مشرکین کہیں گے پر وردگار کی قسم ہم مشرک نہیں ہیں  ( انعام ۲۳)
بعض دوسرے اظہار ندامت کریں گے اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے ۔( سجدہ ۱۲)
بعض ایسے بھی ہوں گے جو صرف اظہار ایمان کریں گے مثلاًفرعون۔ ( یونس ۹۰)
بہرحال ان میں سے کوئی چیز بھی قبو ل نہیں کی جائے گی کیونکہ اس کا وقت گزر چکا ہوگا ۔ ایسا اظہار ِایمان اضطراری پہلو رکھتا ہے ۔ 
اور ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ اضطراری ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ۔