Tafseer e Namoona

Topic

											

									  راہ ،نشانی اور رہبر

										
																									
								

Ayat No : 14-18

: النحل

وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۱۴وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ۱۵وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ۱۶أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ۱۷وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۸

Translation

اور وہی وہ ہے جس نے سمندروں کو مّسخردیا ہے تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاسکو اور پہننے کے لئے زینت کا سامان نکال سکو اور تم تو دیکھ رہے ہو کہ کشتیاں کس طرح اس کے سینے کو چیرتی ہوئی چلی جارہی ہیں اور یہ سب اس لئے بھی ہے کہ تم اس کے فضل و کرم کو تلاش کرسکو اور شاید اسی طرح اس کے شکر گزار بندے بھی بن جاؤ. اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دئے تاکہ تمہیں لے کر اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائے اور نہریں اور راستے بنادئے تاکہ منزل سفر میں ہدایت پاسکو. اور علامات معین کردیں اور لوگ ستاروں سے بھی راستے دریافت کرلیتے ہیں. کیا ایسا پیدا کرنے والا ان کے جیسا ہوسکتا ہے جو کچھ نہیں پیدا کرسکتے آخر تمہیں ہوش کیوں نہیں آرہا ہے. اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار بھی کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے ہو بیشک اللہ بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے.

Tafseer

									راہ ،نشانی اور رہبر
مندرجہ بالا آیات میں اگر چہ زمین کے راستوں کا ذکر ایک نعمت الہٰی کے طور پر آیاہے کیونکہ راستے تمدن انسانی کی ترقی کا ذریعہ ہیں ۔ اسی لئے ترقی کاموں میں سب سے پہلے مناسب راستہ بنانے کی فکر کی جاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر کسی قسم کی آبادکاری اور انسانی فعالیت ممکن نہیں ۔
بہر حال ہوسکتا ہے کہ اس سلسلے میں قرآن کا بیان انسان کی روحانی اور معنوی زندگی کے لئے نمونے کے طور ہو کیونکہ ہر مقدس ہدف تک پہنچنے کے لئے سب سے پہلے صحیح راستے کا انتخاب ضروری ہے تیر راستے کے علاوہ علامات اور نشانیوں کا وجود بھی زندگی کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ایک دوسرے سے مشابہ راستے بہت ہیں اور ان میں سے اصلی راستہ بھول جانا بہت ممکن ہے ۔ایسے مواقع پر ” علامات“ کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ 
خصوصاً وہ مومنین جنہیں قرآن نے ”متوسمین “ (ہوشیار) کہا ہے انھیں چاہیئے کہ ان نشانیوں کے حوالے سے پہچانیں اور حق کی نشانیوں کو دیکھ کر اسے باطل سے جدا طور پر پہچانیں ۔
اسی طرح رہبر و رہنما کا مسئلہ بھی محتاج وضاحت نہیں ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی بہت سی روایات میں ” نجم “ سے رسول اللہ اور ”علامات“ سے آئمہ مراد لی گئی ہے ۔ بعض روایات میں ” نجم“ اور” علامات“دونوں سے آئمہ اور ہادیانِ راہِ حق مراد لی گئی ہے ہم یہاں ان میں سے چند ایک احادیث کی طرف اشارہ ہے کرتے ہیں :
۱۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے ، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا:
النجم رسول اللہ و العلامات الائمة علیھم السلام 
ستارہ رسول اللہ کی طرف اور علامات آئمہ علیہم السلام کی طرف اشارہ ہے ۔1۔
بعینہ یہی مضمون امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے ۔
۲۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا:۔
نحن النجم

 ہم ستارے ہیں۔2
۳۔ ایک اور حدیث میں امام علی بن موسی ٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا:
انت نجم بنی ھاشم 
تم بنی ہاشم کا ستارہ ہو ۔ 3۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا:
انت احد العلامات
علامات میں سے ایک تم ہو ۔ 
یہ سب روایات مندرجہ بالا آیات کی معنوی تفسیر کی طرف اشارہ ہیں ۔

 


۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵۔ 
2۔ ( تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵(۔
3۔۔تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵۔