۲۔خدا کی طرف توجہ کا روحانی اثر
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۹۲عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۹۳فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ۹۴إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ۹۵الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ۹۶وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ۹۷فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ ۹۸وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ۹۹
لہذا آپ کے پروردگار کی قسم کہ ہم ان سے اس بارے میں ضرور سوال کریں گے. جو کچھ وہ کیا کرتے تھے. پس آپ اس بات کا واضح اعلان کردیں جس کا حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے کنارہ کش ہوجائیں. ہم ان استہزائ کرنے والوں کے لئے کافی ہیں. جو خدا کے ساتھ دوسرا خدا قرار دیتے ہیں اور عنقریب انہیں ان کا حال معلوم ہوجائے گا. اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ان کی باتوں سے دل تنگ دل ہورہے ہیں. تو اب اپنے پروردگار کے حمدکی تسبیح کیجئے اور سجدہ گزاروں میں شامل ہوجایئے. اور اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہئے جب تک کہ موت نہ آجائے.
۲۔خدا کی طرف توجہ کا روحانی اثر :۔
انسانی زندگی میں ہمیشہ مشکلات آتی رہستی ہیں یہ دنیاوی زندگی کا مزاج ہے انسان جس قدر بڑا ہوتا جا تا ہے مشکلات بھی بڑی ہو تی جاتی ہیں اس سے عظیم مشکلات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے جن کا سامنا رسول اللہ کو اپنی عظیم دعوت کے لئے کرنا پڑا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ زیادہ قوت کے حصول کے لئے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ وسعت قلب کے لئے تسبیح الٰہی ، دعا اور اس کے آستانے پر سجدہ ریزی کریں ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی روح میں ایمان اور ارادے کی تقویت کے لئے عبادت گہرا اثر رکھتی ہے ۔
مختلف روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بزرگ پیشواوٴں کو عظیم مشکلات اور بحرانوں کا سامنا ہوتا ہے تو وہ خانہ خدا کا رخ کرتے اس کی عبادت کے زیر سایہ راحت و آرام اور طاقت و قوت حاصل کرتے ۔