۱۔ اعلانیہ دعوت ِ اسلام کا آغاز
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۹۲عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۹۳فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ۹۴إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ۹۵الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ۹۶وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ۹۷فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ ۹۸وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ۹۹
لہذا آپ کے پروردگار کی قسم کہ ہم ان سے اس بارے میں ضرور سوال کریں گے. جو کچھ وہ کیا کرتے تھے. پس آپ اس بات کا واضح اعلان کردیں جس کا حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے کنارہ کش ہوجائیں. ہم ان استہزائ کرنے والوں کے لئے کافی ہیں. جو خدا کے ساتھ دوسرا خدا قرار دیتے ہیں اور عنقریب انہیں ان کا حال معلوم ہوجائے گا. اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ان کی باتوں سے دل تنگ دل ہورہے ہیں. تو اب اپنے پروردگار کے حمدکی تسبیح کیجئے اور سجدہ گزاروں میں شامل ہوجایئے. اور اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہئے جب تک کہ موت نہ آجائے.
۱۔ اعلانیہ دعوت ِ اسلام کا آغاز:
جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات:
فاصدع بماتوٴمر واعرض المشرکین انا کفیناک المستھزئین
مکہ میں نازل ہوئیں جبکہ پیغمبر اسلام تین برس تک مخفی طور پر دعوت دے چکے تھے اور آپ کے قریبوں میں سے چند افراد آپ پر ایمان لاچکے تھے جن مین عوررتوں میں سے سب سے پہلے جناب خدیجہ سلاماللہ علیھا تھیں اورمردوں میں حضرت علی علیہ السلام تھے ۔
واضح ہے کہ اس زمانے میں اور اس ماحول میں توحید خالص کی دعوت اور نظام ِ شرک و بت پرستی کو درہم برہم کرنا عجیب و غریب اور نہایت کٹھن کام تھا لہٰذا یہ بات تو شروع ہی سے نمایاں تھی کہ کچھ لوگ تمسخر اڑائیں گے لہٰذا خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر (ص)کے دل کو تقویت دیتا ہے ، استہزاء کرنے والوں اور دشمنوں کی کثرت سے نہ ڈریں اور اپنی دعوت کھلے بندوں شروع کردیں اور اس راہ میں ایک پیہم مسلسل اور منطقی جہاد کے لئے تیار ہو جائیں ۔
1
۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳۔ تفسیر نمونہ جلد ۶ صفحہ۸۷