۳۔ رہبر کی انکساری
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ ۖ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ ۸۵إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ۸۶وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ۸۷لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ ۸۸وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ۸۹كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ ۹۰الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ۹۱
اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے سب کو برحق پیدا کیا ہے اور قیامت بہرحال آنے والی ہے لہذا آپ ان سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کردیں. بیشک آپ کا پروردگار سب کا پیدا کرنے والا اور سب کا جاننے والا ہے. اور ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا کیا ہے. لہذا آپ ان کفار میں بعض افراد کو ہم نے جو کچھ نعمااُ دنیا عطا کردی ہیں ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور اس کے بارے میں ہرگز رنجیدہ بھی نہ ہوں بس آپ اپنے شانوں کو صاحبانِ ایمان کے لئے جھکائے رکھیں. اور یہ کہہ دیں کہ میں تو بہت واضح انداز سے ڈرانے والا ہوں. جس طرح کہ ہم نے ان لوگوں پر عذاب نازل کیا ہے جو کتاب خدا کا حصہ ّبانٹ کرنے والے تھے. جن لوگوں نے قرآن کو ٹکڑے کردیا ہے.
۳۔ رہبر کی انکساری :آیات قرآن میں بارہا پیغمبر اکرم کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ مومنین سے تواضح ، مہر بانی ، نرمی اور ملائمت سے پیش آئیںیہ امر پیغمبر اسلام کے لئے منحصر نہیں ہے ۔بلکہ جو شخص بھی وسیع یا محدود لوگوں میں رہبری کا فریضہ اپنے ذمہ لے اسے چاہئیے کہ اس پر کار بند رہے کیونکہ یہ حقیقی قیادت اور تنظیمی اصولو ںمیں سے ہے اس لئے ایک رہبر کا بہت بڑا سرمایہ اس کے پیروکاروں کا اس سے محبت کرنا اور اس سے روحانی رشتہ ہے اور یہ تواضع ، لنساری اور خیر خواہی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔رہبروں کی سختی اور فسادات ہمیشہ لوگوں کے ان کے گرد و پیش سے متفرق اور منتشر ہونے کا ایک ہی اہم عامل ہوتے ہیں ۔
امیر المومنین (علیہ السلام) ،محمد بن ابی بکر کو اپنے ایک خط میں اس طرح فرماتے ہیں :
فاخفض لھم جناحک و الن لھم جانبک و ابسط لھم وجھک و آس بینھم فی اللحظة و النظر ة
اپنے پروبال اس کے لئے جھکا دے، ان سے نرمی سے پیش آ، کشادہ رورہ اور ان کے درمیان نظر کرنے میں بھی مساوات اور برابری کو ملحوظ رکھ ۔1
۱۔نہج البلاغہ،مکتوب ۲۷۔