۲۔دوسروںکے وسائل پر نگاہ رکھنا انحطاط کا باعث ہے
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ ۖ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ ۸۵إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ۸۶وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ۸۷لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ ۸۸وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ۸۹كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ ۹۰الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ۹۱
اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے سب کو برحق پیدا کیا ہے اور قیامت بہرحال آنے والی ہے لہذا آپ ان سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کردیں. بیشک آپ کا پروردگار سب کا پیدا کرنے والا اور سب کا جاننے والا ہے. اور ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا کیا ہے. لہذا آپ ان کفار میں بعض افراد کو ہم نے جو کچھ نعمااُ دنیا عطا کردی ہیں ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور اس کے بارے میں ہرگز رنجیدہ بھی نہ ہوں بس آپ اپنے شانوں کو صاحبانِ ایمان کے لئے جھکائے رکھیں. اور یہ کہہ دیں کہ میں تو بہت واضح انداز سے ڈرانے والا ہوں. جس طرح کہ ہم نے ان لوگوں پر عذاب نازل کیا ہے جو کتاب خدا کا حصہ ّبانٹ کرنے والے تھے. جن لوگوں نے قرآن کو ٹکڑے کردیا ہے.
۲۔دوسروںکے وسائل پر نگاہ رکھنا انحطاط کا باعث ہے :بہت سے تنگ نظر افراد ایسے ہیں جو ہمیشہ اسی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ ا س کے پاس کیا ہے ؟یہ لوگ مسلسل مادی حالت کا دوسروں سے تقابلی کرتے رہتے ہیں اور جب اپنے آپ کو کم پاتے ہیں تو رنج و غم میں مبتلا ہوجاتے ہیں چاہے دوسروں نے یہ وسائل ااپنی انسانی قدر و قیمت اور اپنا استقلال گنواکر حاصل کئے ہوں ۔
یہ طرز فکر رشد کی کمی ، احساس کمتری اورکم ہمتی کی نشانی ہے ۔ یہ زندگی میں پسماندگی اور تنزل کا سبب ہے یہاں تک کہ مادی زندگی کو بھی اس کا بہت منفی اثر ہوتا ہے بجائے اس کے انسان ایسے گھٹیا او ر نقصان دہ تقابل میں پڑے اپنی فکری اور جسمانی صلاحیتوں کو اپنی رشد و ترقی کے لئے استعمال کرے اور اپنے آپ کہے کہ میں دوسروں سے کم تر نہیں ہوں اور کوئی وجہ نہیں کہ میں ان سے زیادہ ترقی نہ کر سکوں میں کیوں ان کے مال و مقام پر آنکھ رکھوں میں ان سے بہتر حاصل کرسکتا ہوں ۔
مادی زندگی کا زندگی کا ہدف ہر گز نہیں ، ایک صحیح انسان مادی وسائل یا تو اس قدر چاہتا ہے جو اس کی روحانیت کے لئے مدد گار ہوں یا جس قدر اس کی آزادی اور استقلال کی حفاظت کرسکیں نہ کہ وہ حریصانہ ان کے پیچھے بھاگتا ہے اور نہ ہی ان کے بدلے سب کچھ قربان کردیتا ہے کیونکہ ایسا سودا احرار اور بندگان خدا نہیں کرتے وہ ایسا کام بھی نہیں کرتے جس میں دوسروں کے محتاج ہوں ۔
پیغمبر اکرم سے مروی ایک حدیث میں ہے :۔
من رمی ببصرہ مافی ید غیرہ کثر ھمہ ولم یشف غیضہ
جو شخص اس پر نظر جائے رکھے جو دوسروں کے پاس ہے وہ ہمیشہ غمگین رہے گا اور اس کے دل کی آتش غضب کبھی نہیں بجھے گی ۔1
۱۔تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔