دو ظالم قوموں کا انجام
وَإِنْ كَانَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ لَظَالِمِينَ ۷۸فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ ۷۹وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ ۸۰وَآتَيْنَاهُمْ آيَاتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ ۸۱وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ ۸۲فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ ۸۳فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۸۴
اور اگرچہ ایکہ والے ظالم تھے. تو ہم نے ان سے بھی انتقام لیا اور یہ دونوں بستیاں واضح شاہراہ پر ہیں. اور اصحاب حجر نے بھی مرسلین کی تکذیب کی. اور ہم نے انہیں بھی اپنی نشانیاں دیں تو وہ اعراض کرنے والے ہی رہ گئے. اور یہ لوگ پہاڑ کو تراش کر محفوظ قسم کے مکانات بناتے تھے. تو انہیں بھی صبح سویرے ہی ایک چنگھاڑ نے پکڑلیا. تو انہوں نے جس قدر بھی حاصل کیا تھا کچھ کام نہ آیا.
ان آیات میں قرآن دو گذشتہ اقوام کی سر گذشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ایک کو” اصحاب الایکہ “ کہ اگیا ہے اور دوسری” اصحاب الحجر“ ان میں گذشتہ آیات قوم لوط کے بارے میں جو عبرت انگیز مباحث آئی ہیں انکی تکمیل کی گئی ہے پہلےارشاد ہوتا ہے :یقینا اصحاب ایکہ ظالم اور ستمگر لوگ تھے( وَإِنْ کَانَ اٴَصْحَابُ الْاٴَیْکَةِ لَظَالِمِینَ ) ۔۱
اور ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کی ستم گریوں اور سرکشیوں پر انھیں عذاب دیا ( فَانْتَقَمْنَا مِنْھمْ) ۔
ان لوگوں کا علاقہ اور قوم لوط کہ جس کی داستان گزرچکی ہے ، کی سر زمین تمہارے راستے میں واضح طورپر موجود ہے (وَإِنَّھمَا لَبِإِمَامٍ مُبِینٍ ) ۔
پس آنکھیں کھولو ان کا انجام دیکھو اور ان سے عبرت حاصل کرو ۔
۱۔لفظ ”ان “ اس آیت میں شرطیہ نہیں ہے بلکہ ”مثقلہ “سے ”مخففہ“ ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (انہ کان اصحاب الایکة لظالمین )