۲۔نززول مقامی اور نزول مکانی
وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ ۱۹وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ ۲۰وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ ۲۱
اور ہم نے زمین کو پھیلادیا ہے اور اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیئے ہیں اور ہر چیز کو معینہ مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے. اور اس میں تمہارے لئے بھی اسبابِ معیشت قرار دئے ہیں اور ان کے لئے بھی جن کے تم رازق نہیں ہو. اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں اور ہم ہر شے کو ایک معین مقدار میں ہی نازل کرتے ہیں.
۲۔نززول مقامی اور نزول مکانی :جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے نزول ہمیشہ نزول مکانی یعنی اوپر سے نیچے آنے کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ بلکہ کبھی نزول مقامی کے معنی میں بھی ہوتا ہے ۔مثلاًجس وقت کوئی بڑی نعمت کسی بڑے شخص کی طرف سے زیر دست لوگوںکوملے تو اسے نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے اسی بناء پر قرآن مجید میں یہ لفظ خدا کی نعمتوں کے بارے میں استعمال ہوا ہے چاہے وہ آسمان سے نازل ہوں مثلاً بارش یا زمین پر پرورش پاتی ہوں مثلاً حیوانات ،جیسا کہ سورہ زمر کی آیت ۶ میں ہے :
وانزل لکم من الانعام ثمانیة ازواج
(اور اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے نازل کئے۔
نیزلوہے کے بارے سورہٴ حدید کی آیہ ۲۵ میں ہے ۔
و انزل الحدید
ہم نے لوہا نازل کیا ۔
اسی طرح دیگر مثالیں بھی ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ ”نزول“ اور ”انزال“ یہاں وجود ، ایجاد اور خلقت کے معنی میں ہے البتہ چونکہ خدا کی طرف سے بندوں کے لئے ہے لہٰذا اس قسم کے تعبیر استعمال کی گئی ہے