Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ ” یوم یاتیھم العذاب “ سے کون سا دن مراد ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 42-45

: ابراهيم

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ ۴۲مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ ۴۳وَأَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ ۴۴وَسَكَنْتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ ۴۵

Translation

اور خبردار خدا کو ظالمین کے اعمال سے غافل نہ سمجھ لینا کہ وہ انہیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں خوف سے پتھرا جائیں گی. سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور پلکیں بھی نہ پلٹتی ہوں گی اور ان کے دل دہشت سے ہوا ہورہے ہوں گے. اور آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیں جس دن ان تک عذاب آجائے گا تو ظالمین کہیں گے کہ پروردگار ہمیں تھوڑی مدّت کے لئے پلٹا دے کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں اور تیرے رسولوں کا اتباع کرلیں تو جواب ملے گا کہ کیا تم نے اس سے پہلے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہیں کسی طرح کا زوال نہ ہوگا. اور تم تو ان ہی لوگوں کے مکانات میں ساکن تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور تم پر واضح تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں.

Tafseer

									۲۔ ” یوم یاتیھم العذاب “ سے کون سا دن مراد ہے ؟ زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ رسول اللہ کو اس بات پر مامور کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اس دن سے درائیں جس دن عذاب ان کی طرف آئے گا ۔ اس دن سے کونسا دن مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین نے تین احتمالات ذکر کئے ہیں : 
پہلا ۔ یہ کہ یہ قیامت کا دن ہے ۔ 
دوسرا ۔یہ کہ یہ موت آنے کا دن ہے کہ جس دن عذاب الہی کا مقدمہ ظالموں کا رخ کرے گا ۔ 
تیسرا ۔یہ کہ کچھ دنیاوی سزاوٴں کے نزول کا دن ہے ۔ مثلا ً جس روز قوم لوط ، قوم عاد و ثمود ، قوم نوح اور فرعونیوں پر عذاب ہوا ۔ یہ لوگ دریا کی دھاڑتی ہوئی موجوں کا شکار ہوئے ، یا غرقِ طوفان ہوئے یا زلزلوں سے تباہ ہوئے ، یا شدید ویران گر آندھیوں سے برباد ہوئے ۔ 
اگر چہ بہت سے مفسرین نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے لیکن بعد میں آنے والے جملے واضح طور پر تیسرے احتمال کو تقویت دیتے ہیں اور نشاندہی کرتے ہیں کہ مراد دنیاوی نوبود کرنے والے عذاب ہیں ۔ اور ان کا شکار ہونے والے کہتے ہیں کہ پروردگارا ! ہمیں تلافی کے لئے تھوڑی سی مہلت دے دے ۔ 
” اخرنا “ (ہمیں تاخیر میں ڈال دے ) ۔ یہ تغیر دنیاوی زندگی جاری رکھنے کی درخواست کے لئے واضح قرینہ ہے ۔ اگر وہ یہ بات روز قیامت آثار عذاب دیکھ کر کہتے تو انہیں کہنا چاہیے تھا : خدا وندا : ہمیں دنیا کی طرف لوٹا دے ، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۲۷ میں ہے : 
وَ لَوْ تَری إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ فَقالُوا یا لَیْتَنا نُرَدُّ وَ لا نُکَذِّبَ بِآیاتِ رَبِّنا وَ نَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنین۔
اگر تو انہیں سد عالم میں دیکھے کہ جب وہ آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو تو دیکھے گا کہ وہ کہتے ہیں : کاش ! ہم دنیا کی طرف پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کی تکذیب نہ کرتے اور ہم مومنین میں سے ہوجاتے ( تو تجھے ان کی حالت پر افسوس ہوگا ) ۔ 
کیونکہ فورا ً بعد والی آیت میں ان کا جواب اس طرح دیا گیا ہے : 
وَ لَوْ رُدُّوا لَعادُوا لِما نُہُوا عَنْہُ وَ إِنَّہُمْ لَکاذِبُونَ ۔
یہ جھوٹ کہتے ہیں اگر لوٹ بھی جائیں تو انہیں اعمال میں مشغول ہو جائیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے ۔ 
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ، وہ یہ کہ اگر یہ آیت عذاب دنیا سے ڈرانے کے لئے ہے جبکہ اس سے پہلی آیت”ولا تحسبن اللہ غافلاً --“ میں تو عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے تو یہ امر ایک دوسرے سے کس طرح سے مناسبت رکھتا ہے ؟ نیز لفظ ” انما “ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں صرف قیامت میں سزا دی جائے گی اور وہاں ان پر عذاب ہوگا نہ کہ اس دنیا میں ۔ 
لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ سے جواب واضح ہو جاتا ہے کہ وہ سزا اور عذاب کہ جس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہے عذاب قیامت ہے جو سب ظالموں کو لاحق ہوگا لیکن دنیاوی سزائیں ایک تو عمومیت نہیں رکھتیں اور دوسرا بازگشت کے بھی قابل ہیں ۔ 
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ تباہ کن دنیاوی عذاب مثلاً وہ المناک عذاب جو قوم نوح یا آل فرعون اور ان جیسے لوگوں کو دامن گیر ہوا ۔ ایسا عذاب شروع ہوجائے تو توبہ کے دروازہ بند ہو جاتے ہیں اور لوٹ آنے کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب گنہگار لوگ ایسی سزاوٴ ں کا سامنا کرتے ہیں تو اظہار پشیمانی کرتے ہیں لیکن یہ در حقیقت ایک اضطراری ندامت ہوتی ہے جس کا کوئی وزن نہیں ۔ لہذا ایسا عذاب شروع ہونے سے پہلے تلافی کے در پے ہونا چاہیے ۔ ۱

 

1-مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم سورہ نساء آیہ ۱۸۔ کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔