Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ پیغمبر اکرم سے خطاب کیوں ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 42-45

: ابراهيم

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ ۴۲مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ ۴۳وَأَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ ۴۴وَسَكَنْتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ ۴۵

Translation

اور خبردار خدا کو ظالمین کے اعمال سے غافل نہ سمجھ لینا کہ وہ انہیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں خوف سے پتھرا جائیں گی. سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور پلکیں بھی نہ پلٹتی ہوں گی اور ان کے دل دہشت سے ہوا ہورہے ہوں گے. اور آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیں جس دن ان تک عذاب آجائے گا تو ظالمین کہیں گے کہ پروردگار ہمیں تھوڑی مدّت کے لئے پلٹا دے کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں اور تیرے رسولوں کا اتباع کرلیں تو جواب ملے گا کہ کیا تم نے اس سے پہلے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہیں کسی طرح کا زوال نہ ہوگا. اور تم تو ان ہی لوگوں کے مکانات میں ساکن تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور تم پر واضح تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں.

Tafseer

									۱۔ پیغمبر اکرم سے خطاب کیوں ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ پیغمبر کبھی تصور بھی نہیں کرتے کہ خدا ظالموں کے کام سے غافل ہے لیکن اس کے باوجود زیر نظر آیات میں رسول اللہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : کہیں یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں کے اعمال سے غافل ہے ۔ 
یہ در حقیقت بالواسطہ طور پر دوسروں کو پیغام دیا گیا ہے اور یہ بھی فصاحت کا ایک فن ہے کہ کبھی کسی ایک شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے لیکن مراد دوسرا شخص یا دیگر اشخاص ہوتے ہیں ۔ 
علاوہ از ایں یہ تعبیر در اصل تہدید کے لئے کنایہ ہے ۔ مثلا ً کبھی ہم کسی قصور وار سے کہتے ہیں : ” فکر نہ کرو ہم تیری تقصیریں بھول چکے ہیں “ یعنی موقع پر ہم تیرا حساب چکائیں گے ۔ 
بہر حال اس دنیا کی اساس اس پر ہے کہ تمام افراد کو کافی حد تک مہلت دی جائے تاکہ جو کچھ ان کے اند ر ہے ظاہر ہو جائے اورآزمایش اور تکامل کا میدان وسیع ہو ۔ یہ اس لئے ہے کہ کسی کے لئے عذر و بھانہ باقی نہ رہے اور سب کو باز گشت ، اصلاح اور تلافی کا موقع دیا جائے ۔ اسی لئے گنہگاروں کو مہلت دی جاتی ہے ۔