Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۷۔ کیا ابراہیم (علیه السلام)اپنے باپ کے لئے دعاء کررہے ہیں ؟

										
																									
								

Ayat No : 35-41

: ابراهيم

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۳۵رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۶رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ۳۷رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۳۸الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ۳۹رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۴۰رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ۴۱

Translation

اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے کہا کہ پروردگار اس شہر کو محفوظ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا. پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو معصیت کرے گا اس کے لئے توِ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے. پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں. پروردگار ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں یا جس کو چھپاتے ہیں تو سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی. شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے کہ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے. پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا.

Tafseer

									۷۔ کیا ابراہیم (علیه السلام)اپنے باپ کے لئے دعاء کررہے ہیں ؟ اس میں شک نہیں کہ آزر بت پرست تھا اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ اس کی ہدایت کے لئے حضرت ابراہیم کی کوششیں موثر ثابت نہ ہو سکیں اور اگر ہم یہ مان لیں کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو یہ سوال سامنے آئے گا کہ ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) اس کی بخشش کی دعاء کیوں کر رہے ہیں حالانکہ قرآن صراحت سے مومنین کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے روکتا ہے ۔ ( توبہ ۔۱۱۳) ۔
یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ آزر کو حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں سمجھا جا سکتا اور یہ جو علماء نے کہا ہے کہ لفظ ” اب عربی زبان میں کبھی چچا کے لئے بھی بولا جاتا ہے ، زیر بحث آیات کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو یہ بات پوری طرح قابل و قبول معلوم ہوتی ہے ۔ 
خلاصہ یہ عربی لغت کے اعتبار سے لفظ ” اب “ اور ” والد “ میںفرق ہے ۔ لفظ ” والد “ کہ جو زیر بحث آیات میں بھی استعمال ہوا ہے صرف باپ کے معنی میں ہے لیکن لفظ ” اب “ کہ جو آزر کے متعلق آیا ہے چچا کے معنی میں استعمال ہو سکتا ہے ۔ 
مندرجہ بالا آیات اور سورہ توبہ کی آیات کہ جن میں مشرکین کے استغفار کی ممانعت کی گئی ہے کو باہم ملا کر دیکھا جائے تو ہم نہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آزر یقینا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا ۔ 1

1- مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۵ ص ۲۴۸ ۔ ( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔