Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۶۔حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں

										
																									
								

Ayat No : 35-41

: ابراهيم

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۳۵رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۶رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ۳۷رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۳۸الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ۳۹رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۴۰رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ۴۱

Translation

اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے کہا کہ پروردگار اس شہر کو محفوظ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا. پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو معصیت کرے گا اس کے لئے توِ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے. پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں. پروردگار ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں یا جس کو چھپاتے ہیں تو سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی. شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے کہ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے. پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا.

Tafseer

									۶۔حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں ۔: زیر نظر آیات میں توحید و دعاکے ہیرواور بتوں ، بت پرستی اور ظالموں کے خلاف قیام کرنے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی بارگاہ خدا میں سات دعائیں مذکورہیں ۔
پہلی دعاء : توحیدی معاشرے کے عظیم مرکز شہر مکہ کی امنیت کے بارے میں ہے اور یہ دعا ء نہایت معنی خیز ہے ۔
دوسری دعاء : بتوں کی پرشتش سے دور رہنے کے بارے میں ہے کہ جو تمام دینی عقائد اور پروگراموں کی اساس ہے ۔
تیسری دعاء : ان کی اولاد اور ان کے مکتب کے پیرو کاروں کی طرف تمام لوگوں اور خدا پرستوں کے قلبی میلان اور فکری رجحان کے بارے میں ہے کہ جو معاشرے میں کسی انسان کا عظیم ترین سرمایہ ہو سکتا ہے ۔ 
چوتھی دعاء : شکر گزاری کے مقدمہ کے طور پر اور خالق نعمات کی طرف مزید توجہ کے جزبہ سے انواع و اقسام کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے کے بارے میں ہے ۔ 
پانچویں دعاء : قیام نماز کی توفیق کے متعلق ہے اور یہ انسان کے خدا کے ساتھ عظیم ترین رشتہ کی علامت ہے اور یہ دعا حضرت ابراہیم (علیه السلام) صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی کرتے ہیں ۔ 
چھٹی دعاء : قبولیت دعاء کے بارے میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خدا وہ دعا قبول کرتا ہے کہ جو پاک دل اور بے آلائش روح سے نکلے ۔ 
ساتویں دعاء : اور حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا آخری تقاضا اس بارے میں ہے کہ اگر ان سے کوئی لغزش سر زد ہوئی ہے تو بخشنے والا اور مہربان خدا انہیں اپنے لطف و بخشش سے نوازے اور اسی طرح روز قیامت ان کے ماں باپ اور تمام مومنین کو اپنے لطف و رحمت سے بہرہ ور کرے ۔ 
اس طرح حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں امنیت سے شروع ہوتی ہیں اور مغفرت و بخشش پر تمام ہوتی ہیں ۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ ان دعاوٴں میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) صرف اپنے لئے تقاضا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے لئے بھی طلب کرتے ہیں کیونکہ مردانِ خدا کبھی بھی صرف اپنے لئے نہیں سوچتے ۔