سوره ابراهیم / آیه 24- 27
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۲۴تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ۲۵وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ۲۶يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۲۷
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے. یہ شجرہ ہر زمانہ میں حکم پروردگار سے پھل دیتا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے کہ شاید اسی طرح ہوش میں آجائیں. اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی کوئی بنیاد نہ ہو. اللہ صاحبان هایمان کو قول ثابت کے ذریعہ دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالمین کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے.
۲۴۔ اٴَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اٴَصْلُھَا ثَابِتٌ وَفَرْعُھَا فِی السَّمَاءِ ۔
۲۵۔ تُؤْتِی اٴُکُلَھَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّھَا وَیَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُونَ ۔
۲۶۔ وَمَثَلُ کَلِمَةٍ خَبِیثَةٍ کَشَجَرَةٍ خَبِیثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاٴَرْضِ مَا لَھَا مِنْ قَرَارٍ ۔
۲۷۔ یُثَبِّتُ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ وَیُضِلُّ اللهُ الظَّالِمِینَ وَیَفْعَلُ اللهُ مَا یَشَاءُ۔
ترجمہ
۲۴۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے کلمہ طیبہ (اور گفتار پاکیزہ )کو پاکیزہ درکت سے تشبیہ دی ہے کہ جس کی جڑ( زمین میں ) ثابت ہے او رجس کی شاخ آسمان میں ہے ۔
۲۵۔ وہ اپنے پروردگار کے اذن سے بر وقت اپنے پھل دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں ۔
۲۶۔ اور ( اسی طرح ) کلمہ ٴخبیثہ کو ناپاک درخت سے تشبیہ دی ہے کہ زمین سے اکھڑ چکا ہے اور ا س کے لئے قرار و ثبات نہیں ہے ۔
۲۷۔ جولوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کی گفتار اور اعتقاد کے ثبات کی وجہ سے ثابت قدم رکھے گا ، اس جہان میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ نیز اللہ ظالموں کو گمراہ کرتاہے (اور ان سے اپنا لطف و کرم چھین لیتا ہے )اور خدا جو کام چاہے (اور قرین مصلحت سمجھے )انجام دیتاہے ۔