Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۵۔ شیطان کو شریک قرا ردینے سے مراد

										
																									
								

Ayat No : 21-23

: ابراهيم

وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ ۲۱وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ ۖ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۲۲وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۲۳

Translation

اور قیامت کے دن سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو کمزور لوگ مستکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو آپ کے پیروکار تھے تو کیا آپ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ہمارے کچھ کام آسکتے ہیں تو وہ جواب دیں گے کہ اگر خدا ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے -اب تو ہمارے لئے سب ہی برابر ہے چاہے فریاد کریں یا صبر کریں کہ اب کوئی چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے. اور شیطان تمام امور کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کہے گا کہ اللہ نے تم سے بالکل برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا پھر میں نے اپنے وعدہ کی مخالفت کی اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کرلیا تو اب تم میری ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کی ملامت کرو کہ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا اور بیشک ظالمین کے لئے بہت بڑا دردناک عذاب ہے. اور صاحبان ه ایمان و عمل صالح کو ان جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گے وہ ہمیشہ حکم خدا سے وہیں رہیں گے اور ان کی ملاقات کا تحفہ سلام ہوگا.

Tafseer

									۵۔ شیطان کو شریک قرا ردینے سے مراد : شیطان کو شریک قرار دینے سے مراد شرکِ اطاعت ہے نہ کہ شرک ِعبادت۔ 
۶۔ ”ان الظالمین لھم عذاب الیم “کس کا جملہ ہے : یہ جملہ شیطان کی باتوں کا آخری حصہ ہے یا پر وردگار کی طرف سے مستقل جملہ ہے ، اس سلسلے میںمفسرین میں اختلاف ہے ۔ لیکن زیادہ تر یہی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے مستقل جملہ ہے کہ جو شیطان کی اپنے پیروکاروں سےگفتگو کے بعد ایک اصلاحی و تربیتی درس کے طور پر آیا ہے ۔
زیر بحث آخری آیت میں سر کش و بے ایمان جابر افراد کی حالت اور ان کا دردناک انجام بیان کرنے کے بعد مومنین کی حالت او ر ان کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اور جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دئے وہ باغات ِبہشت میں داخل ہو ںگے ، وہ باغات کے جن کے درختوں کے نیچے پانی نہریں جاری ہیں (وَاٴُدْخِلَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاٴَنْھَارُ ) ۔ وہ اپنے پر وردگار کے اذن سے ہمیشہ ان باغات میںر ہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا بِإِذْنِ رَبِّھِمْ تَحِیَّتُھُمْ فِیہَا سَلَامٌ) ۔
”تحیت “ در اصل ”حیات “ کے مادہ سے لیا گیا ہے بعد از اں یہ لفظ افراد کی سلامتی اور حیات کی دعا کے لئے استعمال ہونے لگا ۔ہر قسم کی سلام و دعا کہ جو ابتدائے ملاقات میں کہی جاتی ہے ، اس پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ 
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں ”تحیت “ وہ خوش آمدید او ردرود و سلام جو اللہ تعالیٰ نے صاحب ایمان پر بھیجا ہے اور انہیں اپنی اپنی نعمتِ سلامتی کا ہم آغوش قرار دیتا ہے ۔ 
سلامتی  ہر قسم کی ناراحتی اور درد و غم سے سلامتی 
سلامتی ہر قسم کی جنگ و نزع سے سلامتی 
اس مفہوم کی بناء پر ” تحیتھم“ کی اضافت کی طرف ہے اور اس کا فاعل خدا تعالیٰ ہے ۔ 
بعض نے کہا ہے کہ یہاں مراد وہ تحیہ و سلام ہے جومومنین ایک دوسرے سے کہیں گے یافرشتے ان سے کہیں گے ۔ 
بہر حال لفظ ” سلام “ جو بطورمطلق آیاہے ، اس کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ جو ہر قسم کی سلامتی پر محیط ہے اور ہر قسم کی ناراحتی اور تکلیف سے سلامتی پرمشتمل ہے چاہے روحانی ہو یاجسمانی ۔3

 


3۔ سلام و تحیت کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد چہارم ،سورہ نساء آیت ۸۶ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں ( ص ۵۴ اردو ترجمہ کی طرف رجوع کیجئے گا ) ۔