Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شکر نعمت کے بارے میں چند اہم نکات

										
																									
								

Ayat No : 4-7

: ابراهيم

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۴وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ۵وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنْجَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ۶وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ۷

Translation

اور ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے اس کے بعد خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی. اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو ظلمتوں سے نور کی طرف نکال کر لائیں اور انہیں خدائی دنوں کی یاد دلائیں کہ بیشک اس میں تمام صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دلائی جب کہ وہ بدترین عذاب میں مبتلا کررہے تھے کہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو (کنیزی کے لئے)زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑا سخت امتحان تھا. اور جب تمہارے پروردگار نے اعلان کیا کہ اگر تم ہمارا شکریہ اد اکرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو ہمارا عذاب بھی بہت سخت ہے.

Tafseer

									شکر نعمت کے بارے میں چند اہم نکات
۱۔ حضرت علی (علیه السلام) نہج البلاغہ میں اپنے حکمت آمیز کلمات میں فرماتے ہیں :
اذا وصلت الیکم اطراف النعم فلا تنفروا و اقصاھا بقبلة الشکر 
جس وقت نعمات ِ الہٰی کا پہلا حصہ تم تک پہنچ جائے تو کوشش کرو کہ شکر کے ذریعے باقی حصے کو بھی اپنی طرف جذب کرو نہ یہ کہ شکر گزاری مین کمی کرکے اسے اپنے آپ سے دور بھگا دو۔ 1
۲۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے نعمتوں پر صرف خدا کی سپاس گزاری اور تشکر کافی نہیں بلکہ ان لوگون کو بھی شکر یہ ادا کرنا چاہئیے کہ جو اس نعمت کا ذریعہ بنے ہیں اور ان کی زحمات و مشقات کا حق بھی اس طریقے سے ادا کرنا چاہئیے اور اس طرح انہیں اس راہ میں خدمات کی تشویق دلانا چاہئیے ۔ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا : 
جب روز قیامت ہوگا تو اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا: کیا تمنے فلاں شخص کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ 
تو وہ عرض کرے گا : پرور دگارا : میں نے تیرا شکریہ اداکیا ہے ۔ 
اللہ فرمائے گا : چونکہ تو اس کا شکربجا نہیں لایا تو گویا تونے شکربھی ادا نہیں کیا ۔ 
پھر امام (علیه السلام) نے فرمایا:
اشکر کم اللہ اشکر کم للناس
تم میں سے خدا کا زیادہ شکر کرنے والے وہ ہیں جو لوگوںکا زیادہ شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 2
۳۔ خدا کی نعمتوں کی افزائش کہ جس کا شکرگزار وں سے وعدہ کیا گیا ہے صرف اس لئے نہیں ہے کہ انہیں نئی نئی مادی نعمتیں بخشی جائیں بلکہ خود شکر گزاری کہ جو خدا کی طرف خاص توجہ اور ا س کی ساحت ِ مقدس سے نئے عشق کے ساتھ ہو ایک عظیم روحانی نعمت ہے کہ جو انسانی نفوس کی تربیت اور انہیں فرامین الہٰی کی اطاعت کی طرف رغبت دلانے کے لئے بہت موٴثر ہے ۔ بلکہ شکر ذاتی طور پر زیادہ سے زیادہ معرفت الہٰی کا ذریعہ ہے ۔ اسی بناے پر علماء عقائد علم کلام میں ”وجوب معرفت الٰہی “ کو ثابت کرنے کے لئے ” وجوب شکر ِ منعم “ کی دلیل پیش کرتے ہیں ۔ 
۴۔ معاشرے میں تحریک پید اکرنے اور پیش رفت کے لئے روح شکر گزاری کاحیاء بہت اہم کردار کرتا ہے ۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنے علم و دانش سے یا فدا کاری اور شہادت سے یا کسی دوسرے طریقے سے اجتماعی اہداف کی پیش رفت کے لئے خدمت کی ، ان کی قدر دانی اور ان کا تشکر معاشرے کو آگے بڑھانے کا بہت اہل عامل ہے ۔ 
جس معاشرے میں تشکر اور قدر دانی کی روح مردہ ہو اس میں خدمت کے لئے لگاوٴ اور گرم جوشی بہت کم ہوتی ہے ۔ اس کے بر عکس جس معاشرے میں لوگوں کی زحمتوں اور خدمتوں کی زیادہ قدر دانی کی جاتی ہو وہاں نشاط و مسرت زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے اور ایسی قومیں زیادہ ترقی کرتی ہیں ۔
اسی حقیقت کی طرف توجہ کے سبب ہمارے ہاں گزشتہ بزرگوں کی زحمتوں کی قدر دانی کے اظہا ر کے لئے ان کے سوسالہ ، ہزار سالہ روز ولادت وغیرہ کے موقع پر اور دیگر مناسب مواقع پر پر گرام منعقد کئے جاتے ہیں اور ان کی خدمات کے تشکر اور سپاس گزاری سے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ 
مثلاً ہمارے ملک میں بر پا ہونے والے اسلامی انقلاب کو جو اڑھائی ہزارسالہ تاریک دور کا اختتام ہے او رایک دورِ نو کا آغاز ہے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال او رہر ماہ بلکہ ہر روز شہدائے انقلاب کی یاد تازہ کی جاتی ہے ، انہیں ہدیہٴ عقیدت وسلام پیش کیا جاتا ہے ۔ 
ان تمام لوگوں کا احترام کیا جاتا ہے جو ان کی طرف منسوب ہے اور ان کی خدمات کو سرہاجاتا ہے تو یہ امر سبب بنتا ہے کہ دوسروں میں فدا کاری اور قربانی کا عشق پیدا ہو او رلوگوں میں فدا کاری کا سطح بلند تر ہو اور قرآن کی تعبیر کے مطابق اس نعمت کا تشکر اس میں اضافے کا باعث ہو او ر ایک شہید کے خون سے ہزاروں شہداء پیدا ہو اور ”لازیدنکم “ زندہ مصداق بن جائیں ۔