Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۶۔ صبرِ جمیل کیا ہے؟

										
																									
								

Ayat No : 15-18

: يوسف

فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَنْ يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۱۵وَجَاءُوا أَبَاهُمْ عِشَاءً يَبْكُونَ ۱۶قَالُوا يَا أَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ ۖ وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ ۱۷وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ۱۸

Translation

اس کے بعد جب وہ سب یوسف کو لے گئے اور یہ طے کرلیا کہ انہیں اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے یوسف کی طرف وحی کردی کہ عنقریب تم ان کو اس سازش سے باخبر کرو گے اور انہیں خیال بھی نہ ہوگا. اور وہ لوگ رات کے وقت باپ کے پاس روتے پیٹے آئے. کہنے لگے بابا ہم دوڑ لگانے چلے گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو ایک بھیڑیا آکر انہیں کھاگیا اور آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم کتنے ہی سچے کیوں نہ ہوں. اور یوسف کے کرتے پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے -یعقوب نے کہا کہ یہ بات صرف تمہارے دل نے گڑھی ہے لہذا میرا راستہ صبر جمیل کا ہے اور اللہ تمہارے بیان کے مقابلہ میں میرا مددگارہے.

Tafseer

									سخت حوادث اور سنگین طوفانوں کے مقابلے میں پامردی وشکیبائی انسان کی روحانی عظمت اوربلند شخصیت کی نشانی ہے، ایسی عظمت کہ جس میں عظیم حوادث سما جاتے ہیں لیکن انسان ڈگمگاتا اور لرزتا نہیں ۔
ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا چھوٹے سے تالاب کے پانی کو ہلا دہتا ہے لیکن بحرِ اوقیانوس جیسے بڑے سمندروں میں بڑے بڑے طوفان آرام سے سما جاتے ہیں اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
بعض اوقات انسان ظاہراً پامردی وشکیبائی دکھاتا ہے لیکن بعد میں چُبھنے والی باتیں کرتا ہے کہ جو ناشکری اور عدمِ برداشت کی نشانی ہے، اس طرح وہ خود اپنے صبر وتحمل کا چہرہ بدنما کردیتا ہے لیکن با ایمان، قوی الارادی اور عالی ظرف وہ لوگ ہیں کہ ایسے حوادث میں جن کا پیمانہ صبر لبریز نہیں ہوتا اور ان کی زبان پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو کہ ناشکری، کفران، بے تابی اور جزع وفزع کی مظہر ہو، ان کا صبر” صبرِ زیبا“ اور ”صبرِ جمیل “ ہے ۔
اس وقت یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس سورہ کی دوسری آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے اس قدر گریہ اور غم کیا کی ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی، کیا یہ بات صبرِ جمیل کے منافی نہیں؟
اس سوال کا جواب ایک جملے میں دیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ مردانِ خدا کا دل احساسات اور عواطف کا مرکزہوتا ہے، مقامِ تعجب نہیں کہ بیٹے کے فراق میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑے، یہ ایک حساس مسئلہ ہے، اہم یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ضبط رکھیں یعنی کوئی بات اور کوئی حرکت رضائے الٰہی کے خلاف نہ کریں، اسلامی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر آنسو بہا رہے تھے تو اتفاقاً یہی اعتراض آپ پر کیا گیا کہ آپ ہمیں رونے سے منع کرتے ہیں لیکن آپ خود آنسو بہاتے ہیں تو پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
آنکھیں روتی ہیں اور دل غم زدہ ہوتا ہے لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کرتے جو خدا کو ناراض کردے ۔
حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
تدمع العین ویحزن القلب ولانقول مایسخط الرب۔
ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
لیس ھٰذا بکاء ان ھٰذا رحمة
یہ(بے تابی کا)گریہ نہیں ہے یہ تو(جذبات کا اظہار اور) رحمت ہے ۔(1)
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے سینے میں دل ہے پتھر نہیں اور فطری امر ہے کہ جن معاملات کا تعلق دل کے جذبات سے ہو ان پر وہ ردِّ عمل تو کرتا ہے اور اس کا سادہ ترین اظہار آنکھوں سے اشک رواں ہونا ہے، یہ عیب نہیں ہے بلکہ یہ تو حسن ہے، عیب یہ ہے کہ انسان ایسی بات کرے جس سے خدا غضب ناک ہو۔

 

۱۹ وَجَائَتْ سَیَّارَةٌ فَاٴَرْسَلُوا وَارِدَھُمْ فَاٴَدْلَی دَلْوَہُ قَالَ یَابُشْریٰ ھٰذَا غُلَامٌ وَاٴَسَرُّوہُ بِضَاعَةً وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَعْمَلُونَ ۔
۲۰ وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاھِمَ مَعْدُودَةٍ وَکَانُوا فِیہِ مِنَ الزَّاھِدِینَ۔

ترجمہ
۱۹۔اور قافلہ آپہنچا(انہوں نے) پانی پر مامور( شخص کو پانی کی تلاش) کو بھیجا، اُس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا اور وہ پکارا: خوشخبری ہو، یہ لڑکا ہے

( خوبصورت اور قابلِ محبت)انہوں نے اسے ایک سرمایہ سمجھتے ہوئے دوسروں سے مخفی رکھا اور جو کچھ وہ انجام دیتے تھے خدا اس سے آگاہ ہے ۔
۲۰۔اور انہوں نے اسے چند درہموں کی معمولی قیمت پر بیچ دیا اور (اسے بیچتے ہوئے) وہ اس کے بارے میں بے اعتناء تھے( کیوں کہ وہ درتے تھے کہ کہیں ان کا راز فاش نہ ہوجائے)

 

1۔ بحار، طبع جدید،ج ۲۲،ص ۱۵۷،و ۱۵۱۔