دو قابل تووجہ نکات
إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّىٰ إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۲۴وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَىٰ دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۲۵
زندگانی دنیا کی مثال صرف اس بارش کی ہے جسے ہم نے آسمان سے نازل کیا پھر اس سے مل کر زمین سے وہ نباتات برآمد ہوئیں جن کو انسان اورجانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے سبزہ زار سے اپنے کو آراستہ کرلیا اور مالکوں نے خیال کرنا شروع کردیا کہ اب ہم اس زمین کے صاحب هاختیار ہیں تو اچانک ہمارا حکم رات یا دن کے وقت آگیا اور ہم نے اسے بالکل کٹا ہوا کھیت بنادیا گویا اس میں کل کچھ تھا ہی نہیں -ہم اسی طرح اپنی آیتوں کو مفصل طریقہ سے بیان کرتے ہیں اس قوم کے لئے جو صاحبِ فکر و نظر ہے. اللہ ہر ایک کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے.
۱۔دنیا کی ناپائیداری کے لئے مثال :قرآن ایک انسان ساز اور تربیت کرنے والی کتاب ہے لہٰذا بہت سے مواقع پر حقائق ِ عقلی کو واضح کرنے کے لئے اس میں پیش کیا گئی ہے ۔بعض اوقات ایسے امور جو کوئی سال طویل ہوتے ہیں انھیں بھی ایک زود گزر اور قابل ِ غور منظر کے طور پر مجسم کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔
ایک انسان یا ایک نسل کی بھر پور زندگی کی تاریخ کہ جو کبھی ایک سو سال پر مشتمل ہوتی ہے کا مطالعہ عام افراد کے لئے کوئی آسان کام نہیں لیکن جب بہت سے نباتات کی زندگی کہ جو چند ماہ میں ختم ہو جاتی ہے ( پیدائش ، نشوونما ، خوبصورتی اور پھر نابودی )کا منظر اس کے سامنے پیش کردیا جائے تو وہ بہت بڑی سہولت سے اپنی زندگی کی کیفیت اس صاف و شفاف آئینہ میں دیکھ سکتا ہے ۔
اس منظر کو ٹھیک طرح سے اپنی آنکھوں کے سامنے لائیے کہ ایک باغ ہے جو درختوں ، سبزہ زاروں سے بھر اپڑا ہے ۔ سب کے سب درخت پھل دار ہیں ۔
باغ میں ہر طرف زندگی مچل رہی ہے مگر کسی تاریک رات میں یا روز روشن میں اچانک سیاہ بادل آسمان پر امنڈ آتے ہیں ۔باد ل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے طوفان موسلادھار بارش اور زبر دست ژالہ باری شروع ہو جاتی ہے ۔باغ تباہ و بر باد ہو جاتا ہے ۔
دوسرے روز جب باغ میں آتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ درخت ٹوٹے پڑے ہیں ۔سبزہ زار ویران اور پژمردہ ہو چکے ہیں اور ہر چیز برباد ہو کر زمین پر پڑی ہے ،ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ وہی سر سبز اور آباد باغ ہے جو کل ہر ابھرا او ر کھلا ہواتھا۔
جی ہاں انسان کی زندگی کا بھی یہی ماجرا ہے خصوصاً ہمارے زمانے میں کہ کبھی ایک زلزلہ یا چند گھنٹوں کی ایک جنگ یا ایک آباد اور خوش و خرم شہر کو اس طرح سے بر باد اور ویران کردیتی ہے کہ اس میں ایک ویرانے کے اور کچھ ٹکڑے جسموں کے کچھ باقی نہیں رہتا۔
وہ لوگ کس قدر غافل ہیں جنہوں نے ایسی ناپائیدار زندگی سے دل لگایا ہے ۔
۲۔”اختلط بہ نبات الارض“ کامفہوم :اس جملے میں توجہ کرنی چاہئیے کہ اختلاط اصل میں ،جیسا کہ راغب نے کہا ہے دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو جمع کرنا ،چاہے وہ مانع ہوں یا ٹھوس ۔ ” امتزاج“ کی نسبت ” اختلاط“ عام ہے ( کیونکہ امتزاج عموماً مایعات میں ہوتا ہے ) لہٰذا جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ بارش کے ذریعے ہر طرح کے نباتات ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں وہ نباتات جو انسان کے کام آتے ہیں ۔۱
یہ جملہ ضمنی طور پر اس حقیقت پر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ خدا بارش کے پانی سے جو ایک ہی طرح کا ہوتا ہے ،انواع و قسام کے نباتا اگاتا ہے کہ جو انسانوں اور جانوروں کی مختلف ضروریات کے لئے مختلف قسم کے غذائی مواد مہیا کرتے ہیں ۔
۲۶۔ لِلَّذِینَ اٴَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَةٌ وَلاَیَرْھَقُ وُجُوھھُمْ قَتَرٌ وَلاَذِلَّةٌ اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَنَِّ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ ۔
۲۷۔ وَالَّذِینَ کَسَبُوا السَّیِّئَاتِ جَزَاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِھا وَتَرْھَقُھمْ ذِلَّةٌ مَا لَھمْ مِنْ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ کَاٴَنَّمَا اٴُغْشِیَتْ وُجُو ھھم قِطَعًا مِنْ اللَّیْلِ مُظْلِمًا اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ۔
ترجمہ
۲۶۔جولوگ نیکی کرتے ہیں وہ اس کے لئے اچھی اور زیادہ جزا رکھتے ہیں اور تاریکی و ذلت ان کے چہروں کو نہیں ڈھانپتی ۔وہ بہشت کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔
۲۷۔ باقی رہے وہ لوگ جو گناہوں کاارتکاب کرتے ہیں وہ اس کے برابر جزا رکھتے ہیں اور ذلت و خواری ان کے چہروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کوئی چیز انھیں خدا ( کی سزا) سے نہیں بچا سکتی( ان کے چہرے اس قدر سیاہ ہیں کہ ) گویا تاریک رات کے ٹکڑوں نے ان کے چہروں کاڈھانپ رکھا ہے ۔ وہ آگ کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔
۱۔کچھ سطور بالامیں کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ”بہ“ میں ”باء“ سببیت کے معنی میں ہے لیکن بعض نے یہ احتمال ذکرکیا ہے کہ یہ ”مع“ کے معنی میں ہے یعنی پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور نباتات سے مل جاتا ہے اور انھیں رشدو نمو دیتا ہے لیکن یہ احتمال آیت کے اس حصے سے مناسبت نہیں رکھتا جس میں کہا گیا ہے ” مما یاکل الناس و الانعام “ کیونکہ اس جملے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اختلاط مختلف قسم کے نباتات کے درمیان مراد ہے نہ کہ پانی اور نباتات کا اختلاط۔ ( غور کیجئے گا )