دنیاوی زندگی کی دور نمائی
إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّىٰ إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۲۴وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَىٰ دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۲۵
زندگانی دنیا کی مثال صرف اس بارش کی ہے جسے ہم نے آسمان سے نازل کیا پھر اس سے مل کر زمین سے وہ نباتات برآمد ہوئیں جن کو انسان اورجانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے سبزہ زار سے اپنے کو آراستہ کرلیا اور مالکوں نے خیال کرنا شروع کردیا کہ اب ہم اس زمین کے صاحب هاختیار ہیں تو اچانک ہمارا حکم رات یا دن کے وقت آگیا اور ہم نے اسے بالکل کٹا ہوا کھیت بنادیا گویا اس میں کل کچھ تھا ہی نہیں -ہم اسی طرح اپنی آیتوں کو مفصل طریقہ سے بیان کرتے ہیں اس قوم کے لئے جو صاحبِ فکر و نظر ہے. اللہ ہر ایک کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے.
گزشتہ آیات میں دنیاوی زندگی کی ناپائیداری کی طرف اشارہ ہواہے زیر نظر آیت میں اس حقیقت کو ایک عمدہ مثال کے ذریعے بیان کیا گیا ہے تاکہ غرور اور غفلت کے پردے غافل اور طغیان گروں کی نظروں کے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں ۔
ارشاد ہوتا ہے : دنیاوی زندگی کی مثال اس پانی کی طرح ہے
جسے ہم نے آسمانوں سے نازل کیا ہے (إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اٴَنْزَلْنَاہُ مِنْ السَّمَاءِ ) ۔ بارش کےیہ حیات بخش قطرہ آمادہ زمینوںپر گرتے ہیں اور ان کے ذریعے طرح طرح کے نباتات اگتے ہیں ان میں سے بعض انسانوں کے لئے مفید ہیں اور بعض جانوروں کے لئے ( فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاٴَرْضِ مِمَّا یَاٴْکُلُ النَّاسُ وَالْاٴَنْعَامُ ) ۔
یہ نباتات زندہ موجودات کے لئے غذا بھی فراہم کرتے ہیں اور علاوہ ازین سطح زمین کو بھی ڈھانپ دیتے ہیں اور اسے زینت بخشتے ہیں یہاں تک کہ زمین بہترین زیبائی حاصل کرتی ہے اور مزین ہو جاتی ہے ( حَتَّی إِذَا اٴَخَذَتْ الْاٴَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَت) ۔
اس طرح شکوفہ شاخساروں کو زینت بخشتے ہیں ، پھول کھلتے ہیں ، سبزہ زار نور آفتاب سے چمکنے لگتے ہیں ، تنے اور شاخیں ہواوٴں کے چلنے سے رقص کرنے لگتے ہیں ۔اناج کے دانے اور پھل آہستہ آہستہ نکلنے لگتے ہیں اور صحنِ دنیا میں بھر پور زندگی مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے، دل امید سے اور آنکھیں سرور سے معمور ہو جاتی ہے ،پھولوں سے بھی استفادہ کریں گے اور حیات بخش دانوں سے بھی ( وَظَنَّ اٴَھْلُھَا اٴَنَّہُمْ قَادِرُونَ عَلَیْھَا) ۔
لیکن اچانک ہمارا حکم آپہنچتا ہے ( سخت سردی، شدید ژالہ باری یا تباہ کن طوفان ان پر مسلط ہو جاتا ہے ) اور ہمیں انہیں اس طرح سے کاٹ دیتے ہیں گویا وہ اصلاً تھے ہیں نہیں ( اٴَتَاھَا اٴَمْرُنَا لَیْلًا اٴَوْ نَھَارًا فَجَعَلْنَاھَا حَصِیدًا کَاٴَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْاٴَمْسِ) ۔
”تغن“ مادہ ”غنا“ سے ، کسی جگہ قیام کرنے کے معنی میں ہے ، اسی بناء پر ” لم تغن بالامس “ کا معنی ہے ” کل وہ اس مکان میں نہ تھا “ اور یہ کنایہ کے طور پر اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اس طرح سے بالکل ختم ہو جائے کہ گویا اس کا ہر گز وجود ہی نہ تھا ۔
آیت کے آخر میں زیادہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: یوہم تفکر کرنے والوں کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں ( کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔
جوکچھ کہا جاچکا ہے وہ نائیدار ، پر فریب اور زرق و برق مادی دنیا کی واضح اور بدلتی تصویر ہے ۔اس زندگی کا مقام پائدار ہے ، نہ ثروت اور نہ ہی یہ امن و سلامتی کی جگہ ہے لہٰذا بعد والی آیت میں ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس کے مد مقابل دوسری زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا دار السلام ، صلح و سلامتی اور امن و آشتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ( وَ اللهُ یَدْعُو إِلَی دَارِ السَّلَامِ ) ۔وہ جگہ کہ جہاں مادی زندگی کے ان غارت گروں کی کشمش کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی خدا سے بے خبر ذخیرہ اندوزوں کی احمقانہ مزاحمت کا کوئی پتہ اور نہ ہی وہاں جنگ ، خونریزی ، استعمار اور استمشار ہے اور یہ تمام مفاہیم لفظ” دار السلام“ ( یعنی امن و سلامتی کا گھر ) جمع ہیں ۔
اگر دنیا کی زندگی بھی توحیدی اور آخرت والی شکل اختیار کرلے تو یہ بھی دار السلام میں تبدیل ہو جائے اور اس کی صورت ” مزرعہ بلا دیدہ و طوفان زدہ “ والی نہیں رہے گی ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیاہے : خدا جسے چاہے ( اور اہل پائے ) راہ ِ مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے کہ جو راہ ِ دار السلام ہے اور جو امن و آشتی کے مرکز تک جا پہنچتی ہے (وَیَھْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم) ۔