شان ِ نزول
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۱۰۳أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۱۰۴وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۱۰۵
پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوِٰلے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں اور انہیں دعائیں دیجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی اور خدا سب کا سننے والا اور جاننے والا ہے. کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور زکوِٰ و خیرات کو وصول کرتا ہے اور وہی بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے. اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں اور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشہادہ کی طرف پلٹا دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا.
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا آیت جنگ تبوک سے واپس رہ جانے والے تین اشخاص ہلال بن امیہ ، مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک کے بارے میں ہے ۔ کہ جن کی پشیمانی کی تشریح اور توبہ کی کیفیت اسی سورہ کی آیہ ۱۱۸ کے ذیل میں آئے گی۔
کچھ اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت بعض کفار کے بارے میں ہے جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف مختلف جنگو ںمیں عظیم شخصیتوں مثلاً سید الشہداء حضرت حمزہ اور ایسے دیگر افراد کو شہید کیا تھا ۔ اس کے بعد وہ شرک سے دستبردار ہو گئے اور دین اسلام کی طرف آگئے۔
تفسیر
اس آیت میں ایک اور گنہ گار کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ان لوگوں کا انجام صحیح طور پر واضح نہیں ہے نہ تووہ ایسے ہیں کہ رحمت الہٰی کے مستحق سمجھے جائیں اورنہ ایسے ہیں کہ ان کی بخشش سے بالکل مایوس ہو جا ئے لہٰذا قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے : ایک اور گروہ کا معاملہ فرمانِ خد اپر موقوف ہے یا وہ انھیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرلے گا (وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِاٴَمْرِ اللهِ إِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْھِمْ )۔
” مرجون “ کا مادہ ” ارجاء“ سے ہے ۔ یہ تاخیر اور توقف کے معنی میں ہے ۔اصل میں یہ ”رجاء “ سے لیا گیا ہے ۔جس کا معنی امید ہے ۔اس لحاظ سے کہ بعض اوقات انسان کسی کام کو کسی ہدف کے ماتحت تاخیر میں ڈال دیتا ہے یہ لفظ تاخیر کے معنی میں آیا ہے لیکن ایسی تاخیر جس میں امید شامل ہو ۔
حقیقت میں یہ لوگ نہ تو ایسے پا ک مضبوط ایمان اور نیک اعمال کے مالک ہیں کہ انھیں سعادت مند اور اہل نجات سمجھا جاسکے اور نہ ہی ایسے آلودہ اور منحرف ہیں کہ ان کے رخ پر سرخ خط کھینچ دی اجائے اور انھیں بد بخت سمجھ لیا جائے یہاں تک کہ ( ان کے روحانی مقام و مرتبہ کے مطابق ) لطف ِ الہٰی ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا ۔
آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے کہ خدا ان کے ساتھ حساب کتاب کے بغیر کو ئی سلوک نہیں کرے گا ۔ بلکہ علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی ان سے سلوک کرے گا کیونکہ ”خد اعلیم وحکیم ہے “(وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔