Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا ۔

										
																									
								

Ayat No : 103-105

: التوبة

خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۱۰۳أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۱۰۴وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۱۰۵

Translation

پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوِٰلے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں اور انہیں دعائیں دیجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی اور خدا سب کا سننے والا اور جاننے والا ہے. کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور زکوِٰ و خیرات کو وصول کرتا ہے اور وہی بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے. اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں اور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشہادہ کی طرف پلٹا دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا.

Tafseer

									مخفی تمام اعمال کے بارے میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ ان تمام سے آگاہی معمول کے طریق سے ممکن نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کے کا آخری حصہ تمام اعمال کی جزا کے بارے میں ہے ۔ اس لئے آغاز بھی خدا ، رسول او رمومنین کی تمام اعمال سے آگاہی سے متعلق ہے ۔ ایک آگاہی کا مرحلہ ہے اور دوسرا جزاء کا اور بات دونوں میں ایک ہی موضوع سے متعلق ہے ۔ 
تیسرا یہ کہ ” مومنین “ کا ذکر اسی صورت میں صحیح ہے کہ مراد سب اعمال ہوں اور غیر معمولی طریقوں سے معلوم ہوں ۔ ورنہ جو اعمال آشکار اور واضح ہیں وہ تومومنین اور غیرمومنین سب دیکھتے ہیں ۔ 
یہاں سے ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں مومنین سے مراد سب صاحب ایمان افراد نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ مخصوص افراد ہیں جو حکم خدا سے اسرار غیبی سے آگاہ ہیں یعنی رسول اللہ کے حقیقی جا نشین ۔ 
ایک اہم نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ جس طرح پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اعمال کے پیش ہونے کا مسئلہ اس کے معتقدین کے لئے بہت زیادہ تربیتی اثر رکھتا ہے کیونکہ جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ خدا جوکہ ہر جگہ میرے ساتھ ہے اس کے علاوہ پیغمبر اکرم اور ہمارے محبوب پیشوا ہر روز یا ہر ہفتے میرے ہر عمل سے چاہے وہ اچھا ہو یا برا آگاہ ہو جاتے ہیں تو بلا شبہ ہم زیادہ احتیاط کریں گے اور اپنے اعمال کی طرف متوجہ رہیں گے بالکل اسی طرح جیسے کسی ادارے میں کام کرنے والوں کو معلوم ہو کہ ہر روز ہر ہفتے ان کے تمام پوری تفصیل سے اعلیٰ افسروں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور وہ ان سب سے باخبر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے کاموں کو بڑی توجہ سے انجام دیں گے ۔ 
۲۔ کیا روئیت یہاں دیکھنے کے معنی میں ہے ؟ بعض مفسرین میں مشہور ہے کہ ” فسیری اللہ عملکم “ میں روئیت معرفت کے معنی میں ہے نہ کہ علم کے معنی میں کیونکہ اس کا ایک سے زیادہ مفعول نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر روئیت علم کے معنی میں ہوتو اس کے دو مفعول چاہئیے ہو ں گے ۔ 
لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ روئیت کو اس کے اصل معنی میں لیا جائے یعنی محسوسات کا مشاہدہ نہ کہ علم یا معرفت ۔ یہ بات خدا کے بارے میں تو جو ہر جگہ حاضر و ناضر ہے اور تمام محسوسات پر احاطہ رکھتا ہے قابل، بحث نہیں لیکن پیغمبر اور آئمہ (ع) کے متعلق بھی کوئی مانع نہیں کہ وہ خود اعمال کو دیکھیں کہ جب ان کے سامنے پیش ہو ں کوینکہ ہم جانتے ہیں کہ انسانی امعلا فانی نہیں ہیں بلکہ قیامت تک باقی رہیں گے ۔ 
۳۔ عنقریب خدا اعمال دیکھے گا “ سے کیا مراد ہے : اس میں شک نہیں کہ خدا اعمال سے پہلے ہیں ان سے آگاہ ہے اور یہ جو آیت میں ”فسیری اللہ “ یعنی عنقریب تمہارے اعمال دیکھے گا “ آیا ہے ، یہ اعمال کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے وجو د اور تحقیق کے بعد ہو گی ۔

 

۱۰۶۔وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِاٴَمْرِ اللهِ إِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْھِمْ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔
ترجمہ 
۱۰۶۔ ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا ۔ وہ تو انھیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرلے گا (جس کے وہ لائق ہو ں گے) خدا دانا اور حکیم ہے ۔

 

1 اصول کافی جلد ۱ ص ۱۷۱ ( باب عرض الاعمال )
2۔ تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۵۸۔
3۔ اصول کافی جلد ۱ ص ۱۷۱ ( باب عرض الاعمال )۔