Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ایک اور سازش کا جواب

										
																									
								

Ayat No : 35-36

: الاعراف

يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۳۵وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۳۶

Translation

اے اولاد آدم جب بھی تم میں سے ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آئیں گے اور ہماری آیتوں کو بیان کریں گے تو جو بھی تقوی ٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا اس کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوگا. اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور اکڑ گئے وہ سب جہّنمی ہیں اور اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں.

Tafseer

									جیسا کہ ہم نے سابقہ سطور میں بیان کیا کہ قرونِ آخر کے کچھ ”دین ساز“ گروہ، اپنی غلط کاریوں کیلئے راہ ہموا کرنے کے لئے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ قرآن کی کچھ آیتوں کے غلط معنی کرکے مسئلہ خاتمیت پر اپنے مدعیٰ کے مطابق استدلال کریں حالاکہ ان آیات کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
ان آیات میں ایک آیت وہ ہے جس کا ذکر ہوچکا ہے ۔ بغیر اس کے کہ آیت کا سیاق و سباق دیکھیں وہ کہتے ہیں: اس آیت میں لفظ ”یاٴتینکم“ جو فعل مضارع ہے اور جس کے معنی ہیں ”تمھارے پاس آئے گا“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آئندہ بھی کچھ پیغمبر آسکتے ہیں ان کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے ۔ 
لیکن اگر ہم تھوڑا پلٹ کر دیکھیں اور ان آیات پر نظر کریں جن میں خلقتِ آدم، ان کی بہشت میں سکونت، پھر بہشت سے ان کا اور ان کی زوجہ کا نکالا جانا بیان کیا گیا ہے، اور اس کا بھی لحاظ کریں کہ ان آیات میں مسلمان مخاطب نہیں ہیں بلکہ یہاں تمام انسانی معاشرے سے خطاب ہے، تو اس شبہ کا جواب واضح ہوجائے گا، کیونکہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ تمام فرزندان آدم کے لئے بہت رسول آئے جن میں سے بہت سوں کا نام قرآن کریم میں لیا گیا ہے اور بہتوں کا نام کتب تاریخ میں ثبت ہے ۔
لیکن ان نیا مذہب گھڑنے والے افراد نے لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے پچھلی آیات کو نظر انداز کردیا ہے اور اس آیت کا مخاطب صف مسلمانوں کو قرار دیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ برآمد کیا ہے کہ دوسرے رسولوں کے آنے کا ابھی امکان پایا جاتا ہے ۔
اس طرح مغالطے سابقاً بھی بہت ہوئے ہیں خصوصاً ان لوگوں کے درمیان جو کسی آیت یا اس کے ایک حصّہ کو بقیّہ سے جدا کرکے من مانے معنی نکالتے ہیں، اور اس سے قبل و بعد سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی چاہے مفہوم برعکس ہوجائے ۔

۳۷ فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اٴَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ اٴُوْلٰئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیبُھُمْ مِنَ الْکِتَابِ حَتَّی إِذَا جَائَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ قَالُوا اٴَیْنَ مَا کُنتُمْ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَھِدُوا عَلیٰ اٴَنْفُسِھِمْ اٴَنَّھُمْ کَانُوا کَافِرِینَ-
ترجمہ
۳۷۔ ان لوگوں سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو خدا پر بہتان باندھیں، یا اس کی آیتوں کی تکذیب کریں! یہ لوگ جو کچھ ان کے مقدر میں ہے (اس جہاں کی نعمتوں میں سے) اس سے اپنا نصیبہ پائیں گے، یہاں تک کہ ہمارے فرستادہ (قبض ارواح کے فرشتے) انھیں لینے آ جائیں گے اور جانوں کو قبض کریں گے اور ان سے پوچھیں گے: کہاں ہیں تمھارے وہ معبود جنہیں تم خدا کے علاوہ پکارتے تھے؟ (وہ آج تمہاری مدد کو کیوں نہیں آتے؟) وہ کہیں گے کہ وہ (سب آج) گم ہوگئے (اور ہم سے دور ہوگئے) اور وہ اپنے بر خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔