فرزندان آدم کیلئے ایک اور فرمان
يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۳۵وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۳۶
اے اولاد آدم جب بھی تم میں سے ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آئیں گے اور ہماری آیتوں کو بیان کریں گے تو جو بھی تقوی ٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا اس کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوگا. اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور اکڑ گئے وہ سب جہّنمی ہیں اور اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں.
باردیگر خداوند عالم فرزندان آدم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے اولاد آدم! اگر تم میں سے کچھ رسول (ہماری طرف سے) تمھارے پاس آئیں، جو ہماری آیتوں کو تمھارے سامنے پیش کریں تو ان کی پیروی کرنا، کیونکہ جو لوگ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں انھیں الٰہی عتاب و سزا کا نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم و اندوہ ہوگا (یَابَنِی آدَمَ إِمَّا یَاٴْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی فَمَنْ اتَّقَی وَاٴَصْلَحَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُونَ) ۔
اس کے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ اصحاب دوزخ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوا عَنْھَا اٴُوْلٰئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ) ۔