Tafseer e Namoona

Topic

											

									  زمین پر انسانی خلافت

										
																									
								

Ayat No : 165

: الانعام

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۶۵

Translation

وہی وہ خدا ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور بعض کے درجات کو بعض سے بلند کیا تاکہ تمہیں اپنے دئیے ہوئے سے آزمائے -تمہارا پروردگار بہت جلد حساب کرنے والا ہے اور وہ بیشک بہت بخشنے والا مہربان ہے.

Tafseer

									ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے کئی بار انسان کو زمین پر بطور اپنے ”خلیفہ“ اور ”نمائندہ“ کے تعارف کروایا ۔ اس تعبیر کے ذریعے جہاں ضمنی طور پر مقام کو واضح کرنا مقصود ہے وہاں اس حقیقت کا بھی اظہار مقصود ہے کہ اموال و ثروتیں ۔ استعدادیں اور وہ تمام انعامات اور عطیے جو خدانے انسان کو دیئے ہیں ان سب کا مالک اصلی خدا ہے اور انسان ان سب پر اللہ کی طرف سے صرف نمائندہ، مجاز اور اجازت یافتہ ہے اور یہ بات بدیہی و بالکل واضح ہے کہ کوئی نمائندہ اپنے تصرفات میں مستقل نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس کے تمام تصرفات مالکِ اصلی کی اجازت کے دائرے اور حدود میں ہونا چاہیں ۔
یہیں سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مثلاً مسئلہ مالکیت اشیاء میں اسلام نے ”کیٹپل ازم“ (سرمایہ داری)اور ”کمیونزم“ دونوں راستوں سے دوری اختیار کی ہے کیونکہ اوّل الذکرنے مالکیت کو فرد کے ساتھ مخصوص کردیا ہے جبکہ دوسرے نے تمام مالکیت کو اجتماع کے ساتھ وابستہ کردیا ہے لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ مالکیت نہ تو کسی فرد کی ہے اور نہ اجتماع کی، بلکہ فی الحقیقت ہر چیز کا مالک اصلی خدا ہے ۔
تمام انسان اس کے نمائندے اور وکیل ہیں اور اسی دلیل کی بنا پر اسلام انسان کی آمدنی اور خرچ دونوں کے طریقوں اور کیفیات میں نظارت و نگہبانی کا فرض ادا کرتا ہے اور دونوں کے لئے اس نے حدود و شرایط مقرر کردیس ہیں جن کی بناء پر اقتصاد اسلامی کو اس نے بطور ایک خاص نظام کے تمام دیگر مکاتب فکر سے الگ کرکے نمایاں کردیا ہے ۔